Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس نے اذان محدود کرنے کے بل کو مذہبی آزادی اور فلسطینی شناخت پر حملہ قرار دے دیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ”حماس“ نے کہا ہے کہ اسرائیلی کنسیٹ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس اور اندرون فلسطین میں مساجد میں اذان پر پابندی اور اسے محدود کرنے کے مسودہ قانون کی ابتدائی منظوری، قابض اسرائیل کی اسلامی مقدسات اور فلسطینی شناخت کے خلاف جنگ کا ایک خطرناک مرحلہ ہے۔

ایک پریس بیان میں حماس نے کہا کہ یہ مسودہ قانون عبادت کی آزادی پر حملہ اور ان بین الاقوامی میثاقوں اور اصولوں کی خلاف ورزی ہے جو مذہبی رسومات کی ادائیگی اور عبادت گاہوں کے تحفظ کی ضمانت دیتے ہیں۔ تحریک نے زور دیا کہ یہ اقدام اسرائیل کی ایک ایسی پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد اسلامی مقدسات کو نشانہ بنانا اور فلسطین میں عرب اور اسلامی شناخت کو مٹانا ہے۔

حماس نے مزید کہا کہ اسرائیل کی جانب سے ہر عربی اور اسلامی چیز کو ہدف بنانے کے لیے قانون سازی کا اصرار اس کی پالیسیوں میں انتہا پسندی کے بڑھتے ہوئے رجحان کو ظاہر کرتا ہے۔ یہ اقدام مسجد اقصیٰ اور دیگر تمام اسلامی مقدسات کے خلاف یہودیت نواز (Judaization) منصوبوں کے تسلسل کا ثبوت ہے، جس کا مقصد عبادت کی آزادی کو سلب کرنا اور مسجد میں قیام و رباط کے حق کو متاثر کرنا ہے۔

جماعت نے اس بات پر زور دیا کہ اذان اسلام کا ایک لازوال شعار ہے اور فلسطین اور بیت المقدس کی شناخت کا بنیادی حصہ ہے۔ حماس نے واضح کیا کہ قابض اسرائیل کے قوانین اور ہتھکنڈے مساجد کی آواز کو خاموش کرنے یا زمین کی شناخت اور تاریخ کو بدلنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوں گے۔

”حماس“ نے فلسطینی عوام، عرب اور اسلامی دنیا، اور مذہبی و انسانی حقوق کی تنظیموں سے اپیل کی کہ وہ مسجد اقصیٰ اور دیگر مقدس مقامات کے دفاع کے لیے متحد ہو کر آواز اٹھائیں۔ انہوں نے فلسطینیوں پر زور دیا کہ وہ القدس میں اپنی موجودگی کو مضبوط بنائیں، عبادت کی آزادی پر حملوں کا مقابلہ کریں، اور بین الاقوامی فورمز پر اسرائیل کی پالیسیوں اور خلاف ورزیوں کو بے نقاب کریں۔

مذہبی جنگ کا اعلان

ماہرین قانون اور مذہبی حلقوں نے اس منصوبے کو ایک ایسی مذہبی جنگ کا اعلان قرار دیا ہے جو فلسطینی شناخت اور عبادت کی آزادی کو نشانہ بناتی ہے۔ وکیل خالد زبارقہ نے کہا کہ اسرائیل اذان کو اپنی یہودیت نواز پالیسیوں کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے، جبکہ اوقاف کے متولیوں نے اسے ایک نسل پرستانہ فیصلہ قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ اس سے معاشرتی تانے بانے کو شدید نقصان پہنچے گا۔

یہ مسودہ قانون 2011ء سے جاری ان اسرائیلی کوششوں کا تسلسل ہے جن کا مقصد شور کی آلودگی کے بہانے اذان پر پابندی لگانا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan