مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) القدس کے امور کے ماہر زیاد ابحیص نے کہا ہے کہ ’ہیکل انسٹی ٹیوٹ‘ کی جانب سے مقبوضہ جلیل میں ایک نئی سرخ بچھیا کی پیدائش کا اعلان ہیکل کے حامی تنظیموں کے اس منصوبے میں ایک نمایاں پیش رفت ہے جس کا مقصد ایسے مذہبی اور عقائد پر مبنی حالات پیدا کرنا ہے جو مسجد اقصی میں یہودی آباد کاروں کے داخلے کے دائرہ کار کو وسیع کرنے کی راہ ہموار کریں۔
ابحیص نے وضاحت کی کہ ’ہیکل انسٹی ٹیوٹ‘ جو کہ انتہا پسند ہیکل تنظیموں کا مرکزی ادارہ ہے اس واقعے کو غیر معمولی مذہبی اہمیت کے حامل کے طور پر دیکھ رہا ہے۔ انسٹی ٹیوٹ نے اپنے اعلان کا آغاز یہ کہہ کر کیا کہ یہ بچھیا شمالی محاذ پر جاری جنگ کے سائے میں پیدا ہوئی ہے اور اسے توراتی عقائد کے مطابق ایک خدائی نشانی کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ماہر نے نشاندہی کی کہ یہ نئی بچھیا ان پانچ بچھیاؤں سے مختلف ہے جنہیں انتہا پسند تنظیموں نے سنہ 2022ء میں امریکی ریاست ٹیکساس سے درآمد کیا تھا کیونکہ یہ مقبوضہ فلسطین کے اندر پیدا ہوئی ہے۔ اس حقیقت نے ماضی میں ربیوں کی جانب سے درآمد شدہ بچھیاؤں پر کیے جانے والے اس اعتراض کو ختم کر دیا ہے کہ وہ توراتی تصور کے مطابق نام نہاد سرزمینِ اسرائیل سے باہر پیدا ہوئی تھیں۔
انہوں نے بتایا کہ سرخ بچھیا کا معاملہ ہیکل کے دعویدار گروہوں کے عقائد میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے جو یہ مانتے ہیں کہ اس کی راکھ کو طہارت کی رسومات میں استعمال کرنا اس نام نہاد نجاستِ موت سے چھٹکارا پانے کے لیے بنیادی شرط ہے جس کے بارے میں روایتی مذہبی تشریحات کے مطابق بہت سے ربیوں کا خیال ہے کہ یہ یہودیوں کو مسجد اقصی کے علاقے میں داخل ہونے سے روکتی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یہی عقیدہ ہیکل تنظیموں کی جانب سے سرخ بچھیا کے منصوبے میں گہری دلچسپی کی وضاحت کرتا ہے کیونکہ اسے اقصی میں داخل ہونے والے افراد کی تعداد بڑھانے کا ایک ذریعہ سمجھا جاتا ہے جبکہ اب بھی ایسی مذہبی پابندیاں موجود ہیں جو بہت سے مذہبی یہودیوں کو مسجد میں مسلسل داخل ہونے سے روکتی ہیں۔
ابحیص نے توجہ دلائی کہ ’ہیکل انسٹی ٹیوٹ‘ نے سنہ 1986ء سے ایک ایسا مکمل پروگرام ترتیب دیا ہے جس کا مقصد ایسی سرخ بچھیا تلاش کرنا ہے جو تورات کی سخت شرائط پر پوری اترتی ہو۔ گذشتہ دہائیوں کے دوران انسٹی ٹیوٹ نے ایک سے زائد بار ایسی بچھیا ملنے کا اعلان کیا ہے لیکن ذبح کرنے کی مطلوبہ عمر تک پہنچنے پر وہ شرائط پر پورا نہ اترنے کے باعث نااہل قرار پائیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ تورات کی رائج شرائط کے مطابق بچھیا کا مکمل سرخ ہونا، کسی بھی نقص یا زخم سے پاک ہونا، اس کا زرعی یا پیداواری کاموں میں استعمال نہ ہونا اور اس کا پیدا نہ ہونا یا دودھ نہ دینا ضروری ہے۔ یہ ایسی شرائط ہیں جن کی وجہ سے ان تمام معیارات پر پورا اترنے والی بچھیا کا ملنا انتہائی مشکل ہے۔
قدس کے محقق نے انکشاف کیا کہ پروجیکٹ کے منتظمین کے سامنے موجودہ مشکل یہ ہے کہ جس کسان کے پاس یہ بچھیا پیدا ہوئی اس نے شناخت کے لیے اس کے کان میں سوراخ کر دیا تھا جو مطلوبہ خصوصیات کے مطابق نہ ہونے کا باعث بن سکتا ہے۔ ’ہیکل انسٹی ٹیوٹ‘ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق کان میں لگائی گئی شناخت کو چند دن بعد ہٹا دیا گیا تھا جبکہ انسٹی ٹیوٹ سے وابستہ ماہرین کان کے بھرنے کے عمل کی نگرانی کر رہے ہیں تاکہ اس بات کو یقینی بنایا جا سکے کہ کوئی ایسا نشان نہ رہ جائے جو مستقبل میں اس کی اہلیت پر اثر انداز ہو۔
ابحیص نے اشارہ کیا کہ انسٹی ٹیوٹ نے بچھیا کا نام ’تمیمہ‘ رکھا ہے اور اس کی حالت کی نگرانی کے لیے ایک خصوصی تعلیمی اجلاس کا اہتمام کیا ہے۔ یہ اقدام ظاہر کرتا ہے کہ ہیکل کی تنظیمیں اس منصوبے پر کتنا زیادہ انحصار کر رہی ہیں کیونکہ یہ مسجد اقصی سے متعلق نئے مذہبی حقائق مسلط کرنے اور نام نہاد ہیکل کی تعمیر کے منصوبوں کی ان کی مسلسل کوششوں کا حصہ ہے۔
