رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) کلب برائے اسیران نے قابض اسرائیل کی عدالت کی جانب سے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی من مانی حراست میں توسیع کے فیصلے کی شدید الفاظ میں مذمت کی ہے۔ کلب برائے اسیران کا کہنا ہے کہ یہ اقدام غزہ کی پٹی کے ان سینکڑوں شہریوں کے خلاف قانون سے ماورا حراستی پالیسی کو مستحکم کرنے کی ایک کڑی ہے جنہیں نسل کشی کے آغاز سے ہی جبری طور پر قید کیا گیا ہے۔
کلب برائے اسیران نے اس بات پر زور دیا کہ دسمبر سنہ 2024ء سے زیر حراست ڈاکٹر ابو صفیہ کی قید کا تسلسل بین الاقوامی قانون کے تحت ایک سنگین جرم ہے اور یہ نسل کشی کے جرم کا بنیادی حصہ ہے۔ طبی عملے اور صحت کی تنصیبات کو منظم اور بے مثال طریقے سے نشانہ بنانا اس منظم پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینیوں کا مٹاؤ، تباہی اور ان کی بقا کے اسباب کو ختم کرنا ہے۔
ادارے نے وضاحت کی کہ قابض صہیونی انتظامیہ کے اعلانات کے مطابق غزہ کی پٹی سے تعلق رکھنے والے 1251 اسیران کو غیر قانونی جنگجوؤں کے نام نہاد درجے میں رکھا گیا ہے تاکہ بغیر کسی الزام یا قانونی ضمانت کے ان کی جبری حراست کو جواز فراہم کیا جا سکے۔
کلب برائے اسیران نے مزید کہا کہ غزہ کے اسیران کے خلاف ڈھائے جانے والے مظالم وحشت اور خطرے کی بدترین سطح پر پہنچ چکے ہیں۔ سینکڑوں دستاویزی شہادتیں اس منظم شکنجے کو بے نقاب کرتی ہیں جس میں جسمانی و نفسیاتی اذیت رسانی، بھوکا رکھنا، تذلیل اور جنسی حملے شامل ہیں۔
