غزہ (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اقوام متحدہ کی ریلیف اینڈ ورکس ایجنسی برائے فلسطینی پناہ گزین (انروا) نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کی پٹی میں تقریباً 20 لاکھ فلسطینی، جو مجموعی آبادی کا 94 فیصد ہیں، فوری طور پر رہائشی امداد اور غیر غذائی ضروری اشیا کے منتظر ہیں۔
اقوام متحدہ کے ادارے نے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر جاری کردہ ایک رپورٹ میں بتایا کہ تقریباً 19 لاکھ 80 ہزار افراد کو فوری طور پر رہائش سے متعلق امداد درکار ہے، جبکہ غزہ کی 58 فیصد آبادی کو رہائش کے حوالے سے سنگین یا تباہ کن ضروریات کا سامنا ہے۔ یہ صورتحال انسانی اور رہائشی حالات میں مسلسل بگاڑ کے باعث پیدا ہوئی ہے۔
انروا کی جانب سے 113 مقامات پر کیے گئے جائزے میں 18 غیر محفوظ ہنگامی پناہ گاہوں کی نشاندہی کی گئی، جن میں بعض عمارتوں کو ڈھانچے کے منہدم ہونے کے انتہائی زیادہ خطرات لاحق ہیں۔
ادارے نے پانی کے بڑھتے ہوئے بحران کی بھی نشاندہی کرتے ہوئے بتایا کہ غزہ کی 84 فیصد آبادی کو صاف پانی کی فراہمی میں بار بار اور غیر متوقع تعطل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
انروا کے مطابق غزہ کی پٹی بھر میں 89 فیصد خاندانوں کو حفظانِ صحت کی بنیادی اشیا کی شدید قلت کا سامنا ہے، جس سے موسم سرما کی آمد کے ساتھ صحتِ عامہ اور انسانی بحران کے خطرات مزید بڑھ رہے ہیں۔
رپورٹ کے نتائج غزہ میں انسانی بحران کی سنگینی کو ظاہر کرتے ہیں، جہاں رہائش کے عدم تحفظ، صاف پانی کی غیر یقینی فراہمی اور صفائی ستھرائی کی بنیادی اشیا کی قلت کے باعث بے گھر خاندان موسم سرما کی سختیوں کے مقابلے میں مزید غیر محفوظ ہوتے جا رہے ہیں۔