Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

فلسطین

نومبر کے فلسطینی قومی کونسل انتخابات پر التوا کے بادل منڈلانے لگے

مقبوضہ فلسطین – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) ایک فلسطینی سیاسی تخمینے میں یہ امکان ظاہر کیا گیا ہے کہ آئندہ اٹھائیس نومبر کو طے شدہ قومی کونسل کے انتخابات کو مؤخر کیا جا سکتا ہے۔ اس میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ صدارتی فرامین اور بیرون ملک نمائندوں کے انتخاب کے طریق کار پر مسلسل تنازعہ قابض اسرائیل اور امریکہ کی طرف سے دباؤ، اور تحریک فتح کے اندرونی اختلافات ایسے عوامل ہیں جن کی وجہ سے مقررہ وقت پر انتخابات کا انعقاد سب سے کم ممکنہ منظرنامہ بن چکا ہے۔

مرکز اطلاعات فلسطین کے لیے کالم نگار عریب الرنتاوی کی تیار کردہ اس تخمینے کی رپورٹ میں اشارہ دیا گیا ہے کہ انتخابی عمل کے آغاز ہی سے صدارتی فرامین اور ترامیم کا ایک ایسا سلسلہ شروع ہو گیا تھا جس نے وسیع پیمانے پر تنازعے کو جنم دیا۔ اس کا آغاز قانون ساز کونسل کے ارکان کی تعداد بڑھا کر دوسو تک کرنے اور نئے قومی کونسل کے ڈھائی سو ارکان میں ’اندرون‘ کی نمائندگی کے ساتھ ان کا جوڑ لگانے سے ہوا، جبکہ بیرون ملک نمائندوں کے انتخاب کا طریقہ کار تقرری، توافق یا جسے ’انتخابی اجتماعات‘ کہا جاتا ہے، کے لیے کھلا رکھا گیا۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ بعد میں آنے والے ایک فرمان کے ذریعے قانون ساز کونسل کے ارکان کی تعداد کو دوبارہ ایک سو بتیس کر دیا گیا، تقرری کے ذریعے کورم کو دوسو ارکان تک پورا کیا گیا۔ تخمینے میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ان تبدیلیوں نے اس کے علاوہ صدارتی انتخابات کو اگلے سال کی پہلی سہ ماہی تک مؤخر کرنے جیسے امور نے، انتخابی عمل کے محرکات اور اس کے سیاسی پس منظر کے حوالے سے کئی سوالات کو جنم دیا ہے۔

فلسطینی سیاسی نظام کی از سر نو تشکیل پر تنازعہ

تخمینے کے مطابق زیرِ بحث انتخابات کسی همہ گیر قومی اتفاق رائے کے پس منظر میں سامنے نہیں آ رہے، بلکہ یہ سیاسی تقسیم اور ان کے مقاصد کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات کے درمیان ہو رہے ہیں۔ ناقدین کا خیال ہے کہ یہ انتخابات فلسطینی سیاسی نظام کی ایسی ’از سر نو تشکیل‘ کا حصہ ہو سکتے ہیں جو اسے امریکی اور قابض اسرائیل کے فیصلوں کے نتائج کے ساتھ زیادہ مطابقت رکھنے کے قابل بنائے۔

رپورٹ میں یہ بھی اشارہ دیا گیا ہے کہ تنازعہ صرف انتخابی طریقہ کار تک محدود نہیں رہا، بلکہ اس کا دائرہ کار بیرون ملک فلسطینیوں کی نمائندگی کے مسئلے تک بھی پھیل گیا۔ اس دوران اردن اور قابض اسرائیل میں موجود چھ ملین سے زائد فلسطینیوں کو قومی کونسل کی نمائندگی سے باہر رکھے جانے کی اطلاعات بھی گردش کرتی رہیں، جسے تخمینے میں فلسطینی نمائندگی کے دائرے کی نئی تعریف قرار دیا گیا ہے۔

تخمینے میں انتخابی کامیابی کی حد کو کم کر کے ایک فیصد کرنے پر بھی غور کیا گیا اور یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ اس قدم سےدھڑوں کی نمائندگی کے مقابلے میں افراد، مقامی فہرستوں اور قبائلی نمائندگی میں اضافہ ہو سکتا ہے، جس سے کونسل کی ماہیت اور اس کے سیاسی و قانون ساز کردار میں تبدیلی آ سکتی ہے۔

دھڑے، شرکت اور اعتراضات کے درمیان

تخمینے کے مطابق وطنی و اسلامی عمل کے بیشتر دھڑوں نے انتخابی مرحلے میں حصہ لینے کے لیے آمادگی ظاہر کی ہے، حالانکہ اس کے کہ انہیں بہت سی شروط اور کارروائیوں پر اعتراضات ہیں، بالخصوص تقرری، ’انتخابی اجتماعات‘ اور اس عمل کے ساتھ جڑی ہوئی پابندیوں پر تحفظات ہیں۔

