Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

والد کی گود میں دم توڑنے والے ریان ابو العجین کی دردناک داستان

 دیر البلح – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) تین سالہ ننھا ریان بہاء ابو العجین یہ نہیں جانتا تھا کہ دیر البلح شہر کے مشرقی علاقے سے اپنے والد کے ہمراہ خاندانی دورے سے واپسی اس کی زندگی کا آخری سفر ثابت ہوگا۔

گذشتہ اتوار کی شام واپسی کا راستہ ایک نئے سفاکانہ جرم کا منظر بن گیا، جس میں ایک معصوم بچہ اپنے والد کی آغوش میں رہتے ہوئے قابض اسرائیل کی گولی کا نشانہ بن کر شہید ہو گیا۔ والد بھی اس فائرنگ میں زخمی ہوئے، جنہیں قابض فوج نے گھنٹوں حراست میں رکھنے کے بعد ان کے شہید بیٹے کی لاش کے ہمراہ وسطی غزہ کی ایک مرکزی سڑک پر پھینک دیا۔

واپسی کا سفر سانحے پر اختتام پذیر

بچے کے خاندان کی طرف سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق بتیس سالہ بہاء الدین جابر ابو العجین اتوار کی سہ پہر مشرقی دیر البلح کے علاقے وادی السلقا میں اپنے رشتہ داروں سے ملاقات کے بعد واپس آ رہے تھے۔ ان کے ہمراہ ان کے تین سالہ بیٹے ریان اور چھپن سالہ رشتہ دار خالد حسن ابو غرابة موجود تھے، اور وہ شہر کے مشرق میں واقع ابو العجین کے علاقے کی طرف جا رہے تھے۔

خاندان کے مختار نواف ابو العجین نے بتایا کہ قابض اسرائیل کی ایک فورس علاقے کی سڑک پر نظر رکھنے والے ایک مکان میں چھپی ہوئی تھی، جس نے باہر نکلتے ہی بغیر کسی وارننگ یا رکنے کا اشارہ دیے شہریوں پر براہ راست فائرنگ کر دی۔

قاتل گولی

فائرنگ کے نتیجے میں ننھا ریان اپنے والد کی آغوش میں رہتے ہوئے سر میں گولی لگنے سے شدید زخمی ہوا، جو بعد ازاں اس کی شہادت کا سبب بنی۔

خاندان کے سرپرست نے ایک پریس بیان میں وضاحت کی کہ گولی بچے کے سر میں پیوست ہوئی، جبکہ والد کی دائیں ٹانگ پر گولی لگی۔ خاندان نے تصدیق کی کہ والد فائرنگ کے وقت اپنے بچے کو اٹھائے ہوئے تھے اور ایک گولی دونوں کو لگی، جس سے چند سیکنڈوں میں ہی یہ منظر ایک انسانی سانحے میں بدل گیا۔

والد اور زخمی بچے کی گرفتاری

واقعہ فائرنگ پر ختم نہیں ہوا، بلکہ خاندان کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے زخمی والد اور ان کے لہولہان بچے کو ان کے رشتہ دار خالد ابو غرابہ سمیت گرفتار کر کے علاقے میں موجود ایک فوجی چوکی پر منتقل کر دیا۔

اسی بیان کے مطابق والد اور بیٹے کو شدید زخمی ہونے کے باوجود گھنٹوں تک حراست میں رکھا گیا اور انہیں ضروری طبی امداد فراہم نہیں کی گئی۔ اس دوران بچے کے شدید زخموں سے خون بہتا رہا، جبکہ والد اپنی ٹانگ کے گہرے زخم کی تکلیف سہتے رہے۔

آدھی رات کے بعد سڑک پر پھینک دیا گیا

انہوں نے بتایا کہ قابض فوج نے تقریباً چھ گھنٹے کی حراست کے بعد والد کو رہا کیا اور انہیں ان کے شہید بیٹے کے ہمراہ آدھی رات کے بعد ابو ہولی موڑ کے قریب شاہراہ صلاح الدین پر پھینک دیا، جبکہ اس کی اطلاع ریڈ کراس یا کسی متعلقہ ادارے کو نہیں دی گئی۔

انہوں نے مزید کہا کہ فوجیوں نے والد کی زخمی ٹانگ پر صرف ایک طبی پٹی باندھنے پر اکتفا کیا اور انہیں ان کے بچے کے ساتھ سڑک کے کنارے چھوڑ کر چلے گئے، جبکہ خالد ابو غرابہ اب بھی قابض صہیونی عقوبت خانے میں قید ہیں۔

کئی گھنٹوں کی تلاش کے بعد شہریوں نے والد اور ان کے بیٹے کو ڈھونڈ نکالا اور انہیں دیر البلح کے شہداء الاقصیٰ ہسپتال پہنچایا۔ وہاں ڈاکٹروں نے ننھے ریان کی شہادت کی تصدیق کر دی، جبکہ والد کو ان کے زخموں کا علاج فراہم کیا گیا۔ بعد ازاں خاندان نے علاقے کے قبرستان میں بچے کی تدفین کی، جس کے دوران مقامی لوگوں میں شدید غم اور غصہ پایا گیا۔

قابض اسرائیل کا متضاد بیان

واقعے کے بعد قابض اسرائیل کے ذرائع ابلاغ، بشمول چینل چودہ، نے ایک مہم جوئی کی اور وسطی غزہ میں مزاحمت کے ایک مبینہ کمین گاہ کو ناکام بنانے کا ڈرامہ رچایا، جس میں ایک فلسطینی کی شہادت اور دوسرے کی گرفتاری کا دعویٰ کیا گیا۔

تاہم واقعے کے حقائق اور خاندان کی گواہی نے ثابت کر دیا کہ فائرنگ کا شکار ہونے والے افراد عام شہری تھے، جو کہ والد، ان کا بچہ اور ان کا رشتہ دار تھے، جس نے قابض اسرائیل کے جھوٹے بیانیے کو بے نقاب کر دیا۔

یہ جرم غزہ میں جنگ بندی کے معاہدے کے باوجود جاری اسرائیلی جارحیت کا تسلسل ہے۔ غزہ کی وزارت صحت کے اعداد و شمار کے مطابق، معاہدے کے نفاذ کے بعد سے ریکارڈ کی گئی خلاف ورزیوں کے نتیجے میں تقریباً ایک ہزار فلسطینی شہید اور ہزاروں زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ غزہ میں انسانی اور سکیورٹی صورتحال کے مزید بگڑنے کے بارے میں مسلسل انتباہات جاری ہیں۔

ننھے ریان ابو العجین کی کہانی انتہائی دردناک واقعات میں سے ایک ہے، جس کا اپنے والد کے ساتھ کیا گیا چھوٹا سا سفر ان کی آغوش میں ہی گولی لگنے سے شہادت پر منتج ہوا۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan