جنوبی لبنان – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غاصب صہیونی دشمن کے جنگی طیاروں نے جنوبی لبنان کے شہر صور میں واقع الرشیدیہ پناہ گزین کیمپ کے اندر ایک رہائشی عمارت پر وحشیانہ بمباری کی ہے، جہاں ہزاروں مظلوم اور بے وطن فلسطینی پناہ گزین مقیم ہیں۔
قابض اسرائیل کی اس سفاکانہ بمباری نے کیمپ کے اندر موجود نہتے شہریوں، معصوم بچوں اور خواتین میں خوف و ہراس اور شدید دہشت کی لہر دوڑا دی ہے، خصوصاً اس وجہ سے کہ یہ کیمپ ایک انتہائی تنگ جغرافیائی رقبے پر محیط ہے اور یہاں ہزاروں بے کس فلسطینی خاندان انتہائی گنجان آبادی کی صورت میں کسمپرسی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
صہیونی دشمن کی اس وحشیانہ غارت گری کے نتیجے میں معصوم شہریوں کو اپنی جانیں بچانے کے لیے کیمپ کے اندر دوسرے حصوں اور کیمپ سے باہر محفوظ مقامات کی طرف جزوی طور پر ہجرت اور جبری نقل مکانی کرنی پڑی ہے۔
واضح رہے کہ الرشیدیہ کیمپ صور کے علاقے میں فلسطینی پناہ گزینوں کے سب سے بڑے کیمپوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں کے مکین شدید گنجان آبادی، تباہ حال بنیادی ڈھانچے اور بنیادی خدمات کے فقدان کے باعث پہلے ہی بدترین انسانی اور معاشی مشکلات جھیل رہے ہیں، یہی وجہ ہے کہ کیمپ کے اندر کسی بھی قسم کا عسکری نشانہ ان مظلوموں کی تباہی اور خطرات کو کئی گنا بڑھا دیتا ہے۔
اس مجرمانہ حملے سے قبل قابض اسرائیل کی فوج نے پیر کے روز جنوبی لبنان کے الرشیدیہ کیمپ کے ایک پورے محلے کے غریب باسیوں کو حزب اللہ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا جھوٹا اور من گھڑت بہانہ بنا کر فوری طور پر گھر بار چھوڑنے کا ظالمانہ انتباہ جاری کیا تھا، صہیونی طیاروں نے جس عمارت کو بارود کا ڈھیر بنایا اس میں پانی کا ایک کنواں، زرعی زمین اور کنویں کو چلانے کے لیے سولر انرجی کے پینل نصب تھے، یہ وہی کنواں ہے جو کیمپ کے شمالی حصے کے پیاسے شہریوں کو پینے کا پانی فراہم کرتا تھا۔
صہیونی دشمن کی یہ نئی بربریت گذشتہ 17 اپریل کو نافذ ہونے والے اور آنے والے جولائی کے آغاز تک ممدد سیز دائر (یا جنگ بندی) کے اس کمزور معاہدے کی ان مسلسل اور مکرر خلاف ورزیوں کا حصہ ہے جو قابض اسرائیل کی طرف سے روز کا معمول بن چکی ہیں۔
