Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

18 دن کا محاصرہ، قصرہ کے 3 فلسطینی خاندان بے دخلی کے خلاف مزاحمت پر قائم

قصرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مقبوضہ مغربی کنارے کے شمالی شہر نابلس کے جنوب میں واقع قصبے قصرہ کے علاقے جبل رأس العين میں تین فلسطینی خاندان مسلسل اٹھارہویں دن بھی اپنے گھروں کے اندر قابض صیہونی آبادکاروں کے محاصرے میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں، جبکہ قابض اسرائیلی فوج نے علاقے کو جانے والے تمام راستے بند کر رکھے ہیں اور مقامی باشندوں کی نقل و حرکت پر سخت ترین پابندیاں عائد کر رکھی ہیں۔

محاصرے میں گھرے ان مکانات کے اندر خواتین اور بچے بھی موجود ہیں، جن کی مشکلات اس وقت مزید بڑھ جاتی ہیں جب کھانا، پانی اور دیگر بنیادی ضروریات زندگی اندر پہنچانا انتہائی کٹھن ہو جاتا ہے، اور دوسری طرف آبادکار گھروں کے گردونواح میں دندناتے پھر رہے ہیں اور قریبی پانی کے ذرائع پر بھی قابض ہو چکے ہیں۔

یہ معاملہ صرف باسیوں کو گھروں سے باہر جانے سے روکنے تک محدود نہیں ہے، بلکہ متاثرہ خاندانوں کا کہنا ہے کہ اس گھٹن بھرے محاصرے نے ان کی روزمرہ زندگی کو خوف اور اضطراب کی ایک ایسی تصویر بنا دیا ہے جہاں کوئی دروازہ یا کھڑکی کھولنا یا گھر کے قریب جانا بھی جان جوکھم میں ڈالنے کے مترادف ہے۔

“گھر کے اندر قید خانہ”

محاصرے کے شکار ایک خاندان کے بزرگ عبد الكريم حسان کا کہنا ہے کہ ان کے بچے محاصرہ شروع ہونے کے بعد سے “انتہائی مشکل حالات” میں زندگی گزار رہے ہیں، اور وہ خیریت دریافت کرنے کے لیے دن میں دس سے زائد بار ان سے رابطہ کرتے ہیں۔

حسان بتاتے ہیں کہ وہ گھروں کے سامنے والی پہاڑی پر جا کر بیٹھ جاتے ہیں تاکہ اپنے بچوں کے قریب رہ سکیں اور حالات پر نظر رکھ سکیں، جو ان کی پریشانی کو کم کرنے کی ایک بے بس سی کوشش ہے۔

عبدالكريم حسان کے مطابق خاندان بنیادی ضرورتوں کی شدید کمی کا شکار ہے، کیونکہ گھروں تک نہ تو پانی پہنچ پاتا ہے اور نہ ہی خوراک، یہاں تک کہ بچوں کے لیے دودھ بھی میسر نہیں ہے، اور محاصرے کی وجہ سے کسی بھی قسم کی ضرورت کی چیز اندر داخل کرنا ناممکن ہو چکا ہے۔

وہ بتاتے ہیں کہ ان کے گھر والے نہ تو گھر سے باہر نکل سکتے ہیں اور نہ ہی معمول کے مطابق دروازے یا کھڑکیاں کھول سکتے ہیں، انٹرنیٹ کی سہولت بھی منقطع ہو چکی ہے، اور گھر کے آس پاس آبادکاروں کی مسلسل موجودگی خوف کا ایک مستقل سبب بن چکی ہے۔

وہ رات کے وقت کو “سب سے زیادہ مشکل” قرار دیتے ہیں، کیونکہ پورا خاندان اچانک کسی حملے کے خوف سے جاگتا اور الرٹ رہتا ہے، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ دوسرے فلسطینی علاقوں میں کس طرح حملے کیے گئے اور گھروں کو نذر آتش کیا گیا۔

وہ اپنے خاندان کی حالت زار کو ان الفاظ میں بیان کرتے ہیں: “ہمیں سانس لینے، باہر جانے اور دروازے یا کھڑکیاں کھولنے تک کی اجازت نہیں ہے”، اور یہ کہ “ہم ایک جیل کے اندر زندگی گزار رہے ہیں۔”

پانی پر غاصبانہ قبضہ

محاصرہ صرف گھروں کے اردگرد تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ پانی کے ذرائع اور علاقے کو ملانے والے راستوں تک پھیل چکا ہے۔

قصرہ کے بلدیہ کے سربراہ عبد العظيم وادی کا کہنا ہے کہ آبادکاروں نے جبل رأس العين کی چوٹی پر واقع چشمے پر قبضہ کر لیا ہے، جو اس علاقے کے باسیوں کے لیے پانی کا واحد سہارا تھا، جس نے محاصرہ زدہ خاندانوں کی مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

عبدالعظیم وادی بتاتے ہیں کہ آبادکار گھروں کے گرد گشت کر رہے ہیں جبکہ قابض فوج نے راستوں کو بند کر رکھا ہے، جس کی وجہ سے شہریوں کا اپنے گھروں میں داخل ہونا یا باہر نکلنا انتہائی مشکل ہو گیا ہے۔

وہ اس امر پر زور دیتے ہیں کہ جبل رأس العين میں پیش آنے والا یہ واقعہ کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے، بلکہ یہ مہینوں سے جاری حملوں اور پورے علاقے پر جبراً تسلط قائم کرنے کی مذموم کوششوں کا ایک تسلسل ہے۔

ان کا ماننا ہے کہ اگرچہ قابض فوج یہ محاصرہ ختم کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہے، لیکن اس کے باوجود اسے جاری رکھنے کا مقصد یہ ظاہر کرتا ہے کہ اس کے پیچھے کوئی خاص گھناؤنا مقصد ہے، کیونکہ فوج چاہتی تو چند منٹوں میں اس معاملے کو ختم کر سکتی تھی، بجائے اس کے کہ اسے روز بروز طویل اور وسیع ہونے دیا جائے۔

باشندگان کو ہجرت پر مجبور کرنے کی سازش

دیوار اور آباد کاری مخالف کمیشن کے مطابق آبادکاروں نے تقریباً چار ماہ قبل ان گھروں تک پہنچنے اور ان پر قبضہ کرنے کی کوششیں شروع کی تھیں، جس کی وجہ سے مالکان کو خدشہ لاحق ہوا کہ اگر گھر خالی چھوڑ دیے گئے تو ان پر قبضہ ہو جائے گا، اسی لیے انہوں نے باری باری ان میں رہائش اختیار کی۔

کمیشن کا کہنا ہے کہ آبادکاروں نے ان گھروں کے گرد اپنے کیمپ اور خیمے لگا لیے ہیں، راستوں کو بند کر دیا ہے، اور مکینوں کی نقل و حرکت اور آمدورفت کو تنگ کر دیا ہے، یہ تمام اقدامات اس مقصد کے تحت کیے جا رہے ہیں کہ خاندان خود بخود اپنے گھر چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں تاکہ ان پر غاصبانہ تسلط قائم کیا جا سکے۔

یہی وجہ ہے کہ گھروں کے مالکان انتہائی مشکل حالات کے باوجود بھی اپنے گھروں کو چھوڑنے سے انکاری ہیں، کیونکہ انہیں ڈر ہے کہ ایک بار گھر چھوڑنے کا مطلب جائیداد اور زمین سے ہمیشہ کے لیے ہاتھ دھو بیٹھنا ہے۔

یہ خاندان قریبی قصبے جالود کے اس واقعے کو یاد کرتے ہیں جہاں آبادکاروں نے الطوباسی خاندان کے گھر کا تین ماہ سے زیادہ محاصرہ کیے رکھا، یہاں تک کہ وہ خاندان 22 جولائی کو گھر چھوڑنے پر مجبور ہو گیا، اور صیہونی آبادکاروں نے فوراً اس پر قبضہ کر لیا۔

اس واقعے نے قصرہ کے باسیوں کے ان خدشات کو مزید تقویت دی ہے کہ محاصرہ زدہ گھروں سے ذرا سی بھی پسپائی آبادکاروں کو ان پر قابض ہونے کا موقع فراہم کر دے گی۔

مکانات کو فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کرنا

جبل رأس العين میں مشکلات کا شکار صرف عام شہری ہی نہیں ہیں، بلکہ بلدیہ کے سربراہ کا کہنا ہے کہ قابض فوج نے اپنی کارروائیوں کے دوران پہلے ہی 16 فلسطینی گھروں پر قبضہ کرکے انہیں فوجی چھاؤنیوں میں تبدیل کر رکھا ہے۔

اس کے علاوہ فوج علاقے تک رسائی پر سخت پابندیاں عائد کیے ہوئے ہے اور راستوں کو مسدود کیے ہوئے ہے، جس سے مکینوں کی تنہائی میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور ان کا اپنے گھروں اور زمینوں تک پہنچنا محال ہو چکا ہے۔

اس طرح یہ خاندان ایک پیچیدہ حقیقت کا سامنا کر رہے ہیں: اردگرد منڈلاتے ہوئے غاصب آبادکار، بند راستے، قبضੇ میں لیا گیا پانی کا چشمہ، اور نقل و حرکت پر عسکری قدغنیں، جبکہ دوسری طرف باسی اپنی اس زمین پر اپنا وجود برقرار رکھنے کی پرعزم جنگ لڑ رہے ہیں۔

لؤی ابو ریدہ کا گھر

محاصرے میں گھرے ان مکانات میں امریکی شہریت کے حامل اور امریکی ریاست اوہائیو میں مقیم فلسطینی لؤی أبو ریدہ کا گھر بھی شامل ہے، جہاں ان کا بھائی اور خاندان کے دیگر افراد اس پورے محاصرے کے دوران گھر کے اندر ہی موجود رہے۔

ابو ریدہ اپنی جائیداد کی حفاظت کے لیے لگائے گئے سکیورٹی کیمروں کے ذریعے امریکہ میں بیٹھے تمام حالات کا جائزہ لے رہے تھے، یہاں تک کہ وہ خود حالات کا قریب سے مشاہدہ کرنے کے لیے واپس قصرہ پہنچ گئے۔

ان کے اس کیس نے امریکی انسانی حقوق کی تنظیموں کو حرکت میں لایا جنہوں نے کانگریس کے اراکین سے مطالبہ کیا کہ وہ گھروں کا محاصرہ ختم کروانے اور اس ظلم میں ملوث آبادکاروں کا محاسبہ کرنے کے لیے فوری مداخلت کریں۔

محاصرے کے باوجود جمود اور استقامت

اٹھارہ دن کا طویل محاصرہ گزر جانے کے باوجود یہ تینوں خاندان پانی اور خوراک کی شدید قلت، مسلسل خوف اور نقل و حرکت پر عائد پابندیوں کے باوجود اپنے گھروں میں ڈٹے ہوئے ہیں۔

ان مکینوں کے لیے اب اصل جنگ گھر سے باہر جانے یا واپس آنے کی نہیں رہی، بلکہ اصل جنگ اس گھر کے اندر اپنے وجود کو باقی رکھنے کی ہے؛ کیونکہ انہیں پورا یقین ہے کہ گھر چھوڑنا دراصل ہمیشہ کے لیے اپنی چھت اور زمین سے محرومی کا پہلا قدم ہے۔

یوں جبل رأس العين کے یہ تینوں گھر ایک روزانہ کی محاذ آرائی کا میدان بن چکے ہیں، جہاں باسی بند دروازوں کے پیچھے زندگی گزار رہے ہیں، اور ایک ایسے ظالمانہ محاصرے کے سامنے اپنے گھر اور زمین کو بچانے کی آخری کوشش کر رہے ہیں جس کا مقصد انہیں چپکے سے ہجرت پر مجبور کرنا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan