غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی مزاحمتی تنظیموں نے غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے ایک ہزار دن مکمل ہونے کے موقع پر مزاحمت کو تیز کرنے اور فلسطینی صفوں میں اتحاد کی اپیل کی ہے۔
اپنے بیان میں مزاحمتی تنظیموں نے جاری صورتحال کو ایک ایسی “مسلسل جنگ” قرار دیا ہے جس نے غزہ کی پٹی میں بڑے پیمانے پر تباہی اور سنگین انسانی بحران پیدا کر دیا ہے۔
تنظیموں نے نشاندہی کی کہ اس جنگ میں قابض دشمن نے اپنی عسکری طاقت کا بھرپور استعمال کیا، جبکہ اس کے باوجود وہ جنگ کے اعلانیہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے، جن میں آبادی کو بے گھر کرنے یا زمین پر نئی حقیقتیں مسلط کرنے کی کوششیں شامل تھیں۔
مزاحمتی تنظیموں نے اس بات کا اعادہ کیا کہ اسرائیل کے ساتھ محاذ آرائی سنہ 1948ء سے جاری ہے، اور موجودہ عسکری کارروائیاں غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں جاری یہودی آباد کاری اور محاصرے جیسی اسرائیلی پالیسیوں کا ردعمل ہیں۔
بیان میں “فلسطینی عوام کے حقِ مزاحمت” پر زور دیا گیا اور مغربی کنارے، مقبوضہ بیت المقدس اور سنہ 1948ء کے علاقوں میں، بیان کے مطابق، الحاق اور توسیع پسندانہ آباد کاری کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے محاذ آرائی تیز کرنے کی دعوت دی گئی۔
مزاحمتی تنظیموں نے غزہ کی پٹی پر کسی بھی قسم کی “بیرونی سرپرستی” کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کا داخلی معاملہ ہے۔ انہوں نے فوری طور پر غزہ کے امور چلانے کے لیے ایک ٹیکنوکریٹ کمیٹی تشکیل دینے، نیز فلسطینی صفوں کو متحد کرنے اور قومی اداروں کی تعمیر نو کے لیے ایک جامع قومی مذاکرات شروع کرنے کی اپیل کی۔
بیان میں عرب اور اسلامی ممالک سے بھی مطالبہ کیا گیا کہ وہ جنگ روکنے کے لیے دباؤ ڈالیں، فلسطینی نصب العین کے لیے عوامی اور سرکاری سطح پر حمایت کو فعال کریں، اور قابض دشمن کے ساتھ ہر قسم کے تعلقات کی بحالی کو مسترد کریں۔
مزاحمتی تنظیموں نے اپنے بیان کا اختتام غزہ، مغربی کنارے اور اندرونِ فلسطین کے شہداء کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کیا اور اس عزم کا اظہار کیا کہ ان کی قربانیاں آنے والی نسلوں کے لیے “حوصلے اور تحریک کا ذریعہ” بنی رہیں گی۔
