Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

خان یونس میں تباہ کن اسرائیلی حملہ، معصوم بچی شہید

خانیونس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونی دشمن کی جانب سے سیز فائر کی مسلسل سنگین خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری ہے، جس کے دوران خان یونس میں قابض اسرائیل کی گذشتہ روز کی بمباری سے شدید زخمی ہونے والی ایک معصوم بچی زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جامِ شہادت نوش کر گئی۔ دوسری جانب قابض فوج کے جنگی طیاروں نے گذشتہ رات غزہ کی پٹی کے وسط میں واقع نصیرات کیمپ میں ایک پورے رہائشی بلاک پر اندھا دھند بمباری کر کے اسے ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔

مقامی ذرائع نے تصدیق کی ہے کہ 15 سالہ معصوم بچی فاطمہ محمد عبد الہادی الخطیب زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئی ہے۔ یہ بچی مواصی خان یونس میں واقع غیث کیمپ پر قابض اسرائیل کی وحشیانہ بمباری کے نتیجے میں شدید زخمی ہوئی تھی۔

اس ہولناک صورتحال کے ساتھ ساتھ نصیرات کے کیمپ نمبر 5 میں گذشتہ رات قابض فوج کے طیاروں کی شدید اور بے رحم بمباری کے بعد بڑے پیمانے پر تباہی دیکھی گئی، جہاں دشمن نے پورا رہائشی بلاک صفحہ ہستی سے مٹا دیا۔

ہمارے نامہ نگار نے رپورٹ دی ہے کہ اس بزدلانہ بمباری کے نتیجے میں متعدد رہائشی مکانات مکمل طور پر تباہ ہو گئے جبکہ کئی دیگر مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔ ان میں سے بیشتر مکانات میں مظلوم شہری رہائش پذیر تھے، جو غاصب دشمن کی جانب سے اپنے ہدف کو وسعت دینے اور عام شہریوں کے بڑے پیمانے پر نقصان کی ہولناک سفاکیت کا واضح ثبوت ہے۔

اسی پس منظر میں عینی شاہدین نے بتایا کہ غزہ کی پٹی کے جنوب میں واقع شہر خان یونس کے مشرقی حصے میں مورچہ بند قابض اسرائیل کی فوجی گاڑیوں اور ٹینکوں سے انتہائی شدید اور اندھا دھند فائرنگ کی آوازیں سنی گئی ہیں۔

ادھر گذشتہ رات خان یونس میں پولیس اہلکاروں کا ایک گروپ اس وقت بال بال بچ گیا جب قابض دشمن کے ایک ڈرون طیارے نے انہیں نشانہ بنانے کی مذموم کوشش کی۔

قابض اسرائیل کی سفاک افواج غزہ کی پٹی میں سیز فائر کے معاہدے کی مسلسل دھجیاں اڑا رہی ہیں۔ مظلوم پناہ گزینوں کی خیمہ بستیوں اور پناہ گاہوں پر فضائی و توپ خانے سے بمباری کا سلسلہ بلا روک ٹوک جاری ہے، جبکہ نام نہاد یلو لائن (زرد لکیر) کے اندر گھروں کو بارود سے اڑانے اور مکمل تباہ کرنے کی کارروائیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ سامانِ خوردونوش، امدادی قافلوں کی آمد اور شہریوں کے سفر پر سخت ترین پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

فلسطینی وزارتِ صحت کے سرکاری اعداد و شمار کے مطابق، گذشتہ دس اکتوبر سنہ 2023ء سے سیز فائر کے نفاذ کے بعد سے اب تک غاصب دشمن کی جارحیت کے نتیجے میں شہید ہونے والے مظلوم فلسطینیوں کی تعداد بڑھ کر 909 ہو چکی ہے، جبکہ 2713 افراد شدید زخمی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ملبے کے نیچے سے اب تک 777 شہدا کے جسدِ خاکی نکالے جا چکے ہیں۔

اس نسل کشی کی شروعات یعنی سات اکتوبر سنہ 2023ء سے لے کر اب تک اس وحشیانہ جارحیت کے مجموعی نقصانات کی تعداد 72,801 شہدا اور 172,821 زخمیوں تک پہنچ چکی ہے۔ یہ ہولناک ترین اعداد و شمار غزہ کی پٹی پر قابض دشمن کی مسلسل جاری سفاکیت اور خونریزی کی بھاری انسانی قیمت کو واضح طور پر آشکار کرتے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan