مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیل کے انتہا پسند وزیر خزانہ بزلئیل سموٹریچ نے کہا ہے کہ مغربی کنارے میں نام نہاد ’سول ایڈمنسٹریشن‘ کی ہائر پلاننگ کونسل نے الخلیل کے قدیم شہر میں منصوبہ بندی اور تعمیرات کے اختیارات چھیننے کے اقدامات مکمل کر لیے ہیں۔
سموٹریچ نے واضح کیا کہ اس اقدام کا مطلب عملی طور پر معاہدہِ الخلیل کو منسوخ کرنا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ یہ پیش رفت کئی ماہ قبل قابض اسرائیل کے وزیر جنگ کے ساتھ تعاون کے نتیجے میں عمل میں آئی ہے۔
بزلئیل سموٹریچ نے اس اقدام کو محض منصوبہ بندی کی حد تک محدود قرار دینے کے بجائے اسے الخلیل اور مغربی کنارے کے مقدس مقامات پر قابض اسرائیل کی عملی بالادستی کے قیام کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا۔
یہ پیش رفت قابض اسرائیل کی جانب سے مسجدِ ابراہیمی کے انتظام کے اختیارات الخلیل میونسپلٹی سے چھین کر نام نہاد اسرائیلی ہائر پلاننگ کونسل کے سپرد کرنے کے فیصلے کے چند ماہ بعد سامنے آئی ہے۔
پلاننگ کونسل قابض ریاست کا وہ ادارہ ہے جو تمام امور کے لیے صیہونی نقطہ نظر کی عکاسی کرنے والے مرکزی ساختی منصوبوں کا ذمہ دار ہے۔ یہ کونسل زمین کے استعمال سے لے کر رئیل اسٹیٹ کی ترقی تک کے معاملات کو دیکھتی ہے اور انہیں اسرائیلی حکومت کی منظوری کے لیے پیش کرتی ہے، جس کی بنیاد پر وہ اپنے منصوبے مرتب کرتی ہے۔
یہ آباد کاری کا منصوبہ مسجدِ ابراہیمی کے قریب تاریخی مقامات پر قابض اسرائیل کا قبضہ جمانے کی دھمکی دیتا ہے، جس کے ذریعے الخلیل میونسپلٹی سے تعمیرات اور منصوبہ بندی کے اختیارات چھین کر قابض اسرائیل کے ماتحت نام نہاد ’سول ایڈمنسٹریشن‘ کو منتقل کیے جا رہے ہیں۔
پروٹوکولِ الخلیل
فلسطینی اتھارٹی نے سنہ 1997ء میں قابض اسرائیل کے ساتھ ایک معاہدہ کیا تھا جسے ’پروٹوکول برائے دوبارہ تعیناتی‘ کہا جاتا ہے۔ اس معاہدے کے تحت اتھارٹی نے الخلیل کے قدیم شہر کو دو حصوں (H1) اور (H2) میں تقسیم کرنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ (H2) وہ علاقہ ہے جس میں قابض اسرائیل تمام تر ذمہ داریاں اور اختیارات اپنے پاس رکھتا ہے، اور اسی علاقے میں مسجدِ ابراہیمی واقع ہے۔
سنہ 1994ء میں انتہا پسند اسرائیلی باروخ گولڈسٹائن کی جانب سے کیے جانے والے قتلِ عام کے بعد، جس میں مسجدِ ابراہیمی میں فجر کی نماز کے دوران 29 فلسطینی شہید اور سیکڑوں زخمی ہوئے تھے، اسرائیلی حکومت نے مسجد کو مسلمانوں اور یہودیوں کے درمیان زمانی اور مکانی لحاظ سے تقسیم کر دیا تھا اور مسلمان نمازیوں کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد کر دی تھیں۔
حال ہی میں قابض اسرائیل کے وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو نے یہ دعویٰ کیا ہے کہ مسجدِ ابراہیمی سمیت پورا شہرِ الخلیل اسرائیلی بالادستی کے تحت رہے گا، یعنی اسے باقاعدہ طور پر اسرائیل میں ضم کر دیا جائے گا۔
