Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Uncategorized

محمود عباس کی طرف سے غیر متوقع پسپائی کی پیشکش کا انکشاف

palestine_foundation_pakistan_mahmoud-abbas-pro-israel-george-mitchell-us-special-middle-east-envoy

امریکی اخبار”وال اسٹریٹ جنرل” نے انکشاف کیا ہے کہ صدر باراک حسین اوباما کے امن ایلچی برائے مشرق وسطیٰ جارج میچل سے ملاقات کے دوران فلسطینی صدر محمود عباس نے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کوفلسطینی ریاست اور بیت المقدس تقسیم کے بعد کی حدود سے متعلق “غیر متوقع” اور “غیر معمولی ” پسپائی کی پیشکش کی ہے۔ اخبار نے اپنی جمعہ کی اشاعت میں شائع رپورٹ میں ذرائع کے حوالےسے کہا ہے کہ محمود عباس نے گذشتہ بدھ کوبیت المقدس میں امریکی مندوب جارج میچل سے ملاقات کے دوران یہ پیشکش کی۔ اس دوران محمود عباس نے امریکی مندوب سے کہا کہ وہ فلسطینی ریاست اور بیت المقدس کی حدود کے تعین کے لیے اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو سے بات چیت میں غیر معمولی لچک اور اپنے موقف سے پسپائی پرتیار ہیں۔ رپورٹ کے مطابق محمود عباس نے مزید کہا کہ وہ ماضی میں سابق اسرائیلی وزیراعظم ایہود اولمرٹ سے مذاکرات کے دوران بھی یہ پیشکش کرچکے ہیں۔اخبار کے مقبوضہ بیت المقدس سے نامہ نگار”چارلس لیفنسن” نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کے مذاکرات کاروں اور محمود عباس نے امریکی مندوب کے لیے “چونکا دینے والی پسپائی کی پیشکش” کی ہے، امریکا اور اسرائیل کے گمان میں بھی نہیں کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے اس نوعیت کی پسپائی اختیار کی جا سکتی ہے۔ ان کا مزید کہناہے کہ فلسطینی اتھارٹی نے ایہود اولمرٹ کے ساتھ دو سال قبل ہونے والی بات چیت میں مغربی کنارے کی ایک اعشاریہ نو فیصد زمین اسرائیل کو دینے اور اس کے مقابلے میں اسرائیلی زیر تسلط علاقوں سے اتنا ہی رقبہ فلسطینی ریاست میں شامل کرنے کی تجویز بھی دی۔ محمود عباس نے مغربی کنارے کے 1.3 فیصد رقبے میں علاقے کی بڑی یہودی کالونی کی تعمیر کی بھی حامی بھرلی ہے۔رپورٹ کے مطابق فلسطینی اتھارٹی نے ماضی میں ایہود اولمرٹ کے ساتھ مذاکرات میں 1.3 فیصد رقبہ دینے کی حامی بھری تھی جبکہ اولمرٹ نے مغربی کنارے کی 6.5 فیصد اراضی کا مطالبہ کیا تھا۔ محمود عباس نے پہلی پیشکش ایک اعشاریہ تین سے بڑھا کر 3.8 فیصد کردی ہے۔ اخبار مزید لکھتا ہے کہ فلسطینی اتھارٹی کی طرف سے بیت المقدس اور فلسطینی ریاست کی حدود سےمتعلق پیشکش حیران کن اور ناقابل یقین ہے تاہم امریکی انتظامیہ اور اسرائیل اسے شبے کی نظرسے بھی دیکھ رہے ہیں۔دوسری جانب فلسطینی مذاکرات کات صائب عریقات نے اخبار کی رپورٹ کی تردید یا تصدیق نہیں کی تاہم ان کا کہنا ہے کہ فریقین جلد کسی حتمی حل تک پہنچنے میں کامیاب ہوجائیں گے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan