Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پی ایل ایف نیوز

واشنگٹن معاہدہ، لبنانی عوام پر شب خون

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) لبنانی حکومت کی جانب سے واشنگٹن میں اسرائیل کے ساتھ طے پانے والا حالیہ فریم ورک معاہدہ لبنانی تاریخ کا ایک ایسا سیاہ باب ہے جس نے ملک کی خودمختاری، اس کے غیور عوام اور غاصب صیہونی فوج کے سامنے سینہ تان کر کھڑی ہونے والی مزاحمت یعنی حزب اللہ کی پیٹھ میں چھرا گھونپا ہے۔ امریکہ کی سرپرستی اور صیہونی دباؤ کے تحت کیے جانے والے اس معاہدے کے نقاط محض کاغذ کے ٹکڑے نہیں، بلکہ لبنان کو مستقل طور پر اسرائیل کے سامنے بے بس کرنے اور ملکی دفاعی نظام کو مفلوج کرنے کا ایک باقاعدہ منصوبہ ہیں۔لبنانی حکومت نے امریکہ کی سرپرستی میں غاصب صیہونی گینگ اسرائیل کے ساتھ یہ نام نہاد معاہدہ کر کے حقیقت میں لبنان کی حاکمیت اور خود مختاری کا سودا کر لیا ہے۔

لبنان کے موجودہ حکمرانوںنے ثابت کیا ہے کہ وہ اپنے ذاتی مفادات کو عزیز رکھتے ہیں ۔ان کو عوام کی عزت اور قربانیوں کی کوئی پرواہ نہیں ہے۔ لبنانی عوام، جنہوں نے دہائیوں سےغاصب صیہونی گینگ اور اس کی جارحیت کا سامنا کیا ہے اور اپنی سرزمین کے ایک ایک انچ کے لیے قربانیاں دی ہیں، آج بیروت کے اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے حکمرانوں سے یہ سوال کرنے میں حق بجانب ہیں کہ یہ معاہدہ کس کے مفاد کے لیے کیا گیا ہے؟
لبنان کے عوام کا یہ سوال سو فیصد حق ہے کہ حکمران عوام کو بتائیں کہ آخر انہوںنے لبنان کی حاکمیت اور خود مختاری کا سودا کیوں کیا ؟ ان کو یہ جواب دینا چاہئیے کہ آخر کون سی مجبوریاں ہے جس نے لبنان کے ہزاروں بے گناہ شہریوں کے خون پر سودے بازی کرنے کو مجبور کیا؟

گذشتہ دنوں واشنگٹن سے سامنے آنے والے فریم ورک کے مطابق، لبنانی حکومت نے جن شرائط پر دستخط کیے ہیں وہ براہِ راست لبنانی حاکمیت پر ضرب ہیں۔ ان شرائط میں سب سے پہلی شرط یہ ہے کہ معاہدے کے تحت لبنانی فوج کو یہ ذمہ داری سونپی گئی ہے کہ وہ بیرونی (امریکہ اور بین الاقوامی برادری) کی نگرانی میں حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی تحریکوں کو مکمل طور پر غیر مسلح کرےگی۔ حالانکہ اس بارے میں لبنانی حکومت کے عہدیداروں سمیت پوری دنیا یہ بات جانتی ہے کہ لبنان کی فوج لبنان کا دفاع کرنے کے قابل نہیں ہے جبکہ حزب اللہ ہی ہے جو لبنان کا دفاع کرتی آئی ہے۔

لبنانی تاریخ میں پہلی بار سرکاری سطح پر ملکی دفاع کا حصہ بننے والی مزاحمت یعنی حزب اللہ اور دیگر مزاحمتی گروہوں کوملک کا دشمن تسلیم کیا گیا ہے۔یہاں پر یہ بات یاد رہنی چاہئیے کہ ملک کا دفاع کرنے والے دشمن کیسے ہو سکتے ہیں؟ حقیقی دشمن تو وہ لوگ ہیں جنہوںنے امریکہ اور اسرائیل جیسے قاتلوں کے ساتھ بیٹھ کر ہزاروں بے گناہوں کے خون پر سودے بازی کی اور ایک خیانت آمیز معاہدے پر دستخط کئے۔

واشنگٹن میں لبنانی حکومت نے جس معاہدہ پر دستخط کئے ہیں اس کے پسِ پردہ امریکی و اسرائیلی خطوط کے مطابق، اگر لبنانی فوج مزاحمت کو روکنے میں ناکام رہتی ہے، تو اسرائیل کو لبنان کے اندر فوجی کارروائی کا حق حاصل رہے گا، جو کہ ملکی خودمختاری کی کھلی خلاف ورزی ہے۔یعنی لبنانی حکومت نے لبنان کو اسرائیل کے حوالے کرنے کے معاہدے پر دستخط کئے ہیں ۔نہ اب کوئی حاکمیت نہ کوئی خود مختاری۔

لبنان کی موجودہ حکومت بالخصوص صدر اور وزیر اعظم کی جانب سے یہ اقدام لبنانی عوام کے جذبات کے ساتھ بدترین مذاق ہے۔ جنوبی لبنان کے باسی، جنہوں نے اسرائیل کے بدترین مظالم، فضائی حملوں اور کلسٹر بموں کا سامنا کیا، وہ یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں کہ اگر آج وہ اپنے گھروں میں محفوظ ہیں تو وہ کسی بین الاقوامی ضمانت کی وجہ سے نہیں، بلکہ حزب اللہ کی بدولت ہیں جس نے صیہونی فوج کے دانت کھٹے کئے ہیں۔

حکومت نے اس معاہدے کے ذریعے ان ہزاروں شہداء کے خون کا سودا کیا ہے جنہوں نے لبنان کی آزادی کے لیے اپنی جانیں نچھاور کیں۔ عوام کو امن کی جھوٹی امید دلا کر درحقیقت انہیں مستقل غلامی کی دلدل میں دھکیلا جا رہا ہے۔
تاریخ گواہ ہے کہ جب بھی بیروت نے واشنگٹن اور تل ابیب کی ضمانتوں پر بھروسہ کیا، لبنان کو صرف تباہی، مہاجرت اور مزید جارحیت کے سوا کچھ نہیں ملا۔ مئی ۱۹۸۳ کا نام نہاد امن معاہدہ اس کی سب سے بڑی مثال ہے جسے عوام نے مسترد کر دیا تھا۔آج بھی لبنان کے غیرت مند عوام نے حکومت کی اس خیانت کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ لبنان میں بسنے والی تمام اکائیاں سراپا احتجاج ہیں اور کوئی بھی غیرت مند لبنانی شہری اپنے ملک کا سودا کرنے کے حق میں نہیں ہے لیکن افسوس ہے لبنانی حکومت پر کہ جس نے لبنان کی عزت و حمیت کا سودا کیا ہے۔

کسی بھی خود مختار ریاست کا یہ بنیادی حق ہوتا ہے کہ وہ اپنی زمین کی حفاظت کے لیے دفاعی حکمتِ عملی وضع کرے۔ لبنان کی کمزور معاشی صورتحال اور لبنانی فوج کے محدود وسائل کسی سے ڈھکے چھپے نہیں ہیں۔ ایسے میں ملکی فوج کو اسرائیل کے سامنے کھڑا کرنے کے بجائے، اپنی ہی عوام اور مزاحمتی قوتوں کے خلاف صف آرا کرنا ایک بھیانک خانہ جنگی کو دعوت دینے کے مترادف ہے۔ایسا لگتا ہے کہ لبنان حکومت نے اپنے آپ کو امریکہ اور اسرائیل کے سامنے گروی رکھ دیا ہے۔ امریکی صدر ٹرمپ کے جھوٹے وعدوں اور دعووں پر یقین لبنانی حکومت کی ایک تاریخی غلطی ہے جو پورے لبنان کو مزید تبا ہ و برباد کر کے رکھ دے گی۔
امریکہ اور اسرائیل کا اصل ہدف لبنان میں امن قائم کرنا نہیں، بلکہ اس طاقت جسے حزب اللہ کہا جاتا ہے کو ختم کرنا ہے جو اسے لبنان کے پانیوں، گیس کے ذخائر اور زمین پر غاصبانہ قبضے سے روکتی ہے۔ لبنانی حکومت نے واشنگٹن میں بیٹھ کر صیہونیوں کے اسی ایجنڈے پر دستخط کیے ہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ حکومتِ لبنان کو یہ یاد رکھنا چاہیے کہ وہ عوام کی مرضی کے بغیر اتنے بڑے اور حساس فیصلے کرنے کا حق نہیں رکھتی۔ واشنگٹن کی ڈکٹیشن پر تیار کردہ یہ دستاویز لبنانی عوام اور مزاحمت کے اتحاد کو توڑنے میں کبھی کامیاب نہیں ہوگی۔لبنان میں حزب اللہ پہلے سے ہمیشہ سے زیادہ مضبوط ہو چکی ہے۔ اسرائیل جنگ کے ذریعہ حزب اللہ کو عسکری، سیاسی، ثقافتی اور عوامی سطح پر کمزور کرنے میں بری طرح ناکام رہاہے تاہم اب امریکہ کی چھتری میں ایک نیا منصوبہ تیار کر کے حزب اللہ کے خلاف دبائو بڑھانے کی سازش کی جا رہی ہے ۔

حزب اللہ کے خلاف یہ سازشیں سنہ 1982 سے جاری ہیں اور ہمیشہ حزب اللہ ان سازشوں کا مقابلہ کرکے مزید طاقتور اور تجربہ کار ہوئی ہے۔ اس مرتبہ بھی حزب اللہ اور لبنان کے عوام امریکی و صیہونی منصوبوں کو خاک میں ملا کر رکھ دیں گے۔لبنانی عوام اس بیرونی سازش کو پہچان چکے ہیں۔ بیروت، صیدا، صور اور بعلبک کے غیور عوام کا پیغام واضح ہے کہ حاکمیت کا سودا نامنظور تھا، نامنظور ہے اور نامنظور رہے گا۔ حکومت اس سے قبل کہ بہت دیر ہو جائے، اس عوامی غیظ و غضب کا ادراک کرے اور اس ذلت آمیز معاہدے سے فوری پیچھے ہٹے۔ لبنان کی بقا واشنگٹن کے غلامانہ معاہدوں میں نہیں، بلکہ عوامی یکجہتی اور فولادی دفاع میں ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan