مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) گذشتہ 24 گھنٹوں کے دوران یہودی آباد کاروں کی ملیشیاؤں نے مغربی کنارے کے شہروں، قصبوں اور دیہاتوں میں فلسطینیوں، ان کی زمینوں اور املاک پر وسیع پیمانے پر حملوں کا سلسلہ جاری رکھا، جس میں زرعی تخریب کاری، چوری، اشتعال انگیزی اور رہائشی علاقوں میں دھاوے شامل ہیں۔
ان حملوں میں فلسطینی زمینوں پر مویشی چھوڑنا، زرعی فصلوں پر قبضہ، پلاسٹک ہاؤسز کی تباہی اور فلسطینی قصبوں اور نئے قائم شدہ بدو نشین علاقوں پر دھاوے شامل ہیں۔
الخلیل میں آباد کاروں نے شہر کے شمال میں واقع سعیر قصبے کے مشرق میں ’حمروش‘ کے علاقے میں فلسطینیوں کو اشتعال دلایا اور جنوب میں السموع قصبے کے مشرق میں ’خربہ الخرابہ‘ میں اپنی مویشی فلسطینیوں کی زمینوں پر چھوڑ دیے۔ انہوں نے یطا کے جنوب میں ’خلۃ الحمص‘ کے قریب اللتون کے علاقے میں زرعی کمروں سے پانی کے ٹینک بھی چوری کیے۔
طوباس میں آباد کاروں نے تیاسیر گاؤں کے مشرق میں ’یرزا‘ خربہ کی زمینوں پر اپنی گائیں چرائیں اور اشتعال انگیز دورے کیے۔
سلفیت میں، آباد کاروں نے شہر کے شمال میں واقع کفل حارس قصبے پر دھاوا بولا۔
نابلس میں آباد کاروں نے شہر کے مشرق میں بیت فورک کے میدان میں گندم کی فصل پر قبضہ کر کے اسے کاٹ لیا اور بھوسے کے گٹھروں میں تبدیل کر دیا، جبکہ اسی علاقے میں زرعی گھروں کو بھی تباہ کر دیا۔ انہوں نے نابلس کے جنوب مشرق میں جوریش گاؤں کے مضافات میں فلسطینیوں کی زمینوں پر اپنی بھیڑیں چھوڑ دیں، اور بیتا قصبے کے مضافات میں ’قماص‘ کے علاقے میں ایک شیڈ (برکس) پر حملہ کیا، اور بیت امرین میں ’اے‘ زون میں واقع ایک ریستوران اور گھر والی زمین پر بھی قبضہ کر لیا۔
رام اللہ میں، آباد کاروں نے زیتون کے درختوں کو تباہ کرنے اور زرعی زمین کو برباد کرنے کے مقصد سے شہر کے شمال میں واقع گاؤں ’ام صفا‘ کی زمینوں پر اپنی گائیں چھوڑ دیں اور جلجلیہ گاؤں کے شہری محمد بدر پر حملہ کیا۔ انہوں نے رام اللہ کے مشرق میں رمون گاؤں میں شہریوں کے گھروں کے نواح میں دھاوا بولا اور مشرق میں برقا گاؤں کے مضافات میں داخل ہو کر کسانوں کے مویشی چرانے کی کوشش کی۔
اریحا میں، آباد کاروں نے دو دن قبل علاقے میں ایک بستی قائم کرنے کے بعد، شہر کے مغرب میں ’حلق الرمانۃ‘ اجتماع پر دھاوا بولا اور وہاں اپنے مویشی چھوڑ دیے۔
نابلس کے جنوب میں بورین میں، آباد کاروں نے ’ارض وزرع‘ کوآپریٹو سوسائٹی کے پلاسٹک ہاؤسز کو تباہ کر دیا اور پھاڑ دیا، جس کے سربراہ غسان زیدان نجار ہیں۔
ان حملوں کے بعد فلسطینیوں کی جانب سے ہر ممکن مزاحمتی ذرائع سے آباد کاروں کی ملیشیاؤں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے وسیع پیمانے پر اپیلیں کی جا رہی ہیں۔
