Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

قومی قوتوں کا انتباہ: مسئلہ فلسطین فیصلہ کن اور خطرناک موڑ پر پہنچ گیا

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی قومی قوتوں نے اس بات پر زور دیا ہے کہ موجودہ مرحلہ قومی اتحاد کو مستحکم کرنے اور فیصلہ سازی میں حقیقی شراکت داری کے اصول کو پختہ کرنے کا متقاضی ہے۔ یہ شراکت داری ہی اس بات کی ضمانت دے سکتی ہے کہ فلسطینی عوام کے تمام طبقات قومی مقصد کے مستقبل کا تعین کرنے اور فلسطینی حقوق کے دفاع میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔

قومی قوتوں نے اپنے ایک بیان میں واضح کیا کہ یہ مطالبہ اس وقت سامنے آیا ہے جب مسئلہ فلسطین اپنی تاریخ کے خطرناک ترین مراحل سے گزر رہا ہے۔ اس کی وجہ غزہ کی پٹی پر جاری اسرائیلی جنگ، مغربی کنارے اور مقبوضہ القدس میں بڑھتی ہوئی جارحیت، نیز جبری بے دخلی، نسلی صفائی، زمینوں پر قبضے اور زمینی حقائق مسلط کرنے کی پالیسیاں ہیں۔

بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ قومی اداروں کی تعمیر نو اور ترقی کے لیے کسی بھی قسم کے اقدامات، بشمول ریاستِ فلسطین کے عبوری آئین کا مسودہ، سیاسی جماعتوں کا قانون، فلسطینی نیشنل کونسل کا انتخابی نظام، متعلقہ صدارتی آرڈیننس، سب کا انحصار ایک جامع قومی اتفاقِ رائے اور وسیع مکالمے پر ہونا چاہیے، تاکہ قومی اداروں کی قانونی حیثیت مستحکم ہو، فلسطینی صفوں میں اتحاد برقرار رہے اور شراکت داری کا طریقہ کار رائج ہو۔

قومی قوتوں نے اس بات پر زور دیا کہ فلسطینی عوام کو اپنے قومی اداروں کو ترقی دینے اور اسرائیلی استعماری منصوبے کا مقابلہ کرنے کے لیے ان کی صلاحیتوں کو بڑھانے کی ضرورت ہے، جو ان کی قومی ترجیحات کے مطابق ہو۔ ساتھ ہی انہوں نے بیرونی دباؤ یا احکامات کے تحت فلسطینی سیاسی نظام کو دوبارہ ترتیب دینے کی کسی بھی کوشش کے خطرات سے خبردار کیا۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ قومی اداروں کی تعمیرِ نو یا فعالیت، بشمول انتخابات کا انعقاد، ایک حقیقی قومی شراکت داری پر مبنی ہونی چاہیے جس میں تمام فلسطینی قوتیں شامل ہوں اور جسے ایسی قومی و سیاسی حیثیت حاصل ہو جو انہیں درکار قانونی جواز فراہم کر سکے۔

قومی قوتوں کی رائے میں قومی اتحاد کی بحالی اور اداروں کی قانونی حیثیت کی تجدید کا حقیقی راستہ ایک جامع قومی مکالمے سے شروع ہوتا ہے جس میں تمام فلسطینی قوتیں اور گروہ شامل ہوں۔ یہ مکالمہ شراکت داری، جمہوریت اور قومی اتفاقِ رائے کے اصولوں پر مبنی ہو، جس کے نتیجے میں ایسے پابند فیصلے سامنے آئیں جو انفرادی فیصلوں یا اخراج کی پالیسی کی نفی کریں اور قومی آزادی کے لیے فلسطینی عوام کے اہداف کی خدمت کریں۔

قومی قوتوں نے صدر محمود عباس سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی دھڑوں کے سیکرٹری جنرلز کا ہنگامی اجلاس بلائیں، کیونکہ یہ ایک ایسا قومی تقاضا ہے جس میں تاخیر کی کوئی گنجائش نہیں۔ اس اجلاس کا مقصد ایک جامع قومی مکالمے کا آغاز کرنا ہے جو حقیقی سیاسی شراکت داری کی بنیاد رکھے اور موجودہ چیلنجوں کا مقابلہ کرنے اور بڑے قومی مسائل پر بحث کرنے کے لیے ایک متحد قومی اور مزاحمتی حکمت عملی وضع کرے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ان مسائل میں سب سے اہم فلسطینی نیشنل کونسل سمیت جامع فلسطینی انتخابات کے انعقاد پر اتفاق رائے ہے، تاکہ تمام فلسطینی قوتوں کی وسیع ترین شرکت اور منصفانہ نمائندگی کو یقینی بنایا جا سکے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ نیشنل کونسل میں شرکت کی بنیاد کو وسیع کرنے سے فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (PLO) کا مقام مستحکم ہوگا اور اس کی قومی حیثیت کی تجدید ہوگی۔

قومی قوتوں نے نشاندہی کی کہ فلسطینی مصالحتی معاہدوں، بشمول حالیہ بیجنگ معاہدے میں جس ’عبوری متحد قیادت کے فریم ورک‘ پر اتفاق ہوا تھا، وہی وہ عبوری قومی مرجعیت ہے جو موجودہ مرحلے کی قیادت کرنے، قومی شراکت داری کو فروغ دینے اور اتفاق رائے کی بنیاد پر اداروں کے کام کے تسلسل کو یقینی بنانے کی صلاحیت رکھتی ہے۔

قومی قوتوں نے اس بات پر زور دیا کہ قومی مکالمے کی بنیاد انفرادی فیصلوں اور اخراج کی پالیسی کے انکار، سیاسی تکثیریت (Pluralism) کے احترام، اور قابض دشمن کے جرائم اور مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے کے منصوبوں کے خلاف ایک متحد قومی پروگرام کی پابندی پر ہونی چاہیے۔ ساتھ ہی، حقِ واپسی، خود ارادیت، اور القدس کو دارالحکومت بنا کر ایک مکمل خود مختار فلسطینی ریاست کے قیام جیسے قومی مسلمات (ثوابت) پر قائم رہنا لازمی ہے۔

آخر میں، فلسطینی قومی قوتوں نے دوبارہ اس بات پر زور دیا کہ موجودہ لمحہ ذمہ داری اور اتحاد کے اعلیٰ ترین مظاہرے کا متقاضی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسرائیلی جنگ اور مسئلہ فلسطین کو ختم کرنے کے منصوبوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی اتحاد کو مضبوط کرنا اور وسیع قومی شراکت داری کی بنیاد پر پی ایل او (PLO) کو مستحکم کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے ایک فوری قومی اجلاس بلانے کا مطالبہ کیا جو ایک متحد قومی حکمت عملی کی تشکیل کا باعث بنے اور ایسے جامع جمہوری انتخابات کی راہ ہموار کرے جو شراکت داری کی بنیاد پر قومی اداروں کی تعمیر نو کریں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan