غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) کلب برائے اسیران نے اعلان کیا ہے کہ غزہ کی پٹی پر مسلط کردہ نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے لے کر اب تک مغربی کنارے بشمول مقبوضہ بیت المقدس میں گرفتاریوں کے 23 ہزار سے زائد واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں، جو فلسطینی علاقوں میں قابض اسرائیل کی جانب سے جبر و استبداد کی بڑھتی ہوئی مہمات کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
کلب برائے اسیران کی جانب سے آج جاری کردہ رپورٹ میں وضاحت کی گئی ہے کہ اس تعداد میں وہ تمام افراد شامل ہیں جو گرفتاری کا شکار ہوئے، چاہے قابض صہیونی حکام نے انہیں قید میں رکھا یا بعد میں رہا کر دیا، نیز اس میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جنہیں ان کے گھروں سے گرفتار کیا گیا یا فوجی چوکیوں پر پکڑا گیا، یا پھر جنہیں دباؤ کے تحت خود کو حوالے کرنے پر مجبور کیا گیا، علاوہ ازیں یرغمال بنائے جانے کے واقعات بھی اسی میں شمار ہیں۔
رپورٹ میں نشاندہی کی گئی ہے کہ خواتین کی گرفتاریوں کی تعداد 700 سے تجاوز کر چکی ہے، جس میں مغربی کنارے اور سنہ 1948ء کے مقبوضہ علاقوں کی خواتین کے علاوہ غزہ کی پٹی کی وہ خواتین بھی شامل ہیں جنہیں مغربی کنارے میں گرفتار کیا گیا تھا۔
بچوں کے حوالے سے رپورٹ میں تقریباً 1800 گرفتاریوں کی دستاویز سازی کی گئی ہے، جبکہ گرفتار ہونے والے صحافیوں کی تعداد 240 سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے 43 صحافی تاحال قابض صہیونی عقوبت خانوں میں قید ہیں، جن میں تین خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ رپورٹ میں نابلس کے ایک صحافی مروان حرز اللہ کی قابض صہیونی عقوبت خانے میں شہادت کا ذکر بھی کیا گیا ہے۔
کلب برائے اسیران نے اس بات پر زور دیا کہ یہ گرفتاری کی مہمات سنگین خلاف ورزیوں کے ساتھ جاری ہیں جن میں وحشیانہ تشدد، گرفتار افراد اور ان کے خاندانوں کو دھمکیاں دینا، شہریوں کے گھروں میں بڑے پیمانے پر توڑ پھوڑ کرنا اور ان کی املاک بشمول گاڑیاں، نقدی اور سونے کے زیورات ضبط کرنا شامل ہے۔
رپورٹ میں خاص طور پر شمالی مغربی کنارے کے کیمپوں جیسے طولکرم اور جنین میں بنیادی ڈھانچے کی وسیع تباہی کا ذکر کیا گیا ہے، جبکہ ہزاروں فلسطینیوں کے خلاف میدانی تفتیشی کارروائیاں بھی جاری ہیں۔
رپورٹ میں اس بات کی تصدیق کی گئی ہے کہ یہ مہمات میدانی قتل و غارت گری کے ساتھ ہم آہنگ ہیں، جس کے نتیجے میں بعض اوقات گرفتار افراد کے اہل خانہ کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے، اور یہ سب کچھ مغربی کنارے اور غزہ کی پٹی کے تمام علاقوں میں جاری وسیع کشیدگی کے سائے میں ہو رہا ہے۔
