Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

315 دن، 4,369 اسرائیلی خلاف ورزیاں؛ غزہ جنگ بندی کی سنگین صورتحال

غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) غزہ میں سرکاری میڈیا آفس نے جنگ بندی کے معاہدے کی اسرائیلی خلاف ورزیوں کے حوالے سے اپنی رپورٹ جاری کر دی ہے، جس میں معاہدے کو تین سو پندرہ دن گذرنے کے بعد تسلسل کے ساتھ جاری پامالیوں، شہداء اور زخمیوں کی شہادت، نیز انسانی امداد کے داخلے پر عائد پابندیوں اور رفح زمینی گزرگاہ کے ذریعے سفر کی نقل و حرکت کی دستاویزات کو اجاگر کیا گیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق قابض اسرائیل نے جنگ بندی کے آغاز سے لے کر اب تک معاہدے کی4369 خلاف ورزیاں کیں، جن کے نتیجے میں بارہ سو چھیاسی فلسطینی شہید اور چار ہزار دو سو ستاون زخمی ہوئے، جبکہ اس دوران قابض صہیونی افواج نے ایک سو اسی فلسطینیوں کو گرفتار بھی کیا۔

سرکاری میڈیا آفس نے اس بات کی نشاندہی کی کہ ملبے تلے سے813 شہداء کے جسدِ خاکی نکال لیے گئے، جبکہ قطاع غزہ میں تباہ شدہ عمارتوں کے ملبے تلے اب بھی آٹھ ہزار سے زائد شہداء موجود ہیں۔

غزہ میں امداد کے داخلے پر پابندیاں

رپورٹ میں واضح کیا گیا کہ جنگ بندی کے معاہدے کے آغاز سے لے کر اب تک غزہ میں 66607امدادی ٹرک داخل ہوئے، جبکہ ان ایک لاکھ نواسی ہزار ٹرکوں کے مقابلے میں جو معاہدے کے تین سو پندرہویں دن تک داخل ہونے چاہیے تھے۔

سرکاری میڈیا آفس کی طرف سے پیش کردہ اعداد و شمار کے مطابق، امداد کے داخلے کی پابندی کا تناسب محض پینتیس فیصد تک رہا، جو قطاع کے مکینوں کو انسانی ضروریات کی ترسیل پر مسلسل عائد کردہ ظالمانہ پابندیوں کی عکاسی کرتا ہے۔

رفح گزرگاہ کے ذریعے سفر کی نقل و حرکت پر پابندیاں

سفر کی نقل و حرکت کے حوالے سے رپورٹ میں بتایا گیا کہ قابض دشمن نے رفح زمینی گزرگاہ کو کھولنے کے معاہدے کے بعد سے سفر کرنے کے اہل اٹھائیس ہزار نو سو مسافروں میں سے محض گیارہ ہزار سات سو انسٹھ مسافروں کو سفر کرنے کی اجازت دی۔

رپورٹ کے مطابق مسافروں کو عبور کرنے کے قابل بنانے کے حوالے سے عزم کا تناسب تقریباً انتالیس فیصد تک رہا۔

قابض دشمن کو معاہدے پر عمل درآمد کا پابند بنانے کا مطالبہ

سرکاری میڈیا آفس نے فلسطینیوں کو نشانہ بنانے اور غزہ میں قتل و غارت گری کا سلسلہ جاری رکھنے کی اسرائیلی پالیسی کی شدید مذمت کی، اور قابض اسرائیل کو قطاع میں انسانی حالات کی مسلسل ابتری کی مکمل ذمہ داری سونپی۔

مذکورہ آفس نے ثالثوں اور جنگ بندی کے معاہدے کے ضامن فریقوں سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ قابض اسرائیل کو معاہدے کے تمام شقوں پر عمل درآمد کرنے اور اس کی جاری پامالیوں کو روکنے کے لیے پابند بنائیں، جن میں ہدف بنانے کا عمل روکنا، انسانی امداد کے داخلے کو ممکن بنانا اور رفح گزرگاہ کے ذریعے سفر کی نقل و حرکت کی ضمانت دینا شامل ہے۔

یہ رپورٹ ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب غزہ نسل کشی کی تباہ کاریوں اور انسانی حالات کے زوال کے اثرات کا سامنا کرنے میں مصروف ہے، جبکہ امداد اور آبادی کی نقل و حرکت پر پابندیاں بدستور برقرار ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan