Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

پاکستان

پاکستان کو غیر مستحکم کرنے کی بین الاقوامی تثلیث

تحریر: ڈاکٹر صابر ابو مریم
سیکرٹری جنرل فلسطین فائونڈیشن پاکستان
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) حال ہی میں روشنیوں کے شہر کراچی کے علاقے گلستانِ جوہر میں سندھ رینجرز کے بھٹائی ونگ ہیڈکوارٹرز پر ہونے والا بزدلانہ اور ہولناک دہشت گردانہ حملہ درحقیقت کوئی الگ تھلگ واقعہ نہیں ہے۔ یہ اس خوفناک اور منظم ترین سلسلے کی ایک نئی کڑی ہے جس کے تحت پاکستان کو اندرونی طور پر کھوکھلا اور غیر مستحکم کرنے کے لیے ایک بین الاقوامی سازش رچی جا رہی ہے۔ اس حملے میں رینجرز کے غیور جوانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر کے نہ صرف صیہونی اور را (RAW) کے مہروں کو عبرت ناک انجام تک پہنچایا، بلکہ ایک بار پھر یہ ثابت کر دیا کہ پاکستان کے دفاعی ادارے ملک کی ارضی سالمیت کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔

پاکستان کے مختلف شہروں اور صوبوں، بالخصوص خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں آئے روز ہونے والے دھماکے، سیکیورٹی فورسز پر حملے اور چینی انجینئرز کو نشانہ بنانے کے واقعات اس بات کا منہ بولتا ثبوت ہیں کہ پاکستان کے ازلی دشمن اس ایٹمی مملکت کی معاشی ترقی اور اسٹریٹجک خود مختاری کو ہضم کرنے میں بری طرح ناکام رہے ہیں۔خاص طور پر ایسے حالا ت میں کہ جب پاکستان عالمی امن کی کوششوں میں پیش پیش ہے۔

پاکستان کے خلاف جاری اس ففتھ جنریشن وار (Fifth Generation War) کے تانے بانے واشنگٹن، تل ابیب اور نئی دہلی کی شیطانی تثلیث (Triad) سے ملتے ہیں۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کا یہ گٹھ جوڑ خطے میں پاکستان کے بڑھتے ہوئے جیو پولیٹیکل اثر و رسوخ، پاک-چین اقتصادی راہداری (CPEC) اور عالمِ اسلام میں پاکستان کے اصولی موقف کو سبوتاژ کرنا چاہتا ہے۔

پاکستان کی تاریخ اس بات کی گواہ ہے کہ جب بھی اس ملک نے اپنی خودمختاری کا سودا کرنے سے انکار کیا، اسے داخلی عدم استحکام کا نشانہ بنایا گیا۔ اگر ہم ماضی کے شواہد پر نظر دوڑائیں تو پاکستان کے سابق وزیرِ داخلہ رحمان ملک (مرحوم) نے سرکاری سطح پر یہ سنسنی خیز انکشاف کیا تھا کہ اسلام آباد میں قائم امریکی سفارت خانے اور قونصلیٹ میں جدید ترین جاسوسی آلات کے ذریعے ہمارے اعلیٰ حکام، وزراء اور دفاعی عہدیداروں کے فون ٹیپ کیے جاتے ہیں اور ملکی سیکیورٹی سے متعلق حساس ڈیٹا چوری کیا جاتا ہے۔

امریکی سفارت خانوں کی اس قسم کی مشکوک سرگرمیاں اور سفارتی آداب کی کھلی خلاف ورزیاں اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ واشنگٹن کرپشن اور احتساب کی آڑ میں یا سفارتی چھتری کا استعمال کر کے پاکستان کے داخلی معاملات کو اپنے اشاروں پر چلانا چاہتا ہے، تاکہ یہاں ایک مستقل ہیجان کی کیفیت برقرار رہے اور اسرائیل و بھارت کو اپنے مکروہ ایجنڈے آگے بڑھانے کا موقع مل سکے۔

کراچی رینجرز ہیڈکوارٹر پر حملے کے بعد گرفتار ہونے والے جماعت الاحرار کے دہشت گرد کے حالیہ اعترافی بیانات نے اس پوری سازش کا بھانڈا پھوڑ دیا ہے۔ تفتیش کے دوران یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس حملے کے ماسٹر مائنڈز اور کارندوں کو افغانستان کی سرزمین پر باقاعدہ عسکری اور تکنیکی تربیت فراہم کی گئی تھی۔

آج یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو چکی ہے کہ افغانستان میں طالبان حکومت کے دعوؤں کے برعکس، وہاں امریکی سرپرسرتی میں بھارتی خفیہ ایجنسی را (RAW) اور اسرائیلی مہم جو ایجنسی موساد (Mossad) انتہائی متحرک ہیں۔ امریکہ کی طویل موجودگی کے دوران جو انفراسٹرکچر وہاں قائم کیا گیا تھا، اسے آج بھی پاکستان کے خلاف دہشت گردوں کو محفوظ پناہ گاہیں فراہم کرنے، فنڈنگ کرنے اور امریکی ساختہ جدید ترین ہتھیار ان کے حوالے کرنے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے حالیہ دنوں میں پاک-افغان سرحد کے اس پار دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر کیے جانے والے فضائی حملے اسی مایوس کن صورتحال کا ردِعمل ہیں، کیونکہ کابل کی سرزمین کو پاکستان میں خونریزی کے لیے مسلسل لانچنگ پیڈ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔

صرف کراچی ہی نہیں، بلکہ بلوچستان میں حالیہ مہینوں میں ہونے والے بڑے پیمانے پر مربوط حملے اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی چیک پوسٹوں کو نشانہ بنانا اسی وسیع تر منصوبے کا حصہ ہیں۔ ان حملوں کا اصل مقصد یہ تاثر دینا ہے کہ پاکستان ایک غیر محفوظ ریاست ہے، تاکہ بیرونی سرمایہ کاری کو روکا جا سکے اور سی پیک کو ناکام بنا کر چین کو اس خطے سے دور رکھا جائے۔
اسرائیل اس سازش میں اس لیے برابر کا شریک ہے کیونکہ وہ مشرقِ وسطیٰ میں اپنے وحشیانہ مظالم اور غزہ و لبنان پر کی جانے والی جارحیت کے خلاف پاکستان کی مضبوط اور واضح سفارتی آواز کو دبانا چاہتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ موساد اور را کے مشترکہ فنڈز سے چلنے والے دہشت گرد گروپ پاکستان کے معاشی مرکز کراچی اور تزویراتی صوبے بلوچستان کو مستقل طور پر میدانِ جنگ بنائے رکھنا چاہتے ہیں۔موساد کو براہ راست امریکی سرپرستی بھی حاصل ہے۔

خلاصہ کلام یہ ہے کہ موجودہ حالات اس بات کا تقاضا کرتے ہیں کہ پاکستان کی سیاسی قیادت، عسکری ادارے اور عوام بیرونی طاقتوں کے ان خطرناک عزائم کو سمجھیں۔ امریکہ، اسرائیل اور بھارت کی یہ تثلیث پاکستان کو معاشی اور دفاعی طور پر گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرنا چاہتی ہے، لیکن وہ یہ بھول رہے ہیں کہ یہ ۲۵ کروڑ غیور عوام اور دنیا کی بہترین ایٹمی فوج کا وطن ہے۔
پاکستان کو اب سفارتی سطح پر افغانستان کے سامنے سخت ترین موقف اپنانا ہوگا اور واشنگٹن کی ڈکٹیشن یا ان کی بلیک میلنگ کے آگے جھکنے کے بجائے اپنی داخلی سلامتی کو اولین ترجیح بنانا ہوگا۔ کراچی رینجرز پر حملہ کرنے والوں کا عبرت ناک انجام اس بات کا واضح پیغام ہے کہ پاکستان کے دفاع پر مامور ادارے بیدار ہیں اور وطنِ عزیز کے خلاف بُنی جانے والی ہر صیہونی و بھارتی سازش کو خاک میں ملا کر دم لیں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan