رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) الجزیرہ ٹی وی چینل نے جمعہ کی شام ایک دستاویزی فلم نشر کی ہے جو قابض اسرائیل کی فوج کی طرف سے فلسطینی اسیران اور قیدیوں کے خلاف جیلوں اور حراستی مراکز میں کی جانے والی منظم جنسی تشدد کی مختلف اقسام کو بے نقاب کرتی ہے۔ اس فلم میں ان متاثرین کی آنکھوں دیکھی شہادتیں شامل ہیں۔
“گواہ جسم” (أجساد شاهدة) کے عنوان سے تیار کردہ یہ فلم سنہ 2023ء سے 2025ء کے درمیان فلسطینی اسیران اور قیدیوں کے خلاف ہونے والی جنسی زیادتیوں کی دستاویزی شہادت دیتی ہے۔ انسانی حقوق کے بین الاقوامی قوانین کے مطابق، یہ اقدامات جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے زمرے میں آتے ہیں۔
مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں اقوام متحدہ کی خصوصی نمائندہ فرانسسکا البانیز کہتی ہیں کہ 7 اکتوبر سنہ 2023ء کے بعد اسرائیلی سفاکیت ایک غیر معمولی سطح تک پہنچ گئی ہے۔ یہ محض انتقامی کارروائی نہیں بلکہ حراستی عمل کا ایک اٹوٹ حصہ بن چکی ہے۔ انہوں نے نشاندہی کی کہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں سے جمع کی گئی شہادتیں جنگجوؤں کی نہیں، بلکہ عام شہریوں کی ہیں۔
فلم انسانی حقوق کے ماہرین اور وکلاء کی آراء پر مشتمل ہے، جنہوں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اسرائیل کا انسانی جسم کو میدانِ جنگ بنانا اور جنسی تشدد کو جنگی ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا نسل کشی، جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کا ایک سلسلہ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان اقدامات کا واحد مقصد فلسطینی عوام کو اپنی زمین چھوڑنے پر مجبور کرنا ہے۔
فلم میں اسرائیلی فوجیوں کی جانب سے فلسطینی قیدیوں کے خلاف کیے گئے جنسی تشدد کی دل دہلا دینے والی کہانیاں دکھائی گئی ہیں۔ ان میں سماجی کارکن کفایہ خریم کی کہانی شامل ہے، جنہیں ‘سدی تیمان’ جیل لے جایا گیا، جہاں انہیں بار بار تلاشی کے نام پر برہنہ کیا گیا، ان کی تصاویر بنائی گئیں اور پھر اسرائیلی فوجیوں نے ان کے ساتھ دو بار زیادتی کی۔
محمد زکی البکری، جو 20 ماہ تک قابض اسرائیل کی جیلوں میں قید رہے، بتاتے ہیں کہ وہ 4 مارچ سنہ 2024ء سے قبل غزہ کی پٹی کے جنوب میں خان یونس کے شہر حمد میں رہتے تھے، جب اسرائیلی فوج نے وہاں داخل ہو کر شہریوں کے گھروں پر اندھا دھند بمباری کی۔
وہ بتاتے ہیں کہ انہیں ان کی اہلیہ اور بچوں کے ساتھ گرفتار کیا گیا۔ اسرائیلی فوجیوں نے ان کے ہاتھ باندھ کر آنکھوں پر پٹی باندھ دی اور انہیں ایک نمبر (42) دیا، یہ بتاتے ہوئے کہ اب یہی تمہارا نام ہے۔ اس کے ساتھ ہی ان کے سینے پر مسلسل تشدد کیا گیا۔
