غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونی دشمن کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل خلاف ورزیوں کے نتیجے میں آج منگل کے روز وسطی غزہ کی پٹی میں واقع المغازی کیمپ پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے سبب پانچ معصوم شہری جامِ شہادت نوش کر گئے اور متعدد دیگر شدید زخمی ہو گئے۔
مقامی ذرائع نے رپورٹ دی ہے کہ قابض اسرائیل کے جنگی طیاروں نے آج صبح غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع المغازی کیمپ میں بے گناہ شہریوں کے ایک گروپ کو اندھا دھند نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 5 شہری شہید اور کئی زخمی ہو گئے۔
ذرائع کے مطابق قابض اسرائیل کی جانب سے یہ وحشیانہ بمباری دراصل اپنے ان کٹھ پتلی گماشتوں اور سہولت کاروں کو تحفظ فراہم کرنے کے لیے کی گئی جنہوں نے اس علاقے میں نہتے فلسطینی شہریوں کے گھروں پر دھاوا بولنے کی ناپاک کوشش کی تھی اور جب بہادر شہریوں نے ان کا راستہ روکا تو قابض اسرائیل کے ڈرون طیاروں نے شہریوں پر براہ راست بارود برسا دیا۔
دوسری طرف رادع فورسز(ڈیٹرنس فورس) نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے اپنے غیور عوام کی مدد سے ان غدار گماشتوں کے گروہوں کا ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے جنہوں نے وسطی گورنری کے مشرق میں قابض اسرائیل کی فضائی اور زمینی فائرنگ کی چھتری تلے یلو لائن (زرد لکیر) کو عبور کرنے کی مذموم کوشش کی تھی۔
اس کے ساتھ ہی قابض اسرائیل کے سفاک جنگی طیاروں نے غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع اسی المغازی کیمپ میں ایک اور رہائشی مکان پر بمباری کر کے اسے ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
اس سے قبل مقامی ذرائع نے بتایا تھا کہ 15 سالہ معصوم بچی فاطمہ محمد عبد الہادی الخطیب مواصی خان یونس میں واقع غیث کیمپ پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں لگنے والے زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر چکی ہے۔
علاوہ ازیں نصیرات کے کیمپ نمبر 5 میں گذشتہ رات قابض اسرائیل کے طیاروں کی شدید اور بے رحم بمباری کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی جہاں دشمن نے پورا رہائشی بلاک صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔
ہمارے نامہ نگار نے رپورٹ دی ہے کہ اس بزدلانہ بمباری کے نتیجے میں متعدد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ کئی دوسرے مکانات کو شدید نقصان پہنچا اور ان میں سے بیشتر مکانات مأہول یعنی شہریوں سے آباد تھے جو غاصب دشمن کی جانب سے اپنے ہدف کو وسعت دینے اور عام شہریوں کے بڑے پیمانے پر نقصان کی ہولناک سفاکیت کا واضح ثبوت ہے۔
اسی پس منظر میں عینی شاہدین نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرقی حصے میں مورچہ بند قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سے انتہائی شدید اور اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔
ادھر گذشتہ رات خان یونس میں پولیس اہلکاروں کا ایک گروپ اس وقت بال بال بچ گیا جب قابض دشمن کے ایک ڈرون طیارے نے انہیں نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی۔
قابض اسرائیل کی سفاک افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں اور مظلوم پناہ گزینوں کی خیمہ بستیوں اور پناہ گاہوں پر فضائی و توپ خانے سے بمباری کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے جبکہ نام نہاد یلو لائن کے اندر گھروں کو بارود سے اڑانے اور مکمل تباہ کرنے کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سامانِ خوردونوش، امدادی قافلوں کی آمد اور شہریوں کے سفر پر سخت ترین پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔
فلسطینی وزارتِ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2023ء سے سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک غاصب دشمن کی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 913 ہو چکی ہے جبکہ 2713 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں اور ملبے کے نیچے سے اب تک 777 شہدا کے جسدِ خاکی نکالے جا چکے ہیں۔
اس نسل کشی کی شروعات یعنی سات اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر اب تک اس وحشیانہ جارحیت کے مجموعی نقصانات کی تعداد 72,805 شہدا اور 172,821 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے یہ ہولناک ترین اعداد و شمار غزہ کی پٹی پر قابض دشمن کی مسلسل جاری سفاکیت اور خونریزی کی بھاری انسانی قیمت کو واضح طور پر آشکار کرتے ہیں۔
