غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی فوج نے غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 14 اسیران کو رہا کر دیا ہے، جنہیں سات اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔
ہمارے نامہ نگار نے اطلاع دی ہے کہ ان اسیران کو کرم ابو سالم کراسنگ کے ذریعے رہا کیا گیا، جس کے بعد انہیں طبی امداد کی فراہمی کے لیے ریڈ کراس کی ٹیموں کی نگرانی میں دیر البلح کے شہدائے اقصیٰ ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
سات اکتوبر سنہ 2023ء سے قابض اسرائیل نے غزہ کی پٹی میں قتل و غارت، بھوک، تباہی اور بے دخلی پر مبنی نسل کشی کا ارتکاب کیا ہے۔ اس نے بین الاقوامی مطالبات اور عالمی عدالتِ انصاف کے جنگ روکنے کے احکامات کو مکمل طور پر نظر انداز کر رکھا ہے۔
اس نسل کشی کے نتیجے میں اب تک دو لاکھ چھیالیس ہزار سے زائد افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت خواتین اور بچوں کی ہے، اس کے علاوہ آٹھ ہزار سے زائد لاپتہ، لاکھوں بے گھر، اور ایک ایسا قحط بھی ہے جس نے بچوں سمیت بہت سے لوگوں کی جانیں لے لی ہیں، اس کے ساتھ ساتھ ہر طرف وسیع پیمانے پر تباہی کے مناظر ہیں۔