وہ بتاتے ہیں کہ ‘سدی تیمان’ میں پہلے دن سے ہی انہوں نے کتوں اور دستی بموں کے ساتھ ان پر حملہ کیا، جسے وہ “خوش آمدید” یا “خوف و ہراس کا جشن” کہتے تھے۔ وہ مزید بتاتے ہیں کہ جب وہ ان کے ساتھ زیادتی کرتے تو اپنے موبائل فون سے ان کی ویڈیوز بناتے تھے۔
وہ قابض اسرائیل کے جرائم بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ وہ آپ کو پیٹ کے بل لیٹنے پر مجبور کرتے ہیں۔ آپ کے ہاتھ پشت پر بندھے ہوتے ہیں اور آنکھوں پر پٹی بندھی ہوتی ہے۔ پھر وہ آپ پر خونخوار کتے چھوڑ دیتے ہیں اور بے رحمی سے ٹھوکریں مارتے ہیں۔
ایک اور شہادت میں ایوب (فرضی نام)، جنہیں 20 اکتوبر سنہ 2024ء کو گرفتار کیا گیا تھا، بتاتے ہیں کہ ان کی زندگی کا سب سے مشکل لمحہ مار پیٹ یا ذلت نہیں، بلکہ زیادتی (ریپ) تھی۔ وہ اس المناک منظر کو بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جب میں زمین پر پڑا تھا اور میرے ہاتھ پیچھے بندھے تھے، تب دو خاتون فوجی جنسی آلات کے ساتھ داخل ہوئیں اور ان میں سے ایک نے مجھے سرعام زیادتی کا نشانہ بنایا۔ وہاں موجود دیگر فوجی تالیاں بجا رہے تھے اور ویڈیوز بنا رہے تھے۔
سماجی کارکن شیرین (فرضی نام) نے بھی بتایا کہ انہیں سونے کے کمرے میں لے جا کر تمام کپڑے اتارنے کا حکم دیا گیا، اور 14 بار اٹھک بیٹھک (سکواٹ) کرنے کو کہا گیا۔ انہوں نے بتایا کہ جب ایک فوجی نے ان کی آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو انہوں نے اس کے منہ پر تھوک دیا، جس کے بعد انہیں مسلسل زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔
خواتین و بچوں کے حقوق کے لیے کام کرنے والی کفایہ خریم نے تصدیق کی کہ انہوں نے پناہ گزین کیمپوں میں کئی ایسے واقعات دستاویزی شکل میں محفوظ کیے ہیں جہاں خواتین کو اپنے خاندان کے سامنے برہنہ تلاشی پر مجبور کیا گیا، اور یہ سب کچھ کتے اور اسلحے کے زور پر کیا گیا۔
عالمگیر دفاع برائے اطفال (DCI) کے جوابدہی پروگرام کے ڈائریکٹر عاید ابو قطیش نے تصدیق کی کہ انٹرویو کیے گئے تمام بچوں نے بتایا کہ انہیں بلاوجہ بار بار برہنہ تلاشی کا نشانہ بنایا گیا۔
اسرائیلی زیادتیوں میں شدید مار پیٹ، تھپڑ، جلانا، ہڈیاں توڑنا، دانت توڑنا اور آلات کے ذریعے جنسی تشدد شامل ہے۔ البانیز نے تصدیق کی کہ دھاتی سلاخیں، تیز دھار دھاتی اشیاء، چاقو، میٹل ڈیٹیکٹر اور بوتلیں جیسی چیزیں اکثر استعمال کی جاتی ہیں۔ یہ تشدد معلومات حاصل کرنے یا اعترافِ جرم کے لیے ہوتا ہے، لیکن اسرائیلی تشدد اس سے کہیں زیادہ آگے نکل چکا ہے۔
خیال رہے کہ ان جرائم کو اسرائیلی حکام کی قانونی اور سیاسی پشت پناہی حاصل ہے، جس کا ثبوت یہ ہے کہ جولائی سنہ 2024ء میں ‘سدی تیمان’ فوجی جیل میں ایک فلسطینی قیدی کے ساتھ جنسی زیادتی کے الزام میں ملوث 5 فوجیوں کے خلاف تمام الزامات ختم کر دیے گئے۔
