Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

حماس نے ایران-امریکہ جنگ بندی معاہدے کو مثبت قدم قرار دے دیا

دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے امریکہ اور ایران کے مابین مختلف محاذوں پر فوجی کارروائیاں روکنے سے متعلق مفاہمت کی یادداشت کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ یہ معاہدہ خطے میں استحکام کو فروغ دینے اور کشیدگی کم کرنے کی جانب ایک قدم ثابت ہوگا۔

جماعت نے ایک پریس بیان میں کہا ہے کہ وہ پرامید ہے کہ اس معاہدے کے مثبت اثرات خطے کے اہم مسائل پر مرتب ہوں گے، جن میں سب سے پہلے غزہ کی پٹی پر جاری قابض اسرائیل کی جارحیت کا فوری خاتمہ اور لبنان سمیت دیگر تمام محاذوں پر ہونے والے حملوں اور خلاف ورزیوں کا سدِ باب شامل ہے۔

’حماس‘ نے اس بات پر زور دیا کہ خطے میں امن اور استحکام کا حصول اسی وقت ممکن ہے جب اس نسل کشی، بھوک و افلاس اور بے دخلی کی جنگ کو ختم کیا جائے جس کا سامنا غزہ کی پٹی کے فلسطینی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ ان تنازعات کی جڑوں کا علاج بھی ضروری ہے جن کا تعلق قابض اسرائیل کے تسلط کے برقرار رہنے اور فلسطینی عوام کو ان کے قومی حقوق سے محروم رکھنے سے ہے۔

حماس نے ایران کی قیادت اور عوام کو ان کی ثابت قدمی اور دباؤ و چیلنجوں کے سامنے اپنے قومی حقوق اور مفادات کے تحفظ پر مبارکباد پیش کی اور کہا کہ اسی ثابت قدمی نے خطے میں سیاسی احکامات اور تسلط کے منصوبوں کو مسلط کرنے کی کوششوں کو ناکام بنانے میں کردار ادا کیا ہے۔

’حماس‘ کا یہ موقف پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے تک پہنچنے کے اعلان کے بعد سامنے آیا ہے، جس میں لبنان سمیت مختلف محاذوں پر کارروائیوں کو فوری اور مستقل طور پر روکنا شامل ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ’ایکس‘ پلیٹ فارم پر ایک پوسٹ میں وضاحت کی کہ یہ معاہدہ امریکہ اور ایران کے درمیان فوجی کارروائیاں روکنے کے لیے ایک جامع تفہیم کی نمائندگی کرتا ہے، جبکہ اس پر باضابطہ دستخط کی تقریب آئندہ جمعہ انیس جون سنہ 2026ء کو سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں منعقد کی جائے گی۔

اس ضمن میں تحریک نے مزید کہا کہ کوئی بھی علاقائی انتظامات یا بین الاقوامی مفاہمت اس وقت تک حقیقی استحکام حاصل نہیں کر سکتی جب تک کہ فلسطینی عوام کے خلاف قابض اسرائیل کی جارحیت کا خاتمہ نہ ہو اور شہریوں کے خلاف جاری خلاف ورزیوں کو نہ روکا جائے۔

قابض اسرائیلی فوج سات اکتوبر سنہ 2023ء سے غزہ کی پٹی پر اپنی جنگ جاری رکھے ہوئے ہے۔ اس دوران فوجی کارروائیوں، محاصرے اور بنیادی ڈھانچے و شہری سہولیات کو نشانہ بنائے جانے کے نتیجے میں غزہ کی انسانی صورتحال کے مزید ابتر ہونے کی تنبیہات میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔

فلسطینی سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، اکتوبر سنہ 2025ء میں شرم الشیخ میں عرب اور امریکی ثالثی سے طے پانے والے غزہ جنگ بندی معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیاں بھی جاری ہیں، جس کے نتیجے میں گذشتہ مہینوں کے دوران سینکڑوں افراد شہید اور زخمی ہو چکے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan