Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

غزہ

روحِ مزاحمت کا لافانی سفر، فلسطینی جدوجہد کے نئے زاویے

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) جب جلی حروف میں لکھی جانے والی خبروں یا سفاکیت کے کسی عارضی معرکے کے شور میں مظلوم فلسطین کے مقدس منظرنامے کو قید کرنے کی کوشش کی جاتی ہے تو وہ بنیادی اور سب سے اہم حقیقت نظروں سے اوجھل ہو جاتی ہے جس پر اس پورے ہنگامے کی بنیاد ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ فلسطینی مزاحمت کی داستان دراصل ایک طویل اور پرپیچ سفرِ عشق ہے، جس کا پودا برطانوی استعمار کے تاریک سائے میں بویا گیا، نکبہ کے ناسور نے اسے رستا ہوا خون دیا، اور پھر قابض صہیونی دشمن کے بے رحم تسلط نے اسے بقا کی جنگ، ابدی شناخت کا استعارہ اور ایک ایسے سیاسی حق کی لازوال مساوات میں تبدیل کر دیا جس کے آگے وقت کی بساط بھی سرنگوں ہے۔ اسی لیے تاریخِ مزاحمت کے ان اوراق کو پلٹنا محض ماضی کا نوحہ نہیں، بلکہ اس گم گشتہ سچائی کی بازیافت ہے جسے دنیا کے جابر اور تسلط پسند بیانیوں نے ہمیشہ خاک میں ملانے کی ناپاک جسارت کی ہے۔

نکبہ کے سیاہ بادلوں سے قبل کی سحر انگیز مزاحمت

فلسطینیوں کے دستِ دعا میں چھپی مہم جوئی کا آغاز سنہ 1948ء کے المیے سے ہوا اور نہ ہی سنہ 1967ء کے سیاہ قبضے کی کوکھ سے، بلکہ یہ شعلہ تو خود غاصب صہیونی ریاست کے ناپاک جنم سے بھی پہلے پوری آب و تاب سے روشن تھا۔ عثمانی دورِ حکومت کے آخری ایام اور پھر برطانوی استبدادکے سائے میں فلسطینی عوام کو ایک ایسے منظم اور مکارانہ استعماری عفریت کا سامنا تھا جسے دنیا کی تمام بڑی سیاسی، عسکری اور مالی طاقتوں کا تحفظ حاصل تھا۔ یہاں حق و باطل کا پہلا ٹکراؤ بہت پہلے ہی وقوع پذیر ہو چکا تھا، کیونکہ مٹی سے جڑے ان دیہات اور شہروں کے باسیوں نے بھانپ لیا تھا کہ یہ کوئی معمولی انتظامی قضیہ نہیں، بلکہ ایک ایسا بھیانک متبادل منصوبہ ہے جس کا مقصد ان کے وجود کو ہی اپنی آبائی زمین سے جڑ سے اکھاڑ پھینکنا ہے۔

صہیونی مکر و فریب کے خلاف فلسطینیوں کے سینہ سپر ہونے کی تاریخ ایک صدی سے زیادہ پرانی ہے۔ سنہ 1891ء کا ذکر ہے جب مقبوضہ بیت المقدس کے غیرت مند معززین نے آستانہ میں صدر اعظم کی بارگاہ میں ایک تڑپتی ہوئی احتجاجی یادداشت پیش کی، جس میں ان سے یہ دلدوز التجا کی گئی تھی کہ وہ مداخلت کریں اور اس پاک سرزمیں پر یہودیوں کی ناجائز منتقلی اور فلسطینی زمینوں پر ان کے مالکانہ حقوق کو ممنوع قرار دیں۔ پھر اگلا ہی سال تھا جب الخضیرہ اور ملبس (بتاح تکفا) جیسے شاداب دیہات کے غیور باسیوں نے اپنی ہی زمینوں پر صہیونی بستیوں کے ناسور کو پھیلتے دیکھا، تو ان کی رگوں کا خون ابل پڑا اور انہوں نے ان ناپاک بستیوں پر مسلح دھاوا بول دیا، جس میں دونوں جانب لاشیں گریں۔ اسی پرآشوب دور میں یورپی اخبارات کے صفحات پر صہیونی قلمکاروں کی وہ تحریریں لرزتے ہوئے حروف کے ساتھ نمودار ہوئیں، جن میں وہ دنیا کو ایک ایسے قریبی عرب انقلاب سے ڈرا رہے تھے جس کی چنگاریوں کو مظلوم عربوں نے اب دیکھنا شروع کر دیا تھا۔

گذشتہ صدی کی بیس اور تیس کی دہائیوں میں عوامی غیظ و غضب کا یہ آتش فشاں انتفاضوں، ملک گیر ہڑتالوں اور مقامی مسلح تصادم کی صورت میں پھٹ پڑا۔ سنہ 1929ء کا معرکہ دیوار براق کوئی حادثاتی یا الگ تھلگ واقعہ نہیں تھا، بلکہ یہ اس بات کا اعلانِ عام تھا کہ وطن کی مٹی کا عشق اب مقدسات کے دفاع کے الہی جذبے کے ساتھ یکجان ہو چکا ہے اور یہ وہ لافانی خصوصیت ہے جو مقبوضہ بیت المقدس اور مسجدِ اقصیٰ کی فضاؤں میں آج بھی خوشبو بن کر مہک رہی ہے۔ پھر سنہ 1936ء سے سنہ 1939ء کا وہ دور آیا جب عظیم فلسطینی انقلاب نے جنم لیا، جس نے ابتدائی فلسطینی جدوجہد کی تاریخ میں جرأت و بہادری کا ایک ایسا سنہرا باب رقم کیا جس کی مثال نہیں ملتی۔ وہ پہروں لمبی ہڑتالیں، وہ معاشی بائیکاٹ اور پہاڑوں کی اوٹ اور دیہات کی گلیوں سے اٹھنے والی فدائی کارروائیاں، ان سب نے پکار پکار کر دنیا کو بتا دیا کہ فلسطینیوں نے اس غاصبانہ استعماری منصوبے کو کبھی بھی تسلیم نہیں کیا۔

مگر تاریخ کا یہ رخ ایک انتہائی تلخ اور دلدوز سچائی کو بھی برہنہ کرتا ہے کہ غیور فلسطینیوں کا سامنا محض چند بدقماش صہیونی ٹولیوں سے نہیں تھا، بلکہ ان کا مقابلہ اس وقت کی فرعونِ وقت برطانوی طاقت سے تھا، جس نے اس پاکیزہ انقلاب کو انتہائی سفاکیت سے کچلنے کے لیے اپنے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کیے اور فلسطینی عوام کے سیاسی، سماجی اور قیادت کے پورے ڈھانچے کو نیست و نابود کر دیا۔ اس سوچے سمجھے اور منظم قتلِ عام نے فلسطینیوں کے تنظیمی ڈھانچے پر وہ گہرے زخم چھوڑے جن کا خمیازہ بعد میں نکبہ کی صورت میں بھگتنا پڑا۔

زلزلۂ نکبہ اور روحِ مزاحمت کا نیا قالب

سنہ 1948ء کا وہ منحوس سال محض ایک عسکری شکست کا نام نہیں تھا، بلکہ وہ تو ایک بستا ہوا چمن اجڑنے، ماؤں کی گودیں سونی ہونے اور ایک پورے مروّجہ مجمعے کی جڑیں کاٹ کر انہیں اپنے ہی وطن کے اندر اور باہر پناہ گزینوں اور بے گھر درماندگان کی بھیڑ میں تبدیل کر دینے کا ایک قیامت خیز لمحہ تھا۔ اس بدلی ہوئی وحشت ناک حقیقت نے مزاحمت کے بہتے دھارے کا رخ بھی موڑ دیا۔ جو بدنصیب سنہ 1948ء کے مقبوضہ فلسطین کی دیواروں کے اندر قید رہ گئے، انہیں ایک ایسے بدترین نظام کا سامنا کرنا پڑا جس کی بنیاد ہی زمینوں کی ضبطی، نسل پرستانہ امتیاز اور سفاکانہ جبر پر تھی، اور جنہوں نے غزہ کی پٹی، مغربی کنارے اور تپتے ہوئے عرب صحراؤں میں پناہ لی، وہ اپنے سینوں میں برباد شدہ دیہات کی دہکتی ہوئی یادیں اور حقِ واپسی کا وہ انمول جذبہ لے کر چلے جو کسی دنیاوی سودے بازی کا محتاج نہیں تھا۔

پچاس کی دہائی کے اواخر میں سرحدوں پر خاردار تاروں کو چیرتی ہوئی دراندازیوں اور خونریز جھڑپوں کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، جس کا واحد مقصد اپنی چھینی ہوئی املاک اور مٹی کو ایک بار چھو کر چومنا تھا. دیکھتے ہی دیکھتے اس تڑپ نے ایک منظم اور دلیرانہ فدائی شکل اختیار کر لی۔ اب یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی تھی کہ نکبہ کا زلزلہ فلسطینی نصب العین کو دفن نہیں کر سکا، بلکہ اس نے تو اسے ایک نئے اور ارفع دور میں داخل کر دیا ہے۔ اب یہ مزاحمت محض جسم و جان کی بقا کا نام نہیں تھی، بلکہ یہ ایک غصب شدہ جنتِ وطن کو ظالم کے چنگل سے چھڑانے کا مقدس ترین ارادہ بن چکی تھی۔

اس کٹھن موڑ پر بھی فلسطینیوں کی قومی شناخت کا جنازہ نہ اٹھ سکا، جیسا کہ ان کے ازلی دشمن کی خواہش تھی۔ اس کے برعکس ان کسمپرسی کے مارے پناہ گزین کیمپوں، جلاوطنی کے اندھیروں اور محرومیوں کی تپش نے ایک ایسا فولادی اجتماعی شعور پیدا کیا جو پہلے سے کہیں زیادہ مضبوط اور لازوال تھا۔ اس عظیم نقصان کے ملبے سے یہ آفاقی سوچ ابھری کہ فلسطینی عوام محض امدادی کیمپوں کے پناہ گزین نہیں ہیں، بلکہ وہ ایک لافانی، تاریخی اور سیاسی کاز کے اصل وارث ہیں۔

فدائی تحریک کا عروج اور قومی شناخت کی شیرازہ بندی

گذشتہ صدی کی ساٹھ کی دہائی میں فلسطینی مزاحمت کا کارواں ایک نئے اور منظم موڑ پر آ کھڑا ہوا، جہاں قومی تحریکوں کے پرچم لہرائے گئے اور تنظیم آزادیِ فلسطین (پی ایل او) کی بنیاد رکھی گئی. پھر سنہ 1967ء کی دلشکن شکست کے بعد فدائی عمل کو ایک نئی زندگی ملی۔ تاریخی فلسطین کے بقیہ جگر گوشوں، یعنی مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور مقبوضہ بیت المقدس پر غاصبوں کے منحوس سائے منڈلانے لگے تو یہ سچائی کھل کر سامنے آ گئی کہ اب معرکہ آرائی ہمہ جہت ہو چکی ہے اور صرف عرب حکومتوں کے سست دلاسوں پر تکیہ کرنا خودکشی کے مترادف ہے۔

فلسطینیوں کے مختلف نظریاتی دھڑے ایسے سیاسی اور عسکری فریم ورک کے طور پر نمودار ہوئے جنہوں نے آزادیِ کامل کے مقدس منصوبے کا علم اپنے ہاتھوں میں تھام لیا۔ اردن، لبنان، شام اور دنیا کے دیگر حصوں میں پھیلے پناہ گزین کیمپ اور جلاوطنیاں اب محض مظلومیت کا رونا رونے کی جگہ نہیں رہیں، بلکہ وہ فدائیوں کی تربیت اور تنظیم سازی کے فولادی میدانوں میں تبدیل ہو گئیں۔ یہ فدائی عمل محض بندوق کی گولی کا نام نہیں تھا، بلکہ یہ تو برسوں کی پسماندگی، بے حسی اور غیروں کی سرپرستی کی زنجیروں کو توڑ کر ایک آزاد اور خود مختار فلسطینی فیصلے کی بحالی کا اعلانِ جنگ تھا۔

اس عہد نے جذبے کا ایک ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر دیکھا، لیکن یہ سفر خاردار راہوں سے پاک نہیں تھا۔ عرب حکومتوں کے ساتھ خونیں تصادم، دھڑوں کے مابین فکری و تنظیمی اختلافات کی خلیج اور مادی قوت کے توازن کا دشمن کے حق میں جھکاؤ، یہ وہ سب طوفان تھے جنہوں نے اس کشتیِ مزاحمت کو ڈانوا ڈول کرنے کی کوشش کی۔ تاہم، ان کٹھن برسوں نے یہ بات پتھر پر لکیر کر دی کہ فلسطینی اب تاریخ کا کوئی بے بس مقتول یا لاچار متاثرہ فرد نہیں رہا جو باہر سے کسی مسیحا کا انتظار کرے، بلکہ وہ اپنے نصیب کا خود فیصلہ کرنے والا ایک توانا سیاسی کردار بن چکا ہے۔

براہِ راست سفاکیت کے سائے میں مزاحمت کی نئی سحر

سنہ 1967ء کے منحوس سورج کے طلوع ہونے کے بعد غزہ، مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس پر قابض اسرائیل کا قبضہ براہِ راست ہو گیا، اور اس بدترین تسلط نے معرکے کی پوری بساط ہی الٹ دی۔ اب یہ جنگ صرف دور دراز سرحدوں یا جلاوطنی کے ویرانوں سے نہیں لڑی جا رہی تھی، بلکہ یہ تو اب مظلوموں کے کیمپوں، جامعات کے دالانوں، شہر کی گلیوں اور دیہات کے کچے مکانوں کے اندر سے پھوٹ رہی تھی۔ یہاں مزاحمت نے حُسنِ تدبیر کے کئی روپ دھارے: کہیں گولیوں کی گھن گرج، کہیں عوامی تنظیموں کا جال، کہیں نئی نسل کو دی جانے والی قومی تعلیم کا نور، کہیں اپنی زمین کو اپنے خون سے سینچنے کی تڑپ، اور کہیں یہودی آباد کاروں کی بستیوں کے سیلاب اور یہودیت پسندی کے بڑھتے ہوئے اندھیروں کے سامنے بند باندھنے کا عزم۔

مقبوضہ بیت المقدس ہمیشہ سے اس پورے مروّجہ نظام کا دھڑکتا ہوا دل رہا ہے اور رہے گا۔ اس مقدس شہر پر صہیونی بالادستی قائم کرنے یا مسجد الاقصیٰ کی پاکیزہ فضاؤں کو زمانی اور مکانی طور پر تقسیم کرنے کی ہر ناپاک کوشش نے مرابطین (پہرا دینے والوں) کے جذبوں کو جلا بخشی اور مقابلے کی تڑپتی ہوئی نئی لہروں کو جنم دیا۔ مغربی کنارے میں زمینوں کی چوری اور غاصب یہودی آباد کاروں کی بستیوں کے خنجر تلے سسکتے ہوئے دیہات روزانہ کی بنیاد پر کربلا کا منظر پیش کرنے لگے۔ رہی بات غزہ کی، تو اس نے شدید آبادی، بدترین محاصرے اور دشمن کی پے در پے خونی جارحیت کے باوجود ایک ایسی بے مثال مساوات قائم کی کہ وہ کائناتِ مزاحمت کا سب سے زیادہ پائیدار، مستحکم اور بااثر قلعہ بن کر ابھرا۔

یہاں ہمیں یہ بات اپنے ذہن نشین کرنی ہوگی کہ مزاحمت کی ان تمام شکلوں کے درمیان کوئی لکیر نہیں کھینچی جا سکتی، اور نہ ہی انہیں زبردستی ایک دوسرے سے جدا کیا جا سکتا ہے۔ فلسطینی عوام نے کبھی بھی کسی ایک جکڑے ہوئے سانچے میں کام نہیں کیا۔ جب سفارت کاری کے منافقانہ دروازے بند ہو جاتے ہیں تو زمین پر فدائیوں کے قدم تیز ہو جاتے ہیں، اور جب قابض دشمن اپنی سفاکیت، رات کے اندھیروں میں مارے جانے والے چھاپوں اور بے گناہوں کی گرفتاریوں میں وحشیانہ حد تک حد سے گزر جاتا ہے، تو عوامی مزاحمت سانس لینے کی طرح ایک ناگزیر روزمرہ ضرورت بن جاتی ہے۔ یہ کوئی دوہرا معیار نہیں بلکہ متعدد مہلک ہتھیاروں سے لیس استعماری عفریت کو اسی کی زبان میں دیا جانے والا دندان شکن جواب ہے۔

پہلا انتفاضہ: جب سنگ ریزے سنگِ گراں بنے

سنہ 1987ء کے آخری دنوں میں پہلا انتفاضہ ایک مقدس لاوے کی طرح پھٹ پڑا، اور یہ فلسطینی مزاحمت کی تاریخ کا وہ موڑ تھا جہاں تقدیریں بدل گئیں۔ اس انتفاضہ نے معرکے کا پورا مرکزِ ثقل دور دراز کے علاقوں سے اٹھا کر مقبوضہ اندرونِ ملک کے قلب میں منتقل کر دیا اور دنیا کو یہ حیرت انگیز منظر دکھایا کہ جب عوام کا جمِ غفیر بیدار ہوتا ہے تو وہ مقابلے کے لیے کسی مادی ہتھیار کا محتاج نہیں رہتا: پہروں لمبی ہڑتالیں، غاصب کا مکمل سماجی بائیکاٹ، عوامی کمیٹیوں کا قیام، اور ٹینکوں کے سامنے معصوم ہاتھوں میں تھامے گئے پتھروں کا وہ جادو جس نے ظلم کے ایوانوں کو ہلا کر رکھ دیا، اور اس جبر کے سامنے مقامی یکجہتی کے وہ لازوال نیٹ ورک بنے جنہوں نے تاریخ کا رخ موڑ دیا۔

پہلی انتفاضہ کی اصل طاقت اس کی سادگی میں نہیں تھی، بلکہ اس کی اس سحر انگیز صلاحیت میں تھی جس نے پوری دنیا کے سامنے قابض دشمن کے ہلاکت خیز ڈھانچے کو برہنہ کر کے رکھ دیا۔ دنیا کے جدید ترین ہتھیاروں سے لیس ایک بزدل سپاہی کے سامنے کھڑا ایک نہتا فلسطینی بچہ، دنیا کے درجنوں خطبوں اور کانفرنسوں سے زیادہ فصیح اور بلیغ بیانیے کا امین تھا۔ اس تحریک نے اس سچائی کو دوبارہ زندہ کیا کہ مزاحمت صرف عسکری تنظیموں کے چند سپاہیوں کا جاگیر نہیں، بلکہ یہ تو ایک ایسا اجتماعی اور والہانہ فعل ہے جس میں ماؤں کی ممتا، طلبہ کا جوش، مزدوروں کا پسینہ، اسیران کی تڑپ اور پورے کے پورے محلّے یکجان ہو کر حصہ لیتے ہیں۔

مگر اس کے جواب میں غاصب اور سفاک دشمن نے اندھی طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا؛ ہر طرف لاشیں گرائی گئیں، قید خانے بھر دیے گئے، معصوم بچوں کی ہڈیاں توڑ دی گئیں اور بستیاں محاصروں کی آگ میں جھونک دی گئیں۔ اس سب کے باوجود، انتفاضہ نے ایک لافانی تاریخی حقیقت کو ثبت کر دیا کہ فلسطینی عوام جب اندر سے بیدار ہو کر مٹھیاں بھینچ لیں، تو وہ استعماری منصوبے کے پرزے اڑا دیتے ہیں، خواہ ظلم کے ہتھکنڈے کتنے ہی ہلاکت خیز کیوں نہ ہوں۔

اوسلو کا سراب اور سمجھوتے کی راکھ سے اٹھتی مزاحمت

اوسلو معاہدے کے سائے نے فلسطینی افق پر ایک انتہائی پیچیدہ اور دھندلے مرحلے کا آغاز کیا۔ فکرِ رسا رکھنے والے فلسطینیوں کے لیے یہ معاہدہ آزادی کا پروانہ نہیں تھا، بلکہ یہ تو قبضے کو ایک نیا، مہذب لبادہ پہنانے کی سازش تھی جس نے دشمن کو مزید بستیوں کی تعمیر اور زمین پر نئے جغرافیائی حقائق مسلط کرنے کے لیے ایک طویل مہلت فراہم کر دی۔ فلسطینی اتھارٹی کا جنم ہی پابندیوں کے ان بھاری طوق و سلاسل کے سائے میں ہوا تھا جن کا مقصد اس کے ہاتھ پیر باندھنا تھا، جبکہ دوسری طرف قابض اسرائیل سرحدوں، زندگی کے تمام اہم وسائل، مقبوضہ بیت المقدس کے جگر اور مغربی کنارے کی دھرتی پر اپنا غاصبانہ تسلط پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کر رہا تھا۔

یہاں ایک المیہ اور تضادِ باطن کھل کر سامنے آیا: جس وقت بین الاقوامی ایوانوں میں منافقانہ امن کے راگ الاپے جا رہے تھے، عین اسی وقت دشمن کے بلڈوزر فلسطینیوں کی آبائی زمین کو بے رحمی سے نگل رہے تھے، قابض صہیونی عقوبت خانے معصوم اسیران کی چیخوں سے گونج رہے تھے اور یہودی آباد کاری کا ناسور دوگنی رفتار سے پھیل رہا تھا۔ یہی وجہ تھی کہ روحِ مزاحمت کبھی فنا نہ ہو سکی، بلکہ اس نے ایک نئے اور زیادہ جارحانہ قالب میں خود کو ڈھال لیا۔ اور پھر جب سنہ 2000ء میں دوسرے انتفاضہ کا آتش فشاں پھٹا، تو مسلح اور عوامی تصادم کا وہ طوفان اٹھا جس نے سب کچھ بدل کر رکھ دیا، خاص طور پر الاقصیٰ کی توہین اور اسرائیلی جرائم کے وحشیانہ عروج کے بعد۔

یہ دوسری انتفاضہ پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ خونی اور انسانی جانوں کے لحاظ سے بے حد مہنگا ثابت ہوا۔ اس نے بستیاں اجڑتے دیکھیں، چن چن کر کی جانے والی ٹارگٹ کلنگز کا سامنا کیا اور چومکھی تباہی کا منظر دیکھا، لیکن اس نے تاریخ کے ماتھے پر ایک بار پھر یہ سچائی لکھ دی کہ کوئی بھی ایسا سیاسی راستہ یا کج مج لائحہ عمل جو فلسطینی عوام کے بنیادی اور پیدائشی حقوق کا سودا کرے، اس کا انجام ہمیشہ مٹی میں ملنا ہی ہے۔ یہ غیرت مند لوگ مقبوضہ بیت المقدس، اپنے لاکھوں لاچار پناہ گزینوں کی واپسی اور اپنی حقیقی خودمختاری کے سودے کے بدلے کسی گداگرانہ اور محدود خودمختاری کے ٹکڑوں کو کبھی قبول نہیں کر سکتے۔

غزہ کا مقتل اور فولادی استقامت کا معجزہ

سنہ 2005ء میں جب قابض دشمن کو رسوا ہو کر غزہ کی پٹی کے اندر سے اپنے قدم اکھاڑنے پڑے اور اس کے بعد اس نے اس پورے خطے پر دنیا کا بدترین زمینی، فضائی اور سمندری محاصرہ مسلط کر دیا، تب سے غزہ معاصر فلسطینی مزاحمت کی تاریخ کا وہ روشن ترین سورج بن کر چمکا جس کی شعاعوں سے دنیا کی آنکھیں چندھیا گئیں۔ قابض دشمن نے اس چھوٹی سی پٹی کو ایک زندہ قبرستان اور ایک لاچار، ناتواں علاقے میں تبدیل کرنے کی ہر ممکن کوشش کی، لیکن فلسطینیوں کے غیور دھڑوں نے کڑی ناکہ بندی، مہیب بمباری اور بار بار کی قیامت خیز تباہی کے ملبے سے اپنے عزم کے ایسے مینار کھڑے کیے جن کی بلندی آسمان کو چھوتی ہے۔

غزہ پر مسلط کی جانے والی پے در پے لرزہ خیز جنگوں نے کائنات پر ایک بنیادی سچائی کو عیاں کر دیا کہ مزاحمت اب محض کوئی علامتی حالت یا جز وقتی احتجاج کا نام نہیں، بلکہ یہ اب ایک ایسی منظم اور باوقار طاقت بن چکی ہے جو قابض دشمن کی راتوں کی نیندیں حرام کرنے اور اس کے تمام سکیورٹی اور عسکری حساب کتاب کو تہ و بالا کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے۔ یہ سچ ہے کہ دونوں مادی طاقتوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے، اور یہ بھی سچ ہے کہ مظلوم فلسطینی اپنے معصوم بچوں کے خون، اپنے آشیانوں کی راکھ اور اپنے پورے انفراسٹرکچر کی قربانی دے کر اس عشق کی بھاری قیمت چکا رہے ہیں، لیکن یہ قربانیاں اس سچائی کو کبھی دھندلا نہیں سکتیں کہ غزہ نے اس پورے بین الاقوامی تنازع کی مساوات پر اپنی سیاسی اور میدانی موجودگی کو ایک اٹل حقیقت کی طرح مسلط کر دیا ہے۔

مگر اس کے ساتھ ہی ہمیں پوری مزاحمت کو صرف بارود کی بو اور عسکری پہلو تک محدود کرنے کی فکری غلطی سے بچنا ہوگا۔ خود غزہ نے دنیا کو استقامت اور جینے کی لگن کے وہ اچھوتے روپ دکھائے ہیں جن پر عقل دنگ ہے, آگ اور خون کی برسات کے سائے میں زندگی کا مسکرانا، ملبے کے ڈھیر پر بیٹھ کر اُمید کے دیے جلانا، اپنی یادوں کے سرمائے کو سینے سے لگا کر رکھنا اور بدترین قتلِ عام اور اپنوں کے جنازے اٹھانے کے باوجود ظالم کے سامنے گھٹنے ٹیکنے سے صاف انکار کر دینا۔ پختگی اور پامردی کا یہ مدنی اور انسانی پہلو کسی بھی طرح مسلح معرکے سے کم اہم نہیں ہے، کیونکہ یہ براہِ راست قابض دشمن کے اس سب سے گہرے اور شیطانی مقصد کا مقابلہ کرتا ہے جس کا نام ‘فلسطینی معاشرے کے عزمِ صمیم کو توڑنا’ ہے۔

اسیران، مقبوضہ بیت المقدس اور مغربی کنارا: خون کے رشتے سے جڑے ابدی میدان

فلسطینی مزاحمت کی رگوں میں دوڑتے ہوئے خون کو اس وقت تک نہیں سمجھا جا سکتا جب تک اسیرانِ عشق کے معاملے کو کماحقہ نہ پڑھا جائے۔ قابض صہیونی عقوبت خانے صرف سزا دینے یا انسانوں کو قید کرنے کی جگہ نہیں رہے، بلکہ وہ تو انقلابی شعور کی نرسریاں، نئی تنظیم سازی کے خفیہ مراکز اور بے مثال صبرو استقامت کے وہ کوہِ گراں بن چکے ہیں جن کے سامنے جیلر خود بے بس دکھائی دیتے ہیں۔ وہ مہینوں لمبی بھوک ہڑتالیں، وہ سلاخوں کے پیچھے سے لکھی جانے والی فکری دستاویزات، اور ان غیور اسیران کی قومی علامت، ان سب نے مل کر اسیر تحریک کو مزاحمت کے اس طویل سفر کا ایک لافانی اور اصیل حصہ بنا دیا ہے۔

اور پھر مقبوضہ بیت المقدس کی فضاؤں میں تو یہ معرکہ ہر لمحہ ایک نیا اور ولولہ انگیز رخ اختیار کرتا ہے، کیونکہ قابض دشمن اس شہرِ انبیا کا فیصلہ وہاں کی آبادی کا تناسب بدل کر، اس کی سیاسی حیثیت کو مسخ کر کے اور اس کے اسلامی و مذہبی تقدس کو پامال کر کے کرنا چاہتا ہے۔ الاقصیٰ کے مصلوں پر اٹھنے والی ہر پکار، پرانے شہر کی تنگ و تاریک گلیوں، شیخ جراح کے مظلوم گھروں یا سلوان کے تپتے میدانوں میں ہونے والی ہر جھڑپ اس بات کی گواہی دیتی ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کوئی ایسا کاغذ کا ٹکڑا نہیں جسے مذاکرات کی میز پر کسی سمجھوتے کی نذر کر دیا جائے، بلکہ یہ تو اس پورے کائناتی تنازع کا اصل مرکز و محور ہے۔ رہی بات مغربی کنارے کی، تو غداروں کی سکیورٹی کوآرڈینیشن اور دشمن کی مسلط کردہ بھاری پابندیوں کے لوہے کے طوق کے باوجود، اس کی مٹی ہمیشہ مزاحمت کی پے در پے طوفانی لہریں پیدا کرتی رہی ہے، جن کا سفر انفرادی فدائی کارروائیوں سے شروع ہو کر جنین، نابلس اور شمال کے پناہ گزین کیمپوں میں گونجتی ہوئی مسلح تشکیلات کے غلغلے تک پھیلا ہوا ہے۔

غزہ کی پٹی مغربی کنارے مقبوضہ بیت المقدس، مقبوضہ اندرونِ ملک اور دنیا بھر کی تلخ جلاوطنیوں کے درمیان پایا جانے والا یہ گہرا اور جاندار باہمی ربط دراصل فلسطینی تجربے کا وہ سب سے بڑا اور انمول سبق ہے جسے مٹایا نہیں جا سکتا۔ قابض دشمن دن رات اس کوشش میں رہتا ہے کہ وہ کسی طرح اس دھرتی کے جغرافیے کو ٹکڑے ٹکڑے کر دے اور ان کی قومی شناخت کو تقسیم کر دے، لیکن فلسطینیوں کی یہ لافانی مزاحمت اپنی تمام تر متنوع اور سحر انگیز شکلوں کے ساتھ دنیا کو یہ دکھا رہی ہے کہ ان کے کاز کی وحدت اور مٹی کا رشتہ دنیا کی تمام بنائی گئی سرحدوں، دیواروں اور فوجی ن checkpoints اکہ بندیوں سے کہیں زیادہ گہرا اور لازوال ہے

یہ خونچکاں تاریخ ہمیشہ کیوں کھلی رہتی ہے؟

جو شخص بھی تاریخِ فلسطین کے ان خونچکاں اوراق کا مطالعہ سچائی، دیانت اور بیدار مغزی کے ساتھ کرے گا، وہ اس نتیجے پر پہنچے بغیر نہیں رہ سکتا کہ یہ تاریخ اس لیے وجود میں آئی اور اجلی رہی کیونکہ یہاں ایک بدترین، وحشیانہ اور مسلسل استعماری منصوبہ موجود ہے، اور اس لیے کہ ایک پورے غیور مجمعے نے اپنے ہی آباؤ اجداد کے وطن میں محض ایک گزرے ہوئے واقعے کی یادگار یا ایک بے زبان اور خاموش اقلیت میں تبدیل ہونے سے صاف انکار کر دیا ہے۔

اسی لیے، عقلِ سلیم کے سامنے اصل سوال یہ نہیں ہے کہ فلسطینیوں نے اتنے طویل عرصے تک کیوں اور کیسے مزاحمت کی، بلکہ اصل سوال تو یہ ہے کہ ایک ایسا مجمع جس کی جڑیں کاٹنے کی کوشش کی جائے، جسے بدترین محاصرے کے پنجرے میں بند کر دیا جائے، جس کی نسل کشی روز کا معمول بن جائے اور جس کے شہروں کو یہودیت پسندی کے اندھیروں میں دھکیلا جا رہا ہو، وہ بھلا مزاحمت کے اس پاکیزہ راستے کو چھوڑنے کا گناہ کیسے کر سکتا تھا؟ معرکے کے اوزار بدل سکتے ہیں، وقت کے ساتھ قیادتوں کے چہرے تبدیل ہو سکتے ہیں، تاریخ کا کوئی مرحلہ طوفانی عروج پر پہنچ کر دوسرا کچھ دیر کے لیے پرسکون ہو سکتا ہے، لیکن اس پورے معرکے کا اصل جوہر کل بھی ایک تھا اور آج بھی ایک ہے: ایک مظلوم مگر غیور مجمع جو ایک ایسے شیطانی منصوبے کے سامنے اپنی مٹی، اپنے بنیادی حقوق اور اپنے سچے بیانیے کا دفاع اپنے خون سے کر رہا ہے جو اسے زمین کے نقشے سے ہمیشہ کے لیے مٹانے کا خواب دیکھ رہا ہے۔

اور وہ سچی فکر جو آج کے اس کٹھن دور میں ہر صاحبِ دل کو اپنے سینے سے لگا کر رکھنی چاہیے، وہ یہ ہے کہ اس پاکیزہ تاریخ کو روح کی گہرائی سے سمجھنا ہی ہمارے حال کو اس کے اصل معنی دیتا ہے اور یہی وہ ہتھیار ہے جو قابض دشمن کو اس پورے بیانیے پر اپنی جھوٹی اجارہ داری قائم کرنے سے روکتا ہے۔ جب تک فلسطین کی یہ داستان اس مٹی کے اصل وارثوں اور اس کے سپوتوں کی زبان سے بیان کی جاتی رہے گی، تب تک دجل و فریب سے بھرے اس دور کے جھوٹے آقاؤں کے لیے مستقبل کی تاریخ میں تحریف اور سچائی کو مسخ کرنے کی کوئی گنجائش کبھی باقی نہیں رہے گی۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan