بیروت – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حزب اللہ نے امریکہ پر شدید تنقید کی ہے، یہ ردعمل امریکہ کی وزارتِ خارجہ اور وزارتِ خزانہ کی جانب سے اعلان کردہ پابندیوں کے ایک نئے پیکیج کے پس منظر میں سامنے آیا ہے، جس میں منتخب لبنانی ارکانِ پارلیمنٹ کے علاوہ فوج اور پبلک سکیورٹی کے افسران اور حزب اللہ و امل موومنٹ سے وابستہ عہدیداروں کو نشانہ بنایا گیا ہے۔
حزب اللہ نے ایک سرکاری بیان میں کہا کہ یہ اقدام لبنانی عوام کو سیاسی طور پر ہراساں کرنے کی ایک کوشش ہے، جس کا مقصد اپنے میدانی اہداف حاصل کرنے میں ناکامی کے بعد قابض اسرائیل کی سیاسی پشت پناہی کرنا ہے، جیسا کہ بیان میں واضح کیا گیا ہے۔
حزب اللہ نے ان پابندیوں کو لبنانی عوام کو مزاحمت کا راستہ چھوڑنے پر مجبور کرنے کے لیے ڈالے جانے والے فوجی دباؤ کی ناکامی سے جوڑتے ہوئے اس بات پر زور دیا کہ امریکی الزامات، جن میں سرِفہرست مزاحمت کے ہتھیاروں کو ترک کرنے سے انکار ہے، کسی مخصوص فرد کو نشانہ بنانے کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ لبنانیوں کے ایک وسیع طبقے کے اس موقف کی عکاسی کرتے ہیں جو اس آپشن کو نقصان پہنچانے والے کسی بھی سمجھوتے کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔
بیان میں ان پابندیوں کو اس مزاحمتی نظریے کے درست ہونے کی دلیل کے طور پر پیش کیا گیا اور اس بات پر زور دیا گیا کہ ان اقدامات کا متعلقہ افراد کی کارکردگی یا حزب اللہ کی سیاسی و سکیورٹی پالیسیوں پر کوئی عملی اثر نہیں پڑے گا۔
بیان میں لبنانی افسران کو نشانہ بنانے کے وقت پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا اور اسے امریکی وزارتِ دفاع میں ہونے والی ملاقاتوں کے ہم وقت قرار دیا گیا، جسے انہوں نے سرکاری سکیورٹی اداروں پر براہ راست دباؤ ڈالنے کی ایک کوشش سے تعبیر کیا۔
حزب اللہ کا مؤقف ہے کہ اس قدم کا مقصد لبنانی ریاست کو بیرونی سیاسی شرائط کے آگے جھکنے پر مجبور کرنا ہے اور انہوں نے قومی فیصلوں کی خودمختاری پر اس کے اثرات کے حوالے سے سخت خبردار کیا۔
یاد رہے کہ یہ پابندیاں امریکہ کی اس سالہا سال پرانی پالیسی کا حصہ ہیں جس کے تحت وہ حزب اللہ اور مزاحمت سے وابستہ شخصیات و اداروں کو نشانہ بناتا چلا آ رہا ہے، تاکہ لبنان کے اندر حزب اللہ کے اثر و رسوخ کو محدود کرنے کی ایک وسیع حکمتِ عملی پر عمل پیرا ہو سکے۔ یہ اقدامات تدریجی طور پر وسعت اختیار کر کے اب سیاسی اور سکیورٹی عہدیداروں تک پہنچ چکے ہیں تاکہ سرکاری ادارہ جاتی ڈھانچے پر دباؤ ڈالا جا سکے۔
