تہران – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ کے ایک اعلیٰ سطحی وفد نے سابق ایرانی رہبرانقلاب اسلامی علی خامنہ ای شہید کی سرکاری آخری رسومات میں شرکت کی، جو رواں برس 28 فروری کو امریکہ اور ’اسرائیل‘ کے مشترکہ فضائی حملے میں شہید ہو گئے تھے۔
ایران کے دارالحکومت تہران میں سابق رہنماء کی سرکاری آخری رسومات کا آغاز ہوا۔
تہران کے مصلیٰ امام خمینی میں منعقد ہونے والی ان سرکاری رسومات میں ایرانی حکام، عوام کی بڑی تعداد کے ساتھ ساتھ کئی ممالک کے نمائندے بھی شریک ہیں۔
رسومات کا آغاز قرآن پاک کی تلاوت اور ایک منٹ کی خاموشی کے ساتھ ہوا۔
دن بھر جاری رہنے والی ان رسومات میں تقریباً 100 ممالک کے سربراہانِ حکومت، پارلیمان کے ارکان، وزرائے خارجہ اور خصوصی ایلچی شرکت کر رہے ہیں۔
عوام کے لیے آخری رسومات کا سلسلہ کل بروز ہفتہ شروع ہوگا، جہاں شرکاء صبح چھ بجے سے مصلیٰ امام خمینی پہنچ کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کریں گے اور تعزیت پیش کریں گے۔ ایرانی حکام خامنہ ای کی تدفین آئندہ جمعرات، نو جولائی سنہ 2026ء کو شہر مشہد میں امام رضا علیہ السلام کے روضے میں کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
ایرانی خبر رساں ادارے کے مطابق “سید شہداء ایران” کو الوداع کہنے کا پہلا پروگرام گذشتہ روز بروز جمعرات نمازِ مغرب و عشاء کے بعد منعقد کیا گیا، جس میں “دوسری اور تیسری مسلط کردہ جنگوں کے شہداء” کے اہل خانہ اور “مقامِ قائدِ اعلیٰ کے دفتر اور ولیِ امر کے محافظ دستے کے شہداء” کے لواحقین نے شرکت کی۔
