Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

غزہ کے طبی مراکز میں تکلیف اور بحران عروج پر ہے: برطانوی ڈائریکٹر

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ کی پٹی پر غاصب صہیونی دشمن ریاست کی طرف سے مسلط کردہ ہولناک جنگ اور فلسطینیوں کی نسل کشی کو بے نقاب کرنے والی فلم “غزہ۔۔ اطباء تحت القصف” (غزہ کے ڈاکٹر بمباری کے سائے میں) سنہ 2026ء کے لیے دنیا بھر کے موجودہ حالات پر بننے والی بہترین دستاویزی فلم کے طور پر برطانوی اکیڈمی برائے فلم اینڈ ٹیلی ویژن آرٹس “بافتا” ایوارڈ جیتنے کے بعد ایک بار پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ یہ ایوارڈ بین الاقوامی ٹیلی ویژن کی دنیا کے معتبر ترین اعزازات میں سے ایک مانا جاتا ہے۔

اس فلم پر کام کا آغاز سنہ 2023ء کے اواخر میں ہوا تھا جب پروڈکشن ٹیم نے ڈاکٹر تانیا حاج حسن سے رابطہ کیا، جنہوں نے ٹیم کو ان ڈاکٹروں اور پیرامیڈیکل اسٹاف کے بارے میں چشم دید گواہیاں اور دردناک کہانیاں فراہم کیں جنہیں قابض اسرائیل کے جلاد فوجی غزہ کی پٹی کے اندر سے اغوا کر کے نامعلوم مقامات پر لے گئے تھے اور اس کے بعد سے ان کا کوئی سراغ نہیں ملا۔ ان تفصیلات کا انکشاف فلم کے ڈائریکٹر کریم شاہ نے الجزیرہ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کیا۔

کریم شاہ نے بتایا کہ شروع میں اس منصوبے کا مقصد صرف ان لاپتہ طبی کارکنوں کی قسمت کو دستاویزی شکل دینا تھا جنہیں اغوا کیا گیا تھا، لیکن غزہ میں سنگین حالات اور صہیونی مظالم میں اضافے کے ساتھ ہی اس کام کا دائرہ وسیع ہوتا چلا گیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ فلم کا آغاز تو جنگ کے دوران غائب ہونے والے ڈاکٹروں اور طبی عملے کی کھوج لگانے کی کوشش سے ہوا تھا لیکن اس کا اختتام اس ہولناک حقیقت کو دستاویزی شکل دینے پر ہوا جسے “نسل کشی” کہا جاتا ہے، کیونکہ پروڈکشن ٹیم نے غزہ کی پٹی پر مسلط جنگ کے دوران ناقابلِ تردید شواہد اور دل ہلا دینے والے حقائق جمع کر لیے تھے۔

کریم شاہ نے ایک بڑا انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ اس فلم کی مالی معاونت اور تیاری کا آرڈر برطانوی نشریاتی ادارے (بی بی سی) نے دیا تھا، لیکن مہینوں کی ٹال مٹول اور تاخیر کے باوجود اسے بی بی سی کی اسکرین پر نشر نہیں کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ برطانوی ادارے کے قدم اس وقت ڈگمگانے لگے جب فلم کا مکمل اور واضح رخ سامنے آ گیا اور اس نے صہیونی سفاکیت کا پردہ چاک کر دیا، جس کے بعد بالاخر گذشتہ سال اس فلم کو برطانوی چینل 4 کے ذریعے نشر کیا گیا۔

انہوں نے اشارہ کیا کہ وہ برطانوی عوام کے اس فلم کے ساتھ گہرے لگاؤ اور ردعمل پر حیران نہیں ہوئے، کیونکہ اس فلم میں دکھائے گئے بہت سے مناظر لوگ پہلے ہی روزانہ اپنے موبائل فونز یا خبروں کی کوریج کے ذریعے دیکھ رہے تھے، لیکن ضرورت اس بات کی تھی کہ ایک ایسا فنکارانہ شاہکار سامنے لایا جائے جو ان بکھری ہوئی تصویروں کو آپس میں جوڑ کر ایک مکمل اور جامع پس منظر کے ساتھ دنیا کے سامنے پیش کرے۔

فنی سطح پر کریم شاہ نے اس بات کی تصدیق کی کہ ورکنگ ٹیم نے اس بات کا خاص خیال رکھا کہ یہ دستاویزی فلم محض غزہ کے بارے میں غیر ملکی صحافیوں کا کوئی روایتی بیانیہ نہ لگے، بلکہ اسے خود فلسطینی صحافیوں کی شراکت داری سے تیار کیا جائے، انہوں نے پروڈکشن کے ابتدائی مراحل سے ہی فلسطینی صحافیوں جابر بدوان اور اسامہ العشی کی بھرپور شمولیت کا خاص طور پر ذکر کیا۔

انہوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ فلسطینی طبی عملہ ہمارے لیے صرف معلومات کا ذریعہ نہیں تھا بلکہ وہ میرے لیے ذاتی طور پر ایک عظیم الہام اور حوصلے کی علامت بنے۔ انہوں نے ان محققین، طبی کارکنوں اور تنظیموں کے کردار کو بھی سراہا جو غزہ میں صحت کے شعبے کی تباہی کی نگرانی کر رہی ہیں اور جنہوں نے فلم کو مستند معلومات اور گواہیاں فراہم کیں۔

ایوارڈ وصول کرنے کی باوقار تقریب کے دوران تحقیقاتی صحافی رامیتا نافای نے ایک زوردار خطبہ دے کر نئی بحث چھیڑ دی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں کہا کہ قابض اسرائیل نے جان بوجھ کر ہسپتالوں کو نشانہ بنایا اور بہت بڑی تعداد میں طبی عملے کو موت کے گھاٹ اتارا۔ انہوں نے مجمعے کے سامنے اس سچائی کا اظہار بھی کیا کہ بی بی سی کی فنڈنگ کے باوجود اس فلم کو ان کے چینل پر سنسرشپ کی وجہ سے نہیں دکھایا گیا۔

رامیتا نافای نے زور دے کر کہا کہ ہماری پوری ٹیم نے اپنی آواز کو دبانے یا خود پر کسی بھی قسم کی سنسرشپ قبول کرنے سے صاف انکار کر دیا تھا، انہوں نے اس تنازعے کی طرف اشارہ کیا جو بريطانیہ میں اس فلم کی نمائش کے وقت کھڑا کیا گیا تھا۔

اس تاریخی کامیابی اور ایوارڈ کی اہمیت کے بارے میں بات کرتے ہوئے ڈائریکٹر کریم شاہ نے کہا کہ اس اعزاز نے مجھے ایک بالکل مختلف اور گہرا احساس دیا ہے اور میڈیا کی صنعت پر میرا کھویا ہوا اعتماد کچھ حد تک بحال کیا ہے، جس میں گذشتہ چند سالوں کے دوران شدید جانبداری اور واضح تفریق دیکھی جا رہی تھی۔

فلم کو ملنے والی بے پناہ عالمی کامیابی کے باوجود، کریم شاہ نے اس بات پر اصرار کیا کہ کوئی بھی دستاویزی فلم غزہ کی پٹی میں جاری اس عظیم انسانی المیے اور فلسطینیوں کے دکھوں کا احاطہ کرنے کی مکمل صلاحیت نہیں رکھ سکتی۔ انہوں نے دلنشین انداز میں کہا کہ غزہ کے کسی بھی ہسپتال کے اندر گزارا گیا صرف ایک دن اپنے آپ میں ایک مکمل اور طویل ترین فلم بن سکتا ہے، کیونکہ وہاں بہت زیادہ درد اور ناقابلِ بیان ظلم بسا ہوا ہے۔

آخر میں کریم شاہ نے غزہ کی پٹی میں موجود صابر اور غازی طبی عملے کے نام ایک جذباتی پیغام بھیجا، جس میں انہوں نے کہا کہ میں چاہتا ہوں کہ وہ یہ جان لیں کہ دنیا انہیں بھولی نہیں ہے، اور ہم میں سے کچھ لوگ اب بھی ان کے ساتھ ہونے والے مظالم کے خلاف انصاف کے حصول کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan