Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطین میں اذان پر پابندی کے مجوزہ قانون کو کنیسٹ کی ابتدائی منظوری

تل ابیب – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی کنیسٹ نے بدھ کے روز 36 کے مقابلے میں 50 ووٹوں کی اکثریت سے اذان کو محدود کرنے والے مسودہ قانون کی ابتدائی منظوری دے دی ہے۔

عبرانی اخبار ”یدیعوت احرونوت“ کے مطابق جسے ”اذان قانون“ کے نام سے جانا جاتا ہے، اس بل کا مقصد عبادت گاہوں، خاص طور پر مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال کو شور کی آلودگی کو کم کرنے کے بہانے محدود کرنا ہے۔

اس بل کو ”اسرائیل بیتینا“ پارٹی کے ارکان کی حمایت حاصل تھی، جس میں پارٹی لیڈر ایویگڈور لیبرمین اور ”شاس“ پارٹی کے ارکان شامل تھے، جس پر ”الرعام“ بلاک نے شدید غم و غصے کا اظہار کیا ہے۔

اگرچہ اس بل کو 50 ووٹوں سے ابتدائی منظوری مل گئی ہے تاہم حتمی قانون بننے کے لیے اسے تین مزید مرحلوں (تینوں پڑھائیوں) سے گزرنا اور منظوری حاصل کرنا ضروری ہے۔ ماضی میں بھی کئی بار یہ بل پیش کیا گیا ہے، جس کا مقصد دعویٰ کے مطابق مذہبی آزادی کو نقصان پہنچانا نہیں بلکہ مساجد کے قریب رہنے والوں کی زندگی کے معیار کو بہتر بنانا اور رات اور صبح سویرے شور کو کم کرنا ہے۔

اس کے برعکس عرب ارکانِ کنسیٹ، وزارت انصاف کے حکام اور حزب اختلاف کے ارکان سمیت بل کے مخالفین کا کہنا ہے کہ یہ قانون عملی طور پر عرب اور مسلم آبادی کو ہدف بناتا ہے۔ مخالفین کا کہنا ہے کہ شور کی آلودگی کے لیے پہلے سے ہی قوانین موجود ہیں اور ایک خاص قانون کی ضرورت نہیں ہے، انہوں نے خبردار کیا کہ یہ قانون مساوات اور مذہبی آزادی کے اصولوں کو مجروح کرتا ہے۔ دوسروں نے خبردار کیا کہ یہودی عبادت گاہوں کو اس قانون سے مستثنیٰ قرار دینا اسے قانونی اور عوامی نقطہ نظر سے امتیازی بناتا ہے۔

حالیہ عرصے میں عرب پارٹیوں اور حریدی دھڑوں کے درمیان اس حوالے سے ہم آہنگی دیکھنے میں آئی تھی کہ عرب ارکان ”تورات کے مطالعہ“ کے بنیادی قانون پر ووٹ نہیں دیں گے، جس کے بدلے میں حریدی ”اذان قانون“ کو روکنے میں مدد کریں گے، لیکن شاس پارٹی کی جانب سے حمایت کے بعد یہ ہم آہنگی ختم ہو گئی ہے۔

الرعام پارٹی کے سربراہ منصور عباس نے شاس پارٹی کے موقف پر تنقید کرتے ہوئے کہاکہ ”شاس پارٹی کا ایک نسل پرستانہ اور مذہب مخالف قانون کی حمایت کرنے کا فیصلہ مایوس کن اور شرمناک ہے“۔

اگر یہ قانون حتمی طور پر منظور ہو جاتا ہے تو یہ مساجد میں لاؤڈ اسپیکر کے استعمال پر سخت پابندیاں عائد کرے گا، ان کے اوقات کار کا تعین کرے گا اور مساجد میں ان کے استعمال کے لیے خصوصی لائسنس لینا لازمی قرار دے گا۔ پولیس کو یہ وسیع اختیارات حاصل ہوں گے کہ وہ لاؤڈ اسپیکر بند کروا سکے اور خلاف ورزی کی صورت میں انہیں ضبط کر سکے۔

مذہبی جنگ کا اعلان

ماہرین قانون اور مذہبی حلقوں نے اس منصوبے کو ایک ایسی مذہبی جنگ کا اعلان قرار دیا ہے جو فلسطینی شناخت اور عبادت کی آزادی کو نشانہ بناتی ہے۔ وکیل خالد زبارقہ نے کہا کہ اسرائیل اذان کو اپنی یہودیت نواز پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے، جبکہ اوقاف کے متولیوں نے اسے ایک نسل پرستانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے معاشرتی تانے بانے کو شدید نقصان پہنچے گا۔

یہ مسودہ قانون 2011ء سے جاری ان اسرائیلی کوششوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد شور کی آلودگی کے بہانے اذان پر پابندی لگانا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan