نیو یارک – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق کے دفتر نے انکشاف کیا ہے کہ 11 ممالک کی 214 کمپنیاں مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر قابض اسرائیل کی یہودی بستیوں سے جڑی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔ اس کے ساتھ ہی کمیشن نے متعلقہ کمپنیوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرگرمیوں کے نتیجے میں انسانی حقوق پر مرتب ہونے والے منفی اثرات سے نمٹنے کے لیے اقدامات کریں۔
کمیشن نے واضح کیا ہے کہ یہ اعداد و شمار انسانی حقوق کونسل کے مینڈیٹ پر عمل درآمد کرتے ہوئے سنہ 2020ء میں تیار کی گئی ڈیٹا بیس کے ایک اپ ڈیٹ میں سامنے آئے ہیں، جس میں وہ کمپنیاں شامل ہیں جو یہودی بستیوں سے متعلق مخصوص دس شعبوں کی سرگرمیوں میں ملوث ہیں۔
تازہ ترین اپ ڈیٹ میں زراعت، نقل و حمل، گوداموں کے انتظام، کچرے کے انتظام، توانائی، خوراک اور مہمان نوازی کے شعبوں میں کام کرنے والی کمپنیوں کی سرگرمیوں کا احاطہ کیا گیا ہے، جبکہ فہرست میں 61 نئی کمپنیاں شامل کی گئی ہیں اور 5 کمپنیوں کو اس وقت ہٹا دیا گیا جب جائزہ لینے پر یہ بات سامنے آئی کہ وہ اب اس دائرہ کار میں آنے والی سرگرمیوں سے وابستہ نہیں رہیں۔
کمیشن نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ وہ دیگر ان کمپنیوں کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہے جن کے تشخیص کا عمل رپورٹ جاری ہونے سے پہلے مکمل نہیں ہو سکا تھا، یہ عمل سنہ 2024ء میں معلومات فراہم کرنے کے لیے جاری کی گئی ایک عمومی دعوت کے بعد کیا جا رہا ہے۔
596 کمپنیوں سے متعلق معلومات میں سے کمیشن نے گزشتہ برس 215 کمپنیوں کے ڈیٹا کا جائزہ لیا، جبکہ رواں برس مزید 126 کمپنیوں کے جائزے کا کام مکمل کیا، اس تشخیص میں اس بات پر خصوصی توجہ مرکوز کی گئی کہ کمپنیوں کی سرگرمیوں کا فلسطینیوں کے حقِ خود ارادیت پر کیا اثر پڑتا ہے۔
کمیشن نے کمپنیوں کے ملوث ہونے کی سطح کو تین صورتوں میں تقسیم کیا ہے، جن میں پہلی صورت ’سبب بننا‘ ہے جب کسی کمپنی کی سرگرمیاں خود اتنی موثر ہوں کہ انسانی حقوق میں سے کسی حق سے لطف اندوز ہونے پر اثر انداز ہوں، دوسری صورت ’معاونت کرنا‘ ہے جب کسی کمپنی کی سرگرمیاں فریقِ ثانی کی سرگرمیوں کے ساتھ مل کر منفی اثر پیدا کرنے میں مدد دیتی ہیں، اور تیسری صورت ’براہ راست تعلق‘ ہے جب کسی کمپنی کے امور، مصنوعات یا خدمات کا انسانی حقوق پر پڑنے والے منفی اثرات کے ساتھ براہ راست تعلق ہوتا ہے۔
تشخیص کے نتائج سے یہ بات عیاں ہوئی کہ فہرست میں شامل 214 میں سے 200 کمپنیاں حقِ خود ارادیت پر منفی اثرات مرتب کرنے میں معاونت کر رہی ہیں، جبکہ 14 کمپنیاں ان اثرات کے ساتھ براہ راست جڑی ہوئی ہیں، تاہم کمیشن کی طرف سے فہرست میں شامل کسی بھی کمپنی کی جانب سے براہ راست سبب بننے کا کوئی کیس ثابت نہیں ہو سکا۔
اقوام متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق فولکر تورک نے اس بات پر زور دیا کہ یہ رپورٹ کمپنیوں کو انسانی حقوق سے متعلق ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کراتی ہے، اور انہوں نے اس بات کی اہمیت پر زور دیا کہ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں یا تجاوزات میں ملوث ہونے سے بچنے کے لیے مکمل جانچ پڑتال اور احتیاطی تدابیر اختیار کی جائیں۔
اس فہرست میں زیادہ تر کمپنیاں قابض اسرائیل سے تعلق رکھتی ہیں، جن کے ساتھ ساتھ دیگر 10 ممالک کی بین الاقوامی کمپنیاں بھی شامل ہیں، جن میں امریکہ کی 8 کمپنیاں، اسپین کی 3 کمپنیاں، برطانیہ، فرانس اور چین کی دو دو کمپنیاں، جبکہ جنوبی افریقہ، لکسمبرگ، نیدرلینڈز، جرمنی اور میکسیکو کی ایک ایک کمپنی شامل ہے۔
اقوام متحدہ کی ڈیٹا بیس کا یہ اپ ڈیٹ قابض اسرائیل کی ان یہودی بستیوں سے متعلق معاشی سرگرمیوں کی بین الاقوامی نگرانی کے پس منظر میں سامنے آیا ہے جو مقبوضہ فلسطینی سرزمین پر بشمول مقبوضہ بیت المقدس قائم کی گئی ہیں، اور یہ اقوام متحدہ کے اس مؤقف کے تحت ہے جو یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے منافی قرار دیتا ہے اور اس بات کی دعوت دیتا ہے کہ کوئی بھی ایسے اقدامات نہ اٹھائے جائیں جو انہیں مستحکم کرنے یا وسعت دینے کا سبب بنیں۔
