غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کی فوج نے جمعرات کے روز غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کی خلاف ورزیاں جاری رکھتے ہوئے پٹی کے مختلف علاقوں میں مسماری، گولہ باری اور فائرنگ کا سلسلہ جاری رکھا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ رفح کے رہائشی ہشام خالد حمد زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔ وہ ایک سال قبل ہونے والی بمباری میں زخمی ہوئے تھے۔
قابض فوج کی توپ خانے نے پٹی کے مختلف علاقوں کو نشانہ بنایا، جن میں غزہ شہر کے مشرقی جانب واقع حی التفاح اور السنافور چوک کے گردونواح کے ساتھ ساتھ پٹی کے وسط میں واقع البریج کیمپ کے شمالی اور مشرقی حصے شامل ہیں۔
قابض فوج نے خان یونس کے مشرقی حصے میں مسماری کی کارروائی بھی انجام دی۔
قابض اسرائیل کی فوج غزہ کی پٹی میں جنگ بندی کے معاہدے کی مسلسل خلاف ورزی کر رہی ہے، جس میں بے گھر افراد کے مراکز پر فضائی اور توپ خانے سے گولہ باری شامل ہے۔ اس کے علاوہ نام نہاد ’یلو لائن‘ کے اندر مسماری اور تباہی کے آپریشن جاری ہیں، جبکہ اشیاء، امداد اور سفر کی نقل و حرکت پر پابندیاں بھی بدستور عائد ہیں۔
فلسطینی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق دس اکتوبر سنہ 2025ء سے جنگ بندی کے آغاز کے بعد سے شہید ہونے والوں کی تعداد 1045 تک پہنچ گئی ہے، جبکہ 3380 افراد زخمی ہوئے ہیں، اس کے علاوہ 786 لاشیں ملبے سے نکالے جانے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے ہیں۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے شروع ہونے والی جارحیت کی مجموعی تعداد تقریباً 73,058 شہداء اور 173,488 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے، جو پٹی پر جاری قابض دشمن کی جارحیت کی بھاری انسانی قیمت کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
