مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جب بھی قابض صہیونی فوج مسجدِ اقصیٰ کے تقدس کو پامال کرتے ہوئے اس پر دھاوا بولتی ہیں، اس کے درِ اقدس کو مقفل کر دیتی ہیں یا اس کے محافظین و عملے کو ان کے فرائضِ منصبی کی ادائیگی سے باز رکھتی ہیں، تو ہر سو ایک ہی سوال گونجنے لگتا ہے، آخر مسجدِ اقصیٰ کے امور کا انتظام و انصرام کون چلا رہا ہے؟ یہ سوال محض ایک انتظامی نوعیت کا استفسار نہیں، بلکہ اس کا تعلق براہِ راست سیاسی حاکمیت اور خود مختاری سے ہے۔ اس لیے کہ اقصیٰ کا انتظام سنبھالنے کا مطلب یہ طے کرنا ہے کہ صلوٰۃ و عبادت، مرمت و حفاظت اور اس مقدس مقام میں داخلے کے فیصلے کا حق کسے حاصل ہے اور کون اس اختیار کو طاقت کے بل بوتے پر چھین کر غاصبانہ تسلط کے زیرِ سایہ نئے زمینی حقائق مسلط کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔
مسجدِ اقصیٰ کا اصل انتظامی ڈھانچہ کیا ہے؟
تاریخی اور قانونی اعتبار سے مسجدِ اقصیٰ مبارک کا انتظام ‘القدس میں اسلامی اوقاف’ کے اس محکمے کے پاس ہے جو اردن کی وزارتِ اوقاف سے منسلک ہے۔ یہ کوئی معمولی دفتری کارروائی نہیں، بلکہ القدس کے اسلامی اور عیسائی مقدسات پر ہاشمی سرپرستی کا ایک ٹھوس اظہار ہے۔ یہ ایک ایسی تاریخی حقیقت ہے جو مشرقی القدس پر صہیونی قبضے سے قبل بھی قائم تھی اور آج بھی ہے۔ یہ انتظامی دائرہ کار مسجدِ اقصیٰ کے تمام 144 دونم رقبے پر محیط ہے، جس میں چھت والے مصلیٰ جات، وسیع و عریض صحن، تمام دروازے، مینار، چبوترے، گنبدِ صخرہ، قبلی مسجد، باب الرحمت اور حرمِ قدسی کے اندر موجود ہر ایک آثار و نشانات شامل ہیں۔
عملی طور پر اوقاف ہی عبادات، محافظوں، خادمین اور دیگر عملے کے امور، مسجد کی دیکھ بھال، مرمت، دینی سکولوں کے نظم و نسق اور مسجد کے اندر ہونے والی مذہبی و تعلیمی سرگرمیوں کی نگرانی کرتی ہے۔ بنیادی طور پر یہی ادارہ دینی و انتظامی تقاضوں کے پیشِ نظر دروازے کھولنے اور بند کرنے کا مجاز ہے، اور یہی ادارہ صفائی، بجلی، پانی، لائبریریوں، نادر مخطوطات، مذہبی تہواروں کے موقع پر نمازیوں کے اجتماع کو منظم کرنے کا ذمہ دار ہے۔
مگر یہ تصویر اس وقت تک ادھوری ہے جب تک یہ نہ سمجھا جائے کہ یہ ادارہ کسی آزاد فضا میں نہیں بلکہ قابض دشمن کے شب و روز کے دباؤ میں کام کر رہا ہے۔ حقیقت تو یہ ہے کہ اوقاف مسجدِ اقصیٰ کا انتظام ایک ایسے میدانِ کارزار میں چلا رہی ہے جہاں جگہ کی حاکمیت، شناخت اور اس کے مذہبی تشخص کے لیے ایک کھلی جنگ جاری ہے۔
قابض دشمن کے گھیرے میں مذہبی انتظام
سنہ1967ء میں مشرقی القدس پر قبضے کے بعد قابض حکام نے مسجد کا داخلی مذہبی انتظام تو اسلامی اوقاف کے پاس رہنے دیا، لیکن اس نے شہر، مسجد کے اطراف اور بیرونی دروازوں پر اپنی عسکری گرفت مضبوط رکھی۔ یہیں سے بنیادی تضاد جنم لیتا ہے ایک طرف اسلامی مذہبی انتظام ہے اور دوسری طرف ایک قابض طاقت ہے جو داخلی راستوں پر قابض ہے، نقل و حرکت کو کنٹرول کرتی ہے، دھاوے بولتی ہے اور پابندیاں و بے دخلی کے ظالمانہ ہتھکنڈے مسلط کرتی ہے۔
اس کا صاف مطلب یہ ہے کہ اوقاف مسجد اقصیٰ کی ذمہ دار تو ہے، لیکن قابض دشمن اس کے فیصلوں کو معطل کرنے، اس کے کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے، عملے کو مسجد تک پہنچنے سے روکنے، محافظوں کو گرفتار کرنے، ڈائریکٹر اور ملازمین کو جلاوطن کرنے، کسی خاص دروازے کو بند کرنے، یا بندوق کے سائے میں اپنے گماشتوں کو داخلے کی اجازت دینے کی پوری طاقت رکھتا ہے۔ اس لیے جو یہ پوچھتا ہے کہ مسجدِ اقصیٰ کے امور کا انتظام کیسے چل رہا ہے، اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ جواب دو رخی ہے: سرکاری انتظامیہ تو اوقاف کے پاس ہے، مگر زمینی اور جابرانہ کنٹرول اس قابض دشمن کا ہے جو اس انتظامی ڈھانچے کی محض نگرانی نہیں، بلکہ اسے جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کے درپے ہے۔
حالیہ برسوں میں یہ مداخلت انتہائی خطرناک حدوں کو چھو رہی ہے۔ قابض دشمن اب صرف بیرونی سکیورٹی تک محدود نہیں رہا، بلکہ اوقاف کے کردار کو سمیٹنے، مرمت کے کاموں میں رخنہ ڈالنے، باب الرحمت میں نئے توازن مسلط کرنے، محافظوں کا پیچھا کرنے اور یہودی آباد کاروں کے منظم دھاووں کو عسکری تحفظ فراہم کرنے میں مصروف ہے۔
اوقاف روزانہ اقصیٰ کے اندر کن ذمہ داریوں کو نبھاتی ہے؟
مسجدِ اقصیٰ کا روزمرہ انتظام محض ایک دفتری عنوان نہیں، بلکہ ایک ایسا پیچیدہ مشن ہے جو عبادت کی باریکیوں سے شروع ہو کر جگہ کے تعمیراتی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ پر محیط ہے۔ وہاں محافظ موجود ہیں جو دروازوں اور صحنوں کی پہرہ داری کرتے ہیں، خلاف ورزیوں کو ریکارڈ کرتے ہیں اور مذہبی مقام کی تقدیس کے مطابق نقل و حرکت کو منظم کرتے ہیں۔ وہاں عملہ ہے جو بجلی، پانی کے نظام، مرمت اور حساس تاریخی عمارتوں کی حفاظت کرتا ہے۔
اس نظم و نسق میں مصلیٰ جات، مسجد کے فرش، لاؤڈ اسپیکر، رمضان اور دیگر بڑی تقریبات کا اہتمام، علم و وعظ کی مجلسوں کے ساتھ رابطہ، اور لائبریریوں و مخطوطات کی دیکھ بھال شامل ہے۔ یہ کام بہ ظاہر خدماتی لگتے ہیں، لیکن اقصیٰ میں یہ ایک ایسی جگہ کو اس کی اسلامی مرجعیت سے خالی کروانے والے منصوبے کے خلاف ایک مستحکم ادارہ جاتی استقامت کا نام ہیں۔
