نابلس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض اسرائیلی حکام نے نابلس کے بلاطہ کیمپ سے تعلق رکھنے والی خاتون اسیرہ ڈاکٹر منال حمد بدرساوی کو چھ ماہ قید کی کٹھن صعوبتیں کاٹنے کے بعد رہا کر دیا ہے۔
ان کی یہ رہائی 3 نومبر سنہ 2025ء کو نابلس شہر کے شارع القدس میں واقع ان کے گھر پر غاصب دشمن کی وحشیانہ چھاپہ مار کارروائی کے دوران ان کی گرفتاری کے بعد عمل میں آئی ہے جس کے بعد گذشتہ مارچ کے مہینے میں قابض اسرائیل کی نام نہاد عدالتوں نے انہیں چھ ماہ قید کی سزا سنائی تھی۔
48 سالہ ڈاکٹر بدرساوی نابلس شہر کی النجاح نیشنل یونیورسٹی میں کلینیکل نیوٹریشن کے شعبے میں بطور لیکچرر اپنی خدمات انجام دے رہی ہیں اور انہیں محض ان کے فلسطینی نصب العین سے وابستگی کی بنا پر نشانہ بنایا گیا۔
اسیران کے حوالے سے کام کرنے والے فلسطینی اداروں کے تازہ اعداد و شمار کے مطابق اب بھی تقریبا 90 فلسطینی خواتین اسیرات قابض اسرائیل کے تاریک عقوبت خانوں میں قید و بند کی اذیت ناک زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔
کلب برائے اسیران فلسطین نے اس حوالے سے تفصیلی معلومات فراہم کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ خواتین اسیرات کی اکثریت الدامون جیل میں قید ہے جن میں دو کمسن بچیاں اور ایک ایسی خاتون اسیرہ بھی شامل ہے جو تین ماہ کی حاملہ ہے جبکہ 25 خواتین اسیرات کسی جرم کے بغیر محض انتظامی حراست کے تحت صہیونی قید میں ہیں اور تین صحافی خواتین کو بھی ان کی پیشہ وارانہ ذمہ داریوں کی سزا دی جا رہی ہے۔ اس کے علاوہ دو ایسی خواتین اسیرات بھی موجود ہیں جو کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہونے کے باوجود قابض دشمن کی قید میں ہیں اور دیگر دو وہ ہیں جو جنگ کے آغاز سے پہلے ہی سے صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہیں۔
کلب برائے اسیران نے اس المناک صورتحال کی جانب بھی اشارہ کیا ہے کہ یہ خواتین اسیرات قابض دشمن کے ہاتھوں انتہائی سنگین اور غیر انسانی حالات کا سامنا کر رہی ہیں جن میں انہیں جان بوجھ کر بھوکا رکھنا، بنیادی ضروریات سے محرومی، دانستہ طبی غفلت، تشدد، تنہائی میں قید اور مختلف قسم کے حملے شامل ہیں جبکہ برہنہ تلاشی جیسی تذلیل آمیز پالیسی کے ذریعے ان کی عزتِ نفس کو مجروح کرنا غاصب دشمن کا معمول بن چکا ہے۔
