Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

رام اللہ

صہیونی جیلوں میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں، 3 سال میں 92 اسیر شہید

رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی اسیران کے حقوق کے علم بردار اداروں نے انکشاف کیا ہے کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران قابض اسرائیلی جیلوں اور کیمپوں میں شناخت کیے جانے والے 92 اسیر جامِ شہادت نوش کر چکے ہیں، جو غزہ کی پٹی کے قیدیوں کی جبری گمشدگی کے تسلسل کے ساتھ اسیر تحریک کی تاریخ کے خونریز ترین ادوار میں سے ایک ہے۔

اسیران کے اداروں نے غزہ کی پٹی پر نسل کشی کی جنگ کے آغاز کو تین سال پورے ہونے کے موقع پر منگل کے روز جاری کردہ ایک دستاویزی رپورٹ میں کہا ہے کہ اس مدت کے دوران شہید ہونے والے اسیروں کی تعداد سنہ 1967ء سے درج اسیر تحریک کے کل شہداء جن کی تعداد 329 ہے، کا تقریباً 28 فیصد بنتی ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ گذشتہ تین برسوں کے دوران ایک سو سے زائد اسیر شہید ہو چکے ہیں جبکہ ان میں سے 92 کی شناخت کا اعلان کر دیا گیا ہے، دوسری طرف جبری گمشدگی کی وجہ سے غزہ کے درجنوں قیدیوں کا انجام اب بھی نامعلوم ہے، ایسے وقت میں جب قابض اسرائیل اسیروں میں سے 100 شہداء کے اجسادِ خاکی کو روکے ہوئے ہے۔

مغربی کنارے میں 26 ہزار گرفتاریاں

اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں 26 ہزار سے زائد گرفتاریاں ریکارڈ کی جا چکی ہیں، اس تعداد میں غزہ کی پٹی میں ہونے والی ہزاروں گرفتاریاں شامل نہیں ہیں جن کی مکمل توثیق جاری عسکری کارروائیوں، معلومات کی بندش اور قیدیوں کے حالات پر کالا قانون نافذ کرنے کی وجہ سے ناممکن رہی۔

ان گرفتاریوں نے فلسطینی معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنی لپیٹ میں لیا جن میں خواتین، بچے، بزرگ، مریض، صحافی اور حقوقِ انسانی کے شعبے سے وابستہ افراد شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق نسل کشی کے آغاز سے لے کر اب تک گرفتاری اور حراست کا نشانہ بننے والی خواتین کی تعداد 800 سے تجاوز کر گئی ہے جبکہ مغربی کنارے میں بچوں کی گرفتاریوں کے کیسز 2000 کی حد کو پار کر چکے ہیں۔

گرفتاریاں محض حراست کے عمل تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس کے ساتھ گھروں پر دھاوے، تلاشی، توڑ پھوڑ، دھمکیاں اور سخت میدانی تفتیش کے عمل جڑے رہے، اس کے علاوہ وہ نفسیاتی، سماجی اور معاشی اثرات بھی مرتب ہوئے جنہوں نے قیدیوں اور ان کے اہل خانہ کو متاثر کیا۔

9300 اسیر اور ان میں سے نصف کے قریب افراد بغیر کسی مقدمے کے قید

اپنے تازہ ترین اعداد و شمار میں اسیران کے اداروں نے بتایا کہ رواں اکتوبر کے مہینے کے آغاز تک قابض اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً 9300 اسیر اور قیدی موجود ہیں جن میں 118 وہ اسیر شامل ہیں جنہیں عمر قید کی سزائیں سنائی گئی ہیں، اس کے علاوہ 91 خواتین اسیر اور 350 بچے بھی قید ہیں۔

اسی طرح انتظامی قیدیوں کی تعداد 3101 ہے جن میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ قابض حکام غزہ، شام اور لبنان سے تعلق رکھنے والے قیدیوں سمیت 1419 قیدیوں کو ”غیر قانونی جنگجوؤں“ کے نام سے درجہ بند کرتے ہیں۔

اداروں نے اس بات کی تصدیق کی کہ قابض اسرائیل کی جیلوں میں تقریباً 49 فیصد اسیران بغیر کسی الزام یا مقدمے کے قید ہیں جو کہ دباؤ اور محکوم بنانے کے ایک آلے کے طور پر جبری اور انتظامی حراست کے بڑھتے ہوئے استعمال کی علامت ہے۔

یہ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ گرفتاری اب محض آزادی سلب کرنے تک محدود نہیں رہی بلکہ اسیران کے اداروں کے مطابق یہ ایک ایسی وسیع پالیسی میں تبدیل ہو چکی ہے جو فلسطینی معاشرے کو نشانہ بناتی ہے اور اس کے مختلف طبقات تک پہنچتی ہے۔

جیلیں: تشدد اور سست موت کا نظام

رپورٹ نے اس بات پر زور دیا کہ گزشتہ تین برسوں کے دوران اسیروں کے خلاف کیے جانے والے جرائم میں شدید تیزی آئی ہے، جو کہ تشدد اور خلاف ورزیوں کے ایک مربوط نظام کے ذریعے عمل میں لائی گئی، جس میں بھوک اور پینے کے پانی سے محرومی، طبی غفلت، جسمانی اور نفسیاتی حملے، جنسی استحصال کے ساتھ ساتھ جیلوں کے اندر دھاوے اور اجتماعی جبر کے حربے شامل ہیں۔

اداروں نے جبر کے ان اقدامات کے دوران ربڑ کی گولیاں، بجلی کے جھٹکے دینے والے آلات، لاٹھیوں، گیس، صوتی بموں اور شکاری کتوں کے استعمال کی بھی دستاویز بندی کی ہے، جن کے ساتھ ساتھ براہِ راست قتل اور سست موت کے معاملات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ ان طریقوں کی دستاویز بندی ان اسیروں کے بیانات کے ذریعے کی گئی ہے جنہیں قانونی ٹیمیں ملنے میں کامیاب ہوئیں، اور رہا ہونے والے اسیروں کی گواہیوں کے علاوہ مقامی اور بین الاقوامی حقوقِ انسانی کے اداروں کی طرف سے جاری کردہ دورانی رپورٹیں بھی اس کی شاہد ہیں۔

جبری گمشدگی غزہ کے قیدیوں کا انجام چھپائے ہوئے ہے

اسیران کے اداروں نے اس بات سے خبردار کیا کہ اعلان کردہ اعداد و شمار خلاف ورزیوں کے حجم کا صرف کم از کم حصہ ظاہر کرتے ہیں، اس پس منظر میں کہ قابض اسرائیل غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں قیدیوں پر جبری گمشدگی کا نفاذ جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ حقوقِ انسانی کے اداروں اور بین الاقوامی کمیٹی برائے ریڈ کراس کو کثیر تعداد میں قیدیوں تک رسائی حاصل کرنے سے روکا گیا ہے، اور ان کی حراست کی جگہوں، حراست کے حالات اور ان کے انجام سے متعلق معلومات کو پوشیدہ رکھا گیا ہے، جس کی وجہ سے اسیروں کے خلاف کیے جانے والے جرائم کا حجم دستیاب اعداد و شمار سے کہیں زیادہ بڑا ہو جاتا ہے۔

اداروں نے اس بات پر زور دیا کہ اسیروں کے خلاف خلاف ورزیوں کو روکنے، ان پر سزائے موت کے نفاذ کی اجازت دینے والے قوانین کو منسوخ کرنے اور فوجی یا مدنی عدلیہ کو امتیازی اور انتقامی سزائیں دینے کا آلہ کار بننے سے روکنے کو یقینی بنانے کے لیے بین الاقوامی دباؤ کو تیز کرنے کی شدید ضرورت ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلسطینی اسیروں اور قیدیوں کے جان و مال کا تحفظ ایک بین الاقوامی ذمہ داری ہے، اور اسے اسرائیلی داخلی معاملہ قرار دینا یا انتقامی پالیسیوں کا یرغمال بنائے رکھنا ہرگز درست نہیں ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan