پیرس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) یورپی یونین اور قابض اسرائیل کے درمیان شراکت داری کے معاہدے کی معطلی کا مطالبہ کرنے والی ایک یورپی پٹیشن پر محض تین ماہ کے اندر دس لاکھ سے زائد دستخط رجسٹرڈ ہو چکے ہیں۔ یہ اقدام یورپی اداروں کے اندر بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ اور اس کے ایک قانونی تحریک میں تبدیل ہونے کی عکاسی کرتا ہے۔
اس مہم کا آغاز یورپی شہریوں کی پہل (یورپی سیٹیزن انیشیٹو) کے طریقہ کار کے تحت کیا گیا تھا جو شہریوں کو یورپی یونین کی پالیسیوں پر براہ راست اثر انداز ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ یہ پٹیشن شراکت داری کے معاہدے کی دفعہ 2 پر مبنی ہے جس میں معاہدے کے تسلسل کو انسانی حقوق کے احترام سے مشروط کیا گیا ہے اور پٹیشن میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ قابض اسرائیل ان حقوق کی کھلم کھلا خلاف ورزی کر رہا ہے۔
یورپی کمیشن کے یورپی شہریوں کے اقدامات سے متعلق صفحے کے اعداد و شمار کے مطابق شراکت داری کے معاہدے کی معطلی کا مطالبہ کرنے والی اس پٹیشن پر تین ماہ میں دس لاکھ سے زائد دستخط ہو چکے ہیں۔ کمیشن نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اس مہم نے باضابطہ منظوری کے لیے تمام قانونی شرائط پوری کر لی ہیں۔
یہ عوامی تحریک غزہ کی پٹی پر مسلط کی گئی جنگ کے آغاز کے بعد سے یورپ میں جاری احتجاج کی وسیع لہر کے ساتھ شروع ہوئی ہے، جہاں درجنوں ممالک میں بڑے پیمانے پر مظاہرے اور سرگرمیاں ریکارڈ کی گئیں، جس نے سڑکوں کے اس جوش و خروش کو سرکاری اداروں تک منتقل کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔
یورپی فلسطینی کونسل برائے سیاسی تعلقات کی جانب سے جاری کردہ ایک مطالعے کے مطابق یورپی یونین قابض اسرائیل کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاہدے کی جزوی معطلی کا کوئی بھی قدم قابض ریاست پر نمایاں معاشی اثرات مرتب کر سکتا ہے۔
یورپی کمیشن کے اعداد و شمار کے مطابق منگل کی فجر تک دستخطوں کی تعداد دس لاکھ سات ہزار تین سو اکتیس تک پہنچ گئی تھی، جس نے اس مہم کو ایک نئی قوت عطا کر دی ہے۔
اس مہم کی قیادت یورپی سیاسی قوتیں بالخصوص بائیں بازو کے اتحاد کر رہے ہیں جنہیں عرب برادریوں اور فلسطینی اداروں کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ دستخطوں کے اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ فرانس، اٹلی اور سپین جیسے ممالک اس فہرست میں پیش پیش ہیں، جو یورپی عوامی مزاج میں آنے والی ایک بڑی تبدیلی کی علامت ہے۔
اب یہ پٹیشن قانونی طریقہ کار کے اگلے مرحلے میں داخل ہو رہی ہے جس میں دستخطوں کی تصدیق اور انہیں باضابطہ طور پر پیش کرنا شامل ہے۔ اس کے بعد یورپی کمیشن کئی ماہ تک اس کا جائزہ لے گا جس کے دوران یورپی پارلیمنٹ میں سماعتیں بھی منعقد کی جائیں گی۔
دستخطوں کی اس تعداد تک پہنچنا ایک اہم موڑ ہے کیونکہ یہ یورپی اسرائیل تعلقات کے مستقبل پر باضابطہ بحث کا دروازہ کھولتا ہے اور یورپی یونین کے اداروں کو ایک ایسے سیاسی و قانونی امتحان میں ڈال دیتا ہے جس کا تعلق ان انسانی حقوق کی اقدار سے ہے جن کا وہ دعویٰ کرتے ہیں۔
