تحریر: سعداللہ زارعی
(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل کے بدکردار وزیرِاعظم نیتن یاہو کا عجلت میں امریکہ کا دورہ کرنا اور ٹرمپ، وینس، روبیو اور ہیگسِت کے ساتھ مشترکہ ملاقات کرنا، جو امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے حوالے سے فیصلہ سازی کرنے والی یہی ٹیم ہے، اس بات کی شدید تشویش کی وجہ سے ہے کہ صہیونی حکومت اور خود نیتن یاہو اس وقفے سے سخت پریشان ہیں جو مذکورہ جنگ میں پیدا ہوا ہے اور معمول کی حد سے زیادہ طول پکڑ رہا ہے۔ یہ صورتحال اس بات کی بھی عکاسی کرتی ہے کہ امریکی عسکری ادارہ ایران کے ساتھ جنگ میں مناسب یا کم از کم کسی حد تک قابلِ قبول نتیجہ حاصل کرنے میں بے عملی اور مایوسی کا شکار ہے۔
نیتن یاہو اور غاصب حکومت کے دیگر عہدیداروں کی شدید تشویش یہ ہے کہ ایران کے ساتھ امریکی جنگ کا انجام ان دو حتمی نتائج میں سے کسی ایک پر ہو سکتا ہے، اور دونوں ہی صورتیں ایران کے لیے فتح جبکہ امریکہ، اسرائیل اور جنگ میں شامل عرب ممالک کے لیے شکست تصور ہوں گی:
1۔ جنگ کسی معاہدے کے بغیر ختم ہو جائے اور اس کا نتیجہ یہ ہو کہ آبنائے ہرمز ایران کی فتح کی سب سے بڑی علامت کے طور پر مستقل طور پر اسلامی جمہوریہ ایران کے کنٹرول میں رہے، جبکہ ایران کی بحری ناکہ بندی جو بالآخر زوال پذیر اقتصادی پابندیوں ہی کا ایک عملی روپ ہے، ایک کمزور اور غیر مستقل ناکہ بندی کی صورت میں برقرار رہے۔ اس کا مطلب ایران کے لیے ایک فیصلہ کن تزویراتی فتح (تزویراتی فتح = ایسی کامیابی جو صرف فوری فائدہ نہ ہو بلکہ مستقبل میں بھی بڑا اور دیرپا فائدہ دے) اور امریکہ کے لیے ایک کمزور اور عارضی حربی کامیابی ہوگی۔
2۔ یا پھر جنگ کے فریقین کے درمیان دوبارہ مذاکرات شروع ہوں، جن کا مقصد اسلام آباد مفاہمتی یادداشت میں درج اختلافات کو حل کرنا ہو، اور اس کا نتیجہ درج ذیل دو صورتوں میں سے ایک ہو:
3۔ ایران کے خلاف جنگ کے مستقل خاتمے کا اعلان کیا جائے اور ایران کی جانب سے اپنے جوہری پروگرام کے بارے میں غیر واضح نتیجے کے ساتھ مذاکرات قبول کیے جائیں۔ ایسی صورت میں بھی ایران کی کامیابی تزویراتی اور واضح ہوگی اور ایران کے مطالبات کی پہلی شق پوری ہو جائے گی، جبکہ امریکہ کی کامیابی محدود اور غیر مستحکم ہوگی۔
4۔ یا پھر موجودہ صورتحال برقرار رہے، یعنی دونوں فریق ایک دوسرے کے خلاف محدود اور تھکا دینے والی کارروائیاں جاری رکھیں، جبکہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنا کنٹرول برقرار رکھے اور وقت گزرنے کے عنصر سے فائدہ اٹھائے اور ممکنہ طور پر ایران کے یمنی اتحادی بحیرۂ احمر پر مستقل کنٹرول حاصل کر لیں۔ اس ممکنہ صورت میں بھی ایران کی کامیابی تزویراتی ہوگی، جبکہ امریکہ کی کامیابی غیر یقینی رہے گی۔ دوسرے لفظوں میں، ایران اپنی تزویراتی کامیابی کے ساتھ موجود رہے گا، جبکہ امریکہ اس مقصد کے حصول کے لیے کوشش کرتا رہے گا جس کے حاصل ہونے کی اسے کوئی ضمانت نہیں۔ اس ممکنہ صورتحال میں ایران کو ایک طاقتور دباؤ کا ذریعہ حاصل ہو جائے گا، جس کے ذریعے وہ دشمن کے ساتھ کسی مفاہمت کے بغیر، وقت کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں درج اپنے تمام مطالبات منوا سکتا ہے۔
یہ معاملات فطری طور پر اسرائیلیوں کے لیے شدید تشویش کا باعث بن گئے ہیں کیونکہ یہ ان کے بنیادی منصوبے سے سخت متصادم ہیں، جس کا مقصد کئی جنگوں اور تین سال کی شدید کشمکش کے بعد اپنی پوزیشن کو مستحکم کرنا ہے اور اس سے غاصب حکومت کی سیاسی اور سلامتی کی صورتحال کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔ مزید یہ کہ اس کے نتیجے میں اسرائیل کے سیاسی عمل میں حزب اور خود نیتن یاہو کی یقینی شکست واقع ہو سکتی ہے، بالخصوص نومبر میں ہونے والے انتخابات میں۔ ان دنوں نیتن یاہو کے حامیوں اور مخالفین کی جانب سے میڈیا اور عسکری، انٹیلی جنس اور سیاسی حلقوں میں شائع ہونے والے مواد کا جائزہ لیا جائے تو ان سب میں جنگ کے ایران کے حق میں مکمل خاتمے کے حوالے سے ان کی تشویش واضح طور پر نظر آتی ہے۔