لندن – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) برطانوی اپیل عدالت نے ’فلسطین ایکشن‘ نامی گروپ پر پابندی کے فیصلے کو برقرار رکھا ہے۔ یہ گروپ قابض اسرائیل کے ساتھ لین دین کرنے والی کمپنیوں کے خلاف احتجاج منظم کرنے کے لیے جانا جاتا ہے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اس گروپ کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کا فیصلہ قانونی ضوابط کے مطابق کیا گیا تھا۔
یہ فیصلہ برطانوی وزارتِ داخلہ کی اس اپیل کے جواب میں آیا ہے جو ہائی کورٹ کے اس سابقہ فیصلے کے خلاف دائر کی گئی تھی جس میں گروپ کو ممنوعہ تنظیموں کی فہرست میں شامل کرنے کو غیر قانونی قرار دیا گیا تھا۔
عدالت کی سربراہ جج سو کار نے فیصلہ سناتے ہوئے گروپ پر پابندی کے وزارتِ داخلہ کے فیصلے کی قانونی حیثیت کی توثیق کی۔ فیصلے کے بعد عدالت کے باہر جمع ہونے والے درجنوں فلسطینی حامی مظاہرین میں شدید مایوسی پھیل گئی۔
’فلسطین ایکشن‘ ایسی احتجاجی مہمات منظم کرنے کے لیے مشہور ہے جو ان کمپنیوں اور اداروں کو نشانہ بناتی ہیں جن پر گروپ کا الزام ہے کہ وہ قابض اسرائیل کی حمایت کر رہے ہیں یا اس کے ساتھ تعاون سے منافع کما رہے ہیں۔ گذشتہ برسوں کے دوران گروپ کی سرگرمیاں براہِ راست میدانی کارروائیوں کے ذریعے نمایاں رہی ہیں۔
جون سنہ 2025ء میں گروپ کے کارکنوں نے برطانوی ’پرائز نورٹن‘ فضائی اڈے کے اندر ایک احتجاجی کارروائی کی۔ وہ اڈے کے احاطے میں داخل ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے جس کے بعد انہوں نے فوجی طیاروں کے انجنوں پر سرخ رنگ سپرے کیا اور احاطے کے اندر فلسطینی پرچم لہرایا۔
اس واقعے کے بعد حکومت نے تیزی سے اقدامات کیے اور اس وقت کی برطانوی وزیرِ داخلہ ایویٹ کوپر نے گروپ پر پابندی کا عمل شروع کیا جس کے بعد جولائی سنہ 2025ء میں یہ فیصلہ باضابطہ طور پر نافذ ہو گیا۔
پابندی کے نفاذ کے بعد سے ’ڈیفینڈ آور جیوریز‘ (Defend Our Juries) نامی گروپ نے ’فلسطین ایکشن‘ کی حمایت میں یکجہتی کی ایک سیریز منظم کی ہے جس کے نتیجے میں کئی شرکاء کو ایک ممنوعہ تنظیم کی حمایت کے الزامات کے تحت گرفتار بھی کیا گیا۔
برطانوی قوانین کے تحت کسی بھی ممنوعہ تنظیم کی حمایت یا رکنیت ثابت ہونے پر چودہ سال قید تک کی سزا ہو سکتی ہے۔
برطانوی ہائی کورٹ نے گذشتہ تیرہ فروری سنہ 2026ء کو وزارتِ داخلہ کے فیصلے کو غیر قانونی قرار دے کر اسے کالعدم کرنے کا حکم دیا تھا تاہم حکومت نے قانونی حق استعمال کرتے ہوئے اپیل دائر کر دی تھی۔ اس عرصے کے دوران برطانوی پولیس نے تصدیق کی تھی کہ وہ عدالتی کارروائی مکمل ہونے اور حتمی فیصلہ آنے تک گروپ کے کچھ حامیوں کو گرفتار کرتی رہے گی۔
عدالتِ اپیل کا یہ فیصلہ برطانوی حکومت اور ’فلسطین ایکشن‘ کے حامیوں کے درمیان جاری قانونی جنگ کا تازہ ترین موڑ ہے۔ یہ فیصلہ احتجاجی کارروائیوں کی حدود اور سکیورٹی و انسدادِ انتہا پسندی کے قوانین کے تحت سرگرم گروہوں کی درجہ بندی پر جاری بحث کے درمیان سامنے آیا ہے۔