محافظین بالخصوص اپنی ڈیوٹی سے کہیں بڑھ کر کردار ادا کر رہے ہیں۔ وہ ان دھاووں اور خلاف ورزیوں کے براہِ راست گواہ ہیں ۔ اکثر وہی ہوتے ہیں جو تشدد، گرفتاری یا جلاوطنی کا سب سے پہلے نشانہ بنتے ہیں۔ قابض دشمن انہیں مسلسل اس لیے نشانہ بناتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ان کی منظم موجودگی ہی وہ آخری لکیر ہے جو یہ ثابت کرتی ہے کہ مسجد کا انتظام صرف علامتی نہیں بلکہ ایک فعال اسلامی حقیقت ہے۔
دروازے کون کھولتا ہے اور داخلے کا فیصلہ کس کے ہاتھ میں ہے؟
عام حالات میں اوقاف ہی مسجد کے داخلی امور کا مرکز ہوتی ہے، مگر قابض دشمن نے دروازوں پر ایک ایسا ظالمانہ توازن مسلط کیا ہے جس میں بعض بیرونی دروازے سکیورٹی کے اعتبار سے اس کی پولیس کے تابع ہیں۔ وہی فیصلہ کرتی ہے کہ کون نمازی داخل ہو سکتا ہے، کن عمر کے افراد کو روکا جائے، کن کے شناختی کارڈ قبضے میں لیے جائیں اور کب راستے بند کیے جائیں۔
یہ ایک بنیادی نکتہ ہے کیونکہ دروازے پر کنٹرول کا مطلب درحقیقت مسجد کے کردار کو مفلوج کرنا ہے۔ اگر اوقاف اندر سے انتظام سنبھالے ہوئے ہے، مگر قابض دشمن یہ طے کرتا ہے کہ کون اندر آئے اور کون باہر رہے، تو وہ صرف انتظام کی شکل نہیں، بلکہ اس کے جوہر کو بھی سلب کرنے کی مذموم کوشش کر رہا ہے۔ اس لیے فلسطینیوں کے نزدیک اقصیٰ کی جنگ محض انتظامی نہیں، بلکہ مسجدِ اقصیٰ تک رسائی اور اس کے انتظام کے حق کی جنگ ہے۔
سب سے بھیانک پہلو یہ ہے کہ قابض دشمن اس سکیورٹی کنٹرول کو “زیارت” کے نام پر آباد کاروں کے دھاووں کو تقویت دینے کے لیے استعمال کرتا ہے۔ وہ مخصوص اوقات میں آباد کاروں کے لیے دروازے کھولتا ہے، انہیں مسلح پہرہ دیتا ہے ۔ نمازیوں کو ان کے سامنے ڈھال بننے سے روکتا ہے۔ اس طرح وہ محض داخلے کو منظم نہیں کر رہا، بلکہ اسے ایک سیاسی و مذہبی مخالف منصوبے کے لیے دوبارہ تشکیل دے رہا ہے۔
تعمیر و مرمت کے فیصلے کیسے لیے جاتے ہیں؟
اصولی طور پر مرمت اور دیکھ بھال اسلامی اوقاف کا خصوصی حق اور ذمہ داری ہے۔ اس میں تاریخی عمارتوں کی اصلاح، گنبد، چھتوں اور دیواروں کی حفاظت شامل ہے۔ لیکن قابض دشمن اکثر ان کاموں میں رخنہ ڈالتا ہے یا انہیں اپنی شرائط کا پابند بناتا ہے، خاص طور پر ان مقامات پر جنہیں وہ سیاسی یا سکیورٹی لحاظ سے حساس گردانتا ہے۔
یہ تناقض جان بوجھ کر پیدا کیا جاتا ہے۔ وہ اسلامی انتظامیہ کو اپنا قدرتی کام کرنے سے روکتا ہے، پھر دعویٰ کرتا ہے کہ جگہ کا انتظام سنبھالنے کے لیے اس کی موجودگی ضروری ہے۔ یہاں عملی انتظام اور طاقت کے نفاذ میں فرق کرنا ضروری ہے۔ اوقاف شرعی اور قانونی حق رکھتی ہے، لیکن قبضے کی وجہ سے اس کی طاقت محدود ہے۔
اوقاف کونسل کا کردار
اوقاف کے محکمہ کے علاوہ القدس میں ‘اوقاف اور اسلامی مقدسات کی کونسل’ موجود ہے، جو بڑی اور حساس فائلز میں امدادی اور نگرانی کا کردار ادا کرتی ہے۔ یہ کونسل اسلامی موقف کو سیاسی اور ادارہ جاتی طور پر مستحکم کرتی ہے اور متنازعہ معاملات پر اپنا مؤقف واضح کرتی ہے۔ مگر پھر وہی المیہ ہے کہ قابض دشمن ان تمام مرجعیتوں کو اپنے منصوبے کی راہ میں رکاوٹ سمجھتا ہے۔
قابض دشمن اس انتظام کو کیوں ختم کرنا چاہتا ہے؟
جواب عیاں ہے، کیونکہ مسجدِ اقصیٰ میں اوقاف کی مرجعیت کا باقی رہنا اس بات کا عملی ثبوت ہے کہ مسجدِ اقصیٰ اب بھی اسلامی اور عربی ہے۔ قابض دشمن اس انتظامیہ کو جلاوطنی، سمن، گرفتاریوں اور مرمت پر پابندیوں کے ذریعے قدم قدم پر ختم کرنا چاہتا ہے تاکہ مسجدِ اقصیٰ کی اسلامی حیثیت کو دھندلا سکے۔
یہ پالیسی صرف ملازمین کو نہیں، بلکہ لوگوں کے شعور کو بھی نشانہ بناتی ہے۔ جب قابض پولیس کو اقصیٰ میں فیصلہ ساز کے طور پر پیش کیا جاتا ہے، تو حقیقت کو مسخ کیا جا رہا ہوتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اقصیٰ کا انتظام اسلامی ہے، اور قابض دشمن ایک غاصب طاقت ہے جو بندوق کے زور پر حقائق مسلط کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔
انتظام اور حاکمیت کے درمیان.. آج جنگ کس مقام پر ہے؟
مسجدِ اقصیٰ کے انتظام اور اس پر حاکمیت کو الگ نہیں کیا جا سکتا۔ ظاہری طور پر اوقاف اب بھی امور سنبھال رہی ہے، لیکن میدانی طور پر قابض دشمن اسے ہر روز محدود کرنے اور اسے اپنی سکیورٹی کے پنجرے میں قید کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ یہی اس جنگ کی اصل جڑ ہے۔
اس لیے اقصیٰ کا دفاع صرف کسی دھاوے کو روکنا نہیں، بلکہ اس مرجعیت کا تحفظ ہے جو مسجد کا انتظام چلا کر اس کی شناخت کی حفاظت کر رہی ہے۔ محافظوں پر ہر حملہ، مرمت پر پابندی، عملے کی جلاوطنی، یا داخلے پر قدغن، براہِ راست مسجد کے انتظام پر حملہ ہے۔
فلسطینی شعور میں اقصیٰ کا انتظام مہروں اور ضابطوں سے نہیں، بلکہ استقامت سے ماپا جاتا ہے۔ جب تک قابض دشمن اسلامی مرجعیت کو ختم کرنے کی سازش کر رہا ہے، اس مرجعیت کو مضبوط کرنا پوری القدس کی جنگ کا حصہ ہے۔ خلاصہ یہ کہ مسجدِ اقصیٰ کا انتظام اسلامی اوقاف کے پاس ہے، لیکن اسے ایک ایسا قابض دشمن گھیرے ہوئے ہے جو اس حق کو چھیننا چاہتا ہے۔ اس لیے یہاں انتظام کا تحفظ محض ایک انتظامی فریضہ نہیں، بلکہ مسجد، شناخت اور حقِ آزادی کے دفاع کا مقدس مشن ہے۔
