Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

امداد کی قلت نے غزہ کا بحران مزید سنگین بنا دیا: ہیومن رائٹس واچ

غزہ ۔ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا ہے کہ غزہ کی پٹی میں فلسطینیوں کو زندہ رکھنے کے لیے قائم انسانی انفراسٹرکچر کو اب بھی شدید خطرات لاحق ہیں، حالانکہ اکتوبر سنہ 2025ء میں طے پانے والے سیز فائر معاہدے کو چھ ماہ سے زائد کا عرصہ گزر چکا ہے۔ تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں انسانی اور صحت کی صورتحال مسلسل ابتر ہو رہی ہے۔

تنظیم نے ایک پریس ریلیز میں مزید کہا کہ قابض اسرائیل کی مقتدرہ غزہ میں امدادی کوششوں کو سبوتاژ کر رہی ہے، یہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب امن کونسل اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے جنگ کے خاتمے کے منصوبے پر عمل درآمد کے حوالے سے گذشتہ چھ ماہ کے دوران ہونے والی پیش رفت سے متعلق اپنی تازہ ترین رپورٹ پر بریفنگ دینے کی تیاری کر رہی ہے۔

بیان کے مطابق، سیز فائر معاہدے پر دستخط کے بعد سے قابض اسرائیل کے مسلسل حملوں کے نتیجے میں کم از کم 856 فلسطینی شہید اور 2463 دیگر زخمی ہو چکے ہیں، یہ اعدادوشمار غزہ میں وزارت صحت کی جانب سے فراہم کیے گئے ہیں۔

تنظیم نے اس بات پر زور دیا کہ انسانی امداد کا حجم اب بھی مطلوبہ سطح سے بہت کم ہے، اور اشارہ کیا کہ امداد کی رسائی کے راستوں میں بار بار رکاوٹیں کھڑی کی گئیں، جبکہ امداد کی فراہمی میں تیزی سے توسیع اور اس کا تحفظ جنگ کے خاتمے کے کسی بھی جامع منصوبے کا بنیادی ستون ہے۔

اعدادوشمار جو حقیقت کو چھپاتے ہیں

ہیومن رائٹس واچ میں مشرق وسطیٰ کے شعبے کے ڈپٹی ڈائریکٹر آدم کوگل نے کہا کہ اس منصوبے سے ریلیف ملنے کی امید تھی، لیکن غزہ کی پٹی کے فلسطینی اب بھی بھوکے ہیں اور طبی نگہداشت سے محروم ہیں، جبکہ عام شہریوں کا قتل عام اب بھی جاری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امن کونسل سلامتی کونسل سے جو بھی کہے، چھ ماہ گزرنے کے بعد کی تلخ زندگی کی حقیقی حقیقت یہی ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے 15 مئی کو جاری ہونے والی امن کونسل کی رپورٹ میں پیش کیے گئے اعدادوشمار پر کڑی تنقید کی، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ سیز فائر سے پہلے کی سطح کے مقابلے میں غزہ میں امداد کی تقسیم میں 70 فیصد سے زائد اضافہ ہوا ہے۔

تنظیم نے کہا کہ یہ بڑے بڑے اعدادوشمار اس حقیقت پر پردہ ڈالتے ہیں کہ سنہ 2026ء کے آغاز سے امداد کے حجم میں مسلسل کمی آئی ہے، اور فروری کے آخر میں امریکہ، قابض اسرائیل اور ایران کے درمیان جنگ چھڑنے سے پہلے کی سطح پر واپس نہیں آ سکی، اور نہ ہی یہ کبھی اس کم ترین حد تک پہنچ سکی ہے جسے اقوام متحدہ نے انسانی بقا کے لیے ناگزیر قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ اقوام متحدہ کے انسانی امور کے رابطہ دفتر (اوچا) کے مطابق، 5 فروری تک غزہ کے 37 ہسپتالوں میں سے کوئی بھی ہسپتال اپنی مکمل صلاحیت کے ساتھ کام نہیں کر رہا تھا، جبکہ 19 ہسپتال جزوی طور پر کام کر رہے تھے۔

عالمی ادارہ صحت کے تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے مزید بتایا گیا کہ 43 ہزار سے زائد افراد ایسے زخموں کا شکار ہوئے جنہوں نے ان کی زندگی بدل کر رکھ دی، جن میں ایک چوتھائی تعداد بچوں کی ہے، جبکہ 50 ہزار سے زائد افراد کو طویل مدتی بحالی کی دیکھ بھال کی ضرورت ہے، ایسے وقت میں جب کوئی بھی بحالی مرکز مکمل طور پر فعال نہیں ہے۔

تنظیم نے تصدیق کی کہ قابض اسرائیل کی طرف سے مخصوص جراحی کے آلات کی منظوری میں تاخیر پیچیدہ طبی نگہداشت کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے، جبکہ 46 فیصد بنیادی ادویات کا اسٹاک مکمل طور پر ختم ہو چکا ہے۔

بیان میں بجلی کے جنریٹرز، انجن آئل اور اسپیئر پارٹس کی درآمد پر قابض اسرائیل کی سخت پابندیوں پر روشنی ڈالی گئی، اور خبردار کیا گیا کہ اس کی وجہ سے صحت کی دیکھ بھال، صفائی ستھرائی، ملبہ ہٹانے اور انسانی ہمدردی کے کاموں کے شعبے مفلوج ہو کر رہ گئے ہیں۔

چوہوں کی بھر مار اور جلدی امراض کا پھیلنا

اوچا کے مطابق، پناہ گزینوں کے کیمپوں میں چوہوں اور حشرات الارض کی بھر مار ہو چکی ہے، جس کی وجہ سے جلدی امراض اور دیگر وبائیں تیزی سے پھیل رہی ہیں۔

تنظیم نے اوچا کے حوالے سے یہ بھی بتایا کہ اکتوبر سنہ 2023ء سے اب تک غزہ میں کم از کم 593 امدادی کارکن شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے 8 امدادی کارکن سیز فائر کے بعد شہید ہوئے۔

بیان میں غزہ کی پٹی کے اندر قابض اسرائیل کی غیر قانونی توسیع پسندی کا بھی ذکر کیا گیا، جہاں متفقہ حدود سے آگے پیلی لائن (یلو لائن) کو مغرب کی طرف منتقل کر دیا گیا ہے۔ تنظیم نے غزہ میں ڈاکٹرز وداؤٹ بارڈرز کے سربراہ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ لائن جیسے جیسے مغرب کی طرف بڑھ رہی ہے، پانی کے ذخائر اور صفائی ستھرائی کی سہولیات کو ہڑپ کرتی جا رہی ہے۔

فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوام متحدہ کی امدادی ایجنسی (انروا) کے مطابق، اس کی 127 سہولیات فی الحال اس لائن کے پیچھے یا ایسے علاقوں میں واقع ہیں جہاں تک رسائی کے لیے قابض اسرائیل کی منظوری درکار ہوتی ہے، جبکہ ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ قابض اسرائیلی حکام نے مارچ سنہ 2025ء سے انروا کو غزہ میں براہ راست انسانی امداد پہنچانے سے روک رکھا ہے۔

تعمیر نو کے معاملے پر تنظیم نے اشارہ کیا کہ فروری میں 10 ممالک نے غزہ کی تعمیر نو کے لیے 17 ارب ڈالر دینے کا وعدہ کیا تھا، لیکن امن کونسل کو اپریل تک صرف ایک ارب ڈالر ہی موصول ہو سکے، جبکہ اقوام متحدہ کے مطابق تعمیر نو کے لیے تقريباً 70 ارب ڈالر کی ضرورت ہے۔

تنظیم نے زور دے کر کہا کہ بین الاقوامی انسانی قانون قابض اسرائیل کو، بحیثیت ایک قابض قوت، اس بات کا پابند کرتا ہے کہ وہ عام شہریوں کے لیے خوراک، پانی، طبی نگہداشت اور بنیادی سامان کی فراہمی کو یقینی بنائے، اور انسانی امداد کی تیزی سے اور بغیر کسی رکاوٹ کے منتقلی میں سہولت فراہم کرے۔

عام شہریوں کو بھوکا مارنا

تنظیم نے عام شہریوں کو بھوکا مارنے کی پالیسی کے خلاف سخت خبردار کیا اور اسے بین الاقوامی فوجداری عدالت کے روما کے قانون کے تحت ایک سنگین جنگی جرم قرار دیا، اور مزید کہا کہ آبادی کی مادی تباہی کے ارادے سے زندگی کے ایسے سخت حالات مسلط کرنا نسل کشی کے جرم کو روکنے اور اس کی سزا دینے کے کنونشن کے تحت نسل کشی کے مترادف ہو سکتا ہے۔

تنظیم نے یاد دلایا کہ اس نے دسمبر سنہ 2023ء میں یہ دستاویزی ثبوت فراہم کیے تھے کہ قابض اسرائیل غزہ میں بھوک کو جنگ کے ہتھیار کے طور پر استعمال کر رہا ہے، اسی طرح دسمبر سنہ 2024ء میں جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں یہ نتیجہ اخذ کیا گیا تھا کہ فلسطینیوں کو جان بوجھ کر پانی سے محروم کرنا انسانیت کے خلاف جرم اور نسل کشی کے اقدامات کے زمرے میں آتا ہے۔

ہیومن رائٹس واچ نے حکومتوں پر زور دیا کہ وہ قابض اسرائیل کو ہتھیاروں کی منتقلی معطل کریں، اور ان اسرائیلی حکام پر ٹارگٹڈ پابندیاں عائد کریں جن کے خلاف سنگین خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کے معتبر شواہد موجود ہیں، اس کے علاوہ ترجیحی تجارتی معاہدوں کو معطل کیا جائے اور عالمی عدالت انصاف اور بین الاقوامی فوجداری عدالت کی حمایت کے ذریعے احتساب کو مضبوط بنایا جائے، جس میں ان عدالتوں کی طرف سے جاری کردہ گرفتاری کے وارنٹ پر عمل درآمد بھی شامل ہے۔

آدم کوگل نے آخر میں کہا کہ جب امن کونسل سلامتی کونسل کو اپنی بریفنگ پیش کرے، تو جو کچھ کہا جائے اس کا موازنہ اقوام متحدہ کی ایجنسیوں کی زمینی رپورٹوں سے کیا جانا چاہیے، کیونکہ کوئی بھی گمراہ کن پروپیگنڈا اس حقیقت کو نہیں چھپا سکتا کہ امداد مطلوبہ مقدار میں داخل نہیں ہو رہی، مریضوں کو مناسب دیکھ بھال نہیں مل رہی، اور غزہ میں داخلہ اب بھی انتہائی محدود ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan