طولکرم – (روزنامہ قدس ـ آنلائن خبر رساں ادارہ) طولکرم کیمپ میں خدمات کے لیے قائم عوامی کمیٹی کے سربراہ فیصل سلامہ نے کیمپ پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت سے ہونے والی تباہی کے حجم کو بے نقاب کر دیا ہے۔ انہوں نے تصدیق کی کہ 1100 رہائشی یونٹس مکمل طور پر تباہ ہو چکے ہیں، جبکہ تقریباً 4000 دیگر یونٹس 90 فیصد تک متاثر ہوئے ہیں۔
فیصل سلامہ نے جمعرات کے روز پریس بیانات میں کہا کہ سات اکتوبر سنہ 2023ء سے طولکرم کیمپ میں قابض اسرائیل کی مسلسل فوجی کارروائیوں کے نتیجے میں تباہی اور جغرافیائی تبدیلی کا ایک غیر معمولی منظرنامہ سامنے آیا ہے۔
انہوں نے واضح کیا کہ اس جارحیت کے نتیجے میں تقریباً 1000 تجارتی دکانیں اور 700 گاڑیاں بھی تباہ ہوئیں، جس کی وجہ سے 3300 خاندان کیمپ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئے اور وہ انتہائی مشکل انسانی اور معاشی حالات کا سامنا کر رہے ہیں۔
انہوں نے نشاندہی کی کہ قابض افواج نے جان بوجھ کر مکانات کو مسمار کیا اور ان کے ملبے پر نئی سڑکیں تعمیر کیں، جس کا مقصد کیمپ کے اندر اپنی سکیورٹی گرفت کو مضبوط کرنا تھا۔ اس عمل نے کیمپ کے تعمیراتی ڈھانچے میں بنیادی تبدیلی پیدا کر دی ہے اور اس کی کئی تاریخی علامات غائب ہو گئی ہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ تبدیلی کا حجم اتنا بڑا ہو چکا ہے کہ اب بہت سے رہائشی بڑے پیمانے پر ہونے والی مسماری کے باعث اپنے گھروں کے مقامات کی نشاندہی کرنے یا اپنے سابقہ محلوں کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔
فیصل سلامہ نے اس بات پر زور دیا کہ قابض اسرائیل کیمپ میں اہل خانہ کے داخلے پر سخت پابندیاں عائد کر رہا ہے، جس میں محدود تعداد میں لوگوں کو داخلے کی اجازت دینا، شہریوں کی تلاشی لینا، موبائل فون ضبط کرنا، فوٹوگرافی پر پابندی اور بعض شہریوں کو سکیورٹی کے بہانے داخلے سے روکنا شامل ہے۔
مقامی اور انسانی حقوق کے اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ طولکرم اور نور شمس کے کیمپوں کو وسیع پیمانے پر تباہی مہم کا سامنا ہے، جس کے نتیجے میں 25 ہزار سے زائد فلسطینی بے گھر ہو چکے ہیں، جو شہر کے مختلف قصبوں اور پناہ گزین مراکز میں منتشر ہو گئے ہیں۔
مسلسل مسماری کے عمل نے مکمل محلوں کو مٹا دیا ہے اور اہم تاریخی مقامات کو غائب کر دیا ہے۔ اس دوران رہائشیوں نے بار بار گواہی دی ہے کہ وہ کیمپ کے تعمیراتی منظرنامے میں ہونے والی بڑی تبدیلیوں کے باعث اپنے گھروں کے مقامات کو پہچاننے سے قاصر ہیں۔
ذمہ داران اور ماہرین کا خیال ہے کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ براہ راست فوجی مقاصد سے آگے کی چیز ہے۔ یہ ان پالیسیوں کے تناظر میں ہے جن کا مقصد فلسطینی کیمپوں کو کمزور کرنا، ان کی آبادیاتی اور سیاسی نوعیت کو تبدیل کرنا اور پناہ گزینوں کے مسئلے اور حق واپسی کی علامت کو ختم کرنا ہے۔