رپورٹ میں اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ پاپولر فرنٹ فار لبریشن آف فلسطین نے اس معاملے کو مؤخر کرنے کی ایک انوکھی پہل کی ہے تاکہ ایسے قومی مباحثوں کے لیے موقع فراہم کیا جاسکے جو انتخابات سے آگے بڑھ کر فلسطینی چیلنجز کا مقابلہ کرنے کے لیے ایک قومی لائحہ عمل کی تشکیل پر منتج ہونے والے سمجھوتوں تک پہنچیں۔

دوسری طرف متعدد فلسطینی شخصیات، کمیونٹیز اور اقدامات کی طرف سے انتخابات کے بائیکاٹ کی کالیں بھی سامنے آئیں، جو اندازے کے مطابق ”پہلے سے طے شدہ انجینئرنگ“، باہر کرنے والی شروط اور تقرری کے وسیع دائرے کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرا رہی تھیں۔ تاہم زیادہ تر مزاحمتی دھڑوں کے اس عمل میں اترنے کے فیصلے کی وجہ سے یہ کالیں بائیکاٹ کی کسی بڑی لہر میں تبدیل نہیں ہو سکیں۔

انتخابات کے انجام کے لیے چار منظرنامے

تخمینے میں انتخابات کے انجام کے لیے چار ممکنہ منظرنامے پیش کیے گئے ہیں، جن میں سب سے نمایاں اور سب سے زیادہ متوقع منظرنامہ انتخابی مرحلے کا التواء ہے، خواہ یہ کسی متبادل تاریخ کے تعین کے ذریعے ہو یا تاریخ کو کھلا چھوڑنے کے ذریعے، جو عملی طور پر اس کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے۔ تخمینہ اس احتمال کو قابض اسرائیل اور امریکہ کے دباؤ کے ساتھ ساتھ انتخابی نتائج کے ان خدشات سے بھی جوڑتا ہے جو فلسطینی سیاسی نظام کے اندر طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے کا باعث بن سکتے ہیں۔

جہاں تک دوسرے منظرنامے کا تعلق ہے تو وہ موجودہ ادارہ جاتی صورت حال کو برقرار رکھتے ہوئے انتخابات کو مؤخر کرنا یا ختم کرنا ہے۔ جب کہ تیسرا منظرنامہ سنہ دو ہزار چھ میں منتخب ہونے والی قانون ساز کونسل کو دوبارہ فعال کرنے اور تقرری کے ذریعے اس کی خالی نشستوں کو پُر کرنے کی تجویز پیش کرتا ہے، جو اندرون اور بیرون ملک سے مقرر کردہ ارکان کے ذریعے قومی کونسل کے کورم کو مکمل کرنے کے موازی ہے۔

چوتھا منظرنامہ مقررہ وقت پر انتخابات کا انعقاد ہے، جو کہ سب سے کم متوقع ہے، کیونکہ تخمینے کے مطابق تحریک فتح کے اندر مصالحت مکمل ہونے یا انتخابی اتحاد طے پانے سے پہلے اس کو آگے بڑھانا ایسے نتائج کا باعث بن سکتا ہے جو سنہ دو ہزار چھ کے انتخابات کے بعد کے بحران کو دوبارہ جنم دے سکتے ہیں، خاص طور پر اس تناظر میں جسے تخمینہ سیاسی عمل کے نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے ممکنہ اسرائیلی مداخلت قرار دیتا ہے۔

نئے قومی ڈھانچے کی تعمیر کی دعوت

اپنی سفارشات میں تخمینے نے مزاحمتی گروپوں، قومی قوتوں، آزاد شخصیات اور عوامی قوتوں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی سیاسی نظام کے انتظام میں انفرادیت کا مقابلہ کرنے اور فلسطینی تنظیموں اور عوامی یونینوں کو دوبارہ فعال کرنے کے قابل ایک سیاسی قطب کی تعمیر کے لیے ایک ”وسیع متحد محاذ“ یا ”تاریخی بلاک“ تشکیل دیں۔

اس نے ایک ایسے قومی جمہوری قطب کو واضح کرنے کی بھی دعوت دی ہے جو نئی نسل کے کارکنوں، شخصیات اور روایتی سیاسی فریم ورک سے باہر کے اقدامات کو شامل کرے، تاکہ وہ سیاسی نظام کے اندر توازن کا عنصر بن سکے اور قومی تحریک کی تشکیل نو اور اس کے اداروں اور آلات کی تجدید میں حصہ لے سکے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan