الخلیل – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) الخلیل کے شمال میں قابض اسرائیلی فوج کی گولیوں سے زخمی ہونے والا ایک فلسطینی نوجوان دم توڑ گیا ہے، جبکہ ہفتے کو مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے مختلف علاقوں میں بڑے پیمانے پر عسکری دھاوے بولے گئے جن کے دوران گھروں میں توڑ پھوڑ، براہ راست فائرنگ، ساؤنڈ بموں اور گیس کے گولوں کا استعمال کیا گیا۔ دوسری جانب یہودی آباد کاروں نے بھی شہریوں اور ان کی املاک پر حملے کیے۔
فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ اسے جنرل اتھارٹی برائے سول امو ر کے ذریعے اطلاع ملی ہے کہ الخلیل کے شمال میں واقع النبی یونس چوک کے قریب جمعہ کے روز قابض فوج کی گولیوں سے شدید زخمی ہونے والا بیت اولا کا رہائشی نوجوان 32 سالہ شادی احمد ابراہیم عجارمہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گیا ہے، جبکہ وزارت نے یہ بھی واضح کیا کہ قابض فوج نے اس کا جسد خاکی اپنے قبضے میں لے رکھا ہے۔
میدانی صورتحال میں کشیدگی کے تسلسل کے طور پر قابض فوج نے ہفتے کی صبح مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے گورنریوں میں متعدد قصبوں، شہروں اور کیمپوں پر دھاوے بولے، شہریوں کے گھروں میں تلاشی لی اور مختلف علاقوں میں انداد دھند فائرنگ اور ساؤنڈ و گیس بموں کا استعمال کیا۔
متعدد گورنریوں میں دھاوے اور چھاپے
قلقیلیہ گورنری میں قابض فوج نے شہر کے مشرق میں واقع عزون اور کفر قدوم قصبوں پر دھاوا بولا، اس کے علاوہ شمالی گزرگاہ کے راستے قلقیلیہ شہر میں داخل ہوئی، جبکہ کفر قدوم پر دھاوے کے دوران کئی گھروں کی تلاشی بھی لی گئی۔
اسی طرح قابض فوج نے نابلس کے جنوب میں واقع قصبے عورتا، شہر کے مشرق میں واقع عسكر الجدید کیمپ اور مغرب میں واقع العین کیمپ پر بھی دھاوا بولا، جو اس عسکری نقل و حرکت کا حصہ تھا جس نے گورنری کے مختلف علاقوں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔
طولکرم گورنری میں قابض فوج نے گورنری کے شمال میں واقع قصبے علار پر دھاوا بول کر متعدد اسیران کے گھروں کی تلاشی لی، جبکہ یہ دھاوے طوباس کے جنوب میں واقع قصبے طمون تک پھیل گئے جہاں قابض فوج نے ایک گھر کا محاصرہ کر لیا، اس کے علاوہ اریحا شہر اور رام اللہ کے شمال میں واقع قصبے ترمسعیا میں بھی کارروائیاں کی گئیں۔
الخلیل میں بموں کا استعمال اور حملے
الخلیل گورنری میں قابض فوج نے گورنری کے جنوب مغرب میں واقع قصبے بیت عوا کے علاقے وادی السیمیا میں شادی ہال کے گردونواح میں گیس اور ساؤنڈ بم برسائے، اس کے علاوہ الخلیل کے شمال میں واقع قصبے بیت امر اور اس کے جنوب میں واقع شہر دورا پر بھی دھاوا بولا۔
مقامی ذرائع نے اطلاع دی ہے کہ شہر دورا پر دھاوے کے بعد قابض فوج نے خربۃ مسلم کے علاقے میں ایک گھر کی تلاشی لی، جبکہ گورنری کے دیگر حصوں میں یہودی آباد کاروں کی جانب سے شہریوں پر حملے بھی کیے گئے۔
یہودی آباد کاروں نے بیت امر قصبے کے علاقے واد الشیخ پر حملہ کیا، جبکہ دیگر افراد نے سعیر قصبے کے علاقے واد خسیس میں ایک فلسطینی نوجوان کو تشدد کا نشانہ بنایا اور الخلیل کے شمال مشرق میں اس کی گاڑی کے شیشے توڑ دیے۔
بیت لحم گورنری میں قابض فوج نے شہر کے جنوب مشرق میں واقع قصبے تقوع پر دھاوا بولا اور قصبے کے اندر عسکری نقل و حرکت جاری رکھی۔
عسکری الرٹ اور قلندیا کیمپ پر دھاوا
دیگر میدانی پیش رفت کے دوران قلقیلیہ شہر کے علاقے المرج کے آسمان پر فلیئر بموں کے گرنے کا سلسلہ جاری رہا، جو کہ دیوار فاصل کے قریب قابض فوج کی نقل و حرکت اور ہیلی کاپٹر کے ذریعے علاقے میں فضائی تلاشی کے آپریشنز میں حصہ لینے کے ساتھ ساتھ ایک ایمبولینس کی موجودگی میں انجام پایا۔
مقبوضہ بیت المقدس کے شمال میں قابض فوج کی ایک بھاری فورس نے قلندیا کیمپ اور کفر عقب قصبے پر دھاوا بولا اور کیمپ پر دھاوے کے دوران انداد دھند براہ راست فائرنگ اور ساؤنڈ بموں کا استعمال کیا، جبکہ قلندیا چوراہے کے سامنے مرکزی سڑک کو بھی بند کر دیا۔
یہ تمام پیش رفت مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس کے قصبوں میں عسکری دھاووں اور حملوں کے تسلسل کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جن میں گھروں پر چھاپے اور شہریوں اور ان کی املاک پر حملے شامل ہیں، جو کہ متعدد علاقوں میں یہودی آباد کاروں کے حملوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ جاری ہیں۔
