مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مسلح یہودی آباد کاروں کے جتھوں نے گذشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران مقبوضہ مغربی کنارے کے مختلف علاقوں میں فلسطینی شہریوں اور ان کے مال و اسباب پر وحشیانہ حملوں کا ایک نیا سلسلہ شروع کیا ہے۔ یہ حملے قابض اسرائیل کی جانب سے جاری مسلسل خلاف ورزیوں کا حصہ ہیں جس کے جواب میں عوامی سطح پر ہر ممکنہ ذریعے سے مزاحمت کرنے اور ان غاصبوں کے سامنے ڈٹ جانے کی اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
مقبوضہ بیت المقدس کے مشرقی علاقوں میں شرپسند آباد کاروں نے چرواہوں کا پیچھا کیا اور انہیں ہراساں کیا تاکہ انہیں اپنی زمینوں پر جانے اور معاش کے ذرائع تک رسائی سے روکا جا سکے۔
الخلیل کے جنوبی حصے میں آباد کاروں نے السموع نامی بستی کے قریب واقع خربہ الخرابہ پر دھاوا بولا جو اس علاقے پر ہونے والے پے در پے حملوں کا تسلسل ہے۔
مغربی کنارے کے وسطی علاقے میں واقع گاؤں دیر جریر میں انتہا پسند آباد کاروں نے ایک شہری کے گھر پر حملہ کیا اور اشتعال انگیزی کے طور پر اس کی چھت پر قابض اسرائیل کا جھنڈا لہرا دیا۔
نابلس گورنری میں آباد کاروں نے اپنی سفاکیت کی انتہا کرتے ہوئے جالود گاؤں میں ایک معصوم بچے پر حملہ کیا اسے وحشیانہ تشدد کا نشانہ بنایا اور اس کے چہرے پر مرچوں والا سپرے کیا۔ اس کے علاوہ شہر کے جنوب مشرق میں واقع بستیوں جالود اور قصرہ کے درمیانی علاقے میں ہونے والی جھڑپوں کے دوران آباد کاروں نے فلسطینی نوجوانوں پر براہ راست فائرنگ کی۔
رام اللہ کے مغرب میں واقع بیت لقیا کے مقام پر آباد کاروں نے ایک داخلی راستہ بند کر دیا جبکہ رام اللہ کے شمال مشرق میں المغير گاؤں کے جنوب میں کسانوں کی زمینوں پر بھی دھاوا بولا گیا۔
یہ حملے مغربی کنارے کے تمام علاقوں میں آباد کاروں کی بڑھتی ہوئی غارت گری کا حصہ ہیں جنہیں قابض اسرائیلی افواج کی مکمل پشت پناہی اور سکیورٹی حاصل ہے۔
