مقبوضہ مغربی کنارہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی مزاحمت کاروں نے سنہ 2026ء کے اگست کے مہینے کے دوران مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں قابض صہیونی فوج اور یہودی آباد کاروں کے خلاف 280 مزاحمتی کارروائیاں انجام دیں ایسے وقت میں جب قابض صہیونی افواج کے دھاوے اور فوجی آپریشن جاری ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ فلسطینیوں اور ان کی املاک کے خلاف یہودی آباد کاروں کے حملوں میں شدت آ رہی ہے۔
فلسطینی انفارمیشن سینٹر ’معطی‘ نے اپنی ماہانہ شماریاتی رپورٹ میں واضح کیا کہ ریکارڈ کی جانے والی کارروائیاں چھ معیاری کارروائیوں اور دو سو چوہتر عوامی مزاحمتی کارروائیوں کے درمیان تقسیم تھیں۔ رپورٹ میں اشارہ کیا کہ معیاری کارروائیوں میں ایک چاقو سے وار کرنے کی کارروائی اور ایک گاڑی سے روندنے کی کوشش کے علاوہ یہودی آباد کاروں کی گاڑیوں کو نشانہ بنانے یا نقصان پہنچانے کی چار کارروائیاں شامل تھیں۔
عوامی مزاحمت کے حوالے سے ’معطی‘ نے یہودی آباد کاروں کے حملوں کا مقابلہ کرنے کی 46 کارروائیوں اور مختلف اشکال میں قابض صہیونی فوج کے ساتھ دو سو بیس جھڑپوں کی دستاویزات فراہم کیں اس کے علاوہ ایک پیٹرول بم پھینکنے اور رابطہ کے مقامات پر سات عوامی مظاہروں اور جلوسوں کا اہتمام کرنے کے بھی اقدامات شامل ہیں۔
پچھلے دو مہینو ں کے اعداد و شمار کا موازنہ ریکارڈ کی جانے والی کارروائیوں کی رفتار میں اضافے کو ظاہر کرتا ہے کیونکہ مرکز نے گزرے ہوئے جولائی کے مہینے کے دوران دو سو پینسٹھ کارروائیاں ریکارڈ کی تھیں جبکہ اگست میں ان کی تعداد دو سو اسی رہی جس میں پندرہ کارروائیوں کا اضافہ ہوا ہے اور یہی چیز مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں مزاحمتی کارروائیوں کے بڑھنے کی عکاسی کرتی ہے۔
یہ اضافہ قابض صہیونی فوجی آپریشنز، چھاپوں، گرفتاریوں کے جاری رہنے اور فلسطینیوں، ان کے کھیتوں، گھروں اور املاک کو نشانہ بنانے والے یہودی آباد کاروں کے حملوں میں تیزی کے سائے میں سامنے آ رہا ہے۔
