Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

اسرائیل

مالیاتی انحطاط کے اثرات، قابض فوج کی جنگی تیاریوں کو درپیش نئے چیلنجز

مقبوضہ بیت المقدس –(مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) قابض فوج کو درپیش مالیاتی بحران اب آپریشنل تیاریوں کے بحران میں تبدیل ہونا شروع ہو گیا ہے کیونکہ فوج نے اسپیئر پارٹس کی کمی کی وجہ سے ٹینکوں کی کئی بٹالین کو عارضی طور پر معطل کرنے کا فیصلہ کیا ہے ایسے وقت میں جب عسکری صنعتوں کو بنیادی پیداواری لائنوں کے بند ہونے کے خطرے کا سامنا ہے جبکہ بجٹ کی کمی کے اثرات انٹیلی جنس ڈائریکٹوریط تک پھیل چکے ہیں۔

عبرانی نشریاتی ادارے “کان” نے آج جمعرات کی صبح بتایا کہ اسپیئر پارٹس کی کمی نے فوج کو اس بات پر مجبور کیا کہ وہ کئی ٹینک بٹالینز کو عارضی طور پر خدمات سے باہر کر دے ایسے وقت میں جب عسکری ادارہ لبنان میں لڑائی کے دوران تباہ ہونے والی سیکڑوں “ہامر” گاڑیوں کو دوبارہ خدمت میں لانے کے قابل نہیں ہو سکا۔

یہ صورتحال ایک شدید فنڈنگ ​​بحران کے درمیان سامنے آئی ہے کیونکہ قابض حکومت کے مجرم وزیراعظم بنجمن نیتن یاھو کی طرف سے دفاعی بجٹ کے لیے منظور کردہ چالیس ارب شیکل کے اضافے کی پہلی قسط صہیونی وزارت خزانہ نے ابھی تک منتقل نہیں کی جس کی وجہ سے فوج نے انتباہ کیا ہے کہ مالیاتی فرق کا جاری رہنا براہ راست تیاری کو برقرار رکھنے اور متعدد محاذوں پر جنگ کا انتظام کرنے کی اس کی صلاحیت کو متاثر کر رہا ہے۔

ٹینک اور پیداوار… ایک ساتھ آنے والا بحران

یہ بحران صرف فوج کے ذخائر اور اسپیئر پارٹس تک محدود نہیں ہے کیونکہ صہیونی سکیورٹی ادارے نے اس بات سے خبردار کیا ہے کہ “ایلبیٹ” کمپنی کو آنے والے دنوں میں “مرکاوا” ٹینکوں کے گولوں کی پیداوار روکنے پر مجبور ہونا پڑ سکتا ہے جیسا کہ “کان” کا کہنا ہے۔

متوقع طور پر اکتوبر کے مہینے میں توپ خانے کے گولوں کی پیداواری لائن کو بند کر دیا جائے گا جبکہ نومبر میں مورٹر کے گولوں کی پیداواری لائن بند ہو جائے گی۔

ان پیش رفتوں کی اہمیت گولوں کی وقتی کمی سے کہیں زیادہ ہے کیونکہ سکیورٹی ادارے کو یہ اندیشہ ہے کہ پیداواری لائنوں کے بند ہونے سے سالوں کے دوران جمع ہونے والے مزدور، انجینئر، مشینری اور پیشہ ورانہ مہارتیں ضائع ہو جائیں گی جس سے ان لائنوں کو بعد میں دوبارہ شروع کرنا زیادہ مہقنگا اور مشکل ہو جائے گا۔

اس طرح قابض ریاست کو ایک دوہرے مساوات کا سامنا ہے یعنی ایک ایسی فوج جسے جارحیت اور جنگوں کے سالوں کے بعد اسپیئر پارٹس اور گولوں کی بڑھتی ہوئی مقدار کی ضرورت ہے اور اس کے مقابلے میں ایک ایسی عسکری صنعت جسے اپنی پیداواری صلاحیت کو برقرار رکھنے کے لیے مسلسل فنڈنگ ​​کی ضرورت ہے۔

سیکڑوں گاڑیاں خدمت سے باہر

لوجسٹک پہلو کے لحاظ سے صہیونی اعداد و شمار کے مطابق لبنان میں لڑائی کے دوران نقصان اٹھانے والی سیکڑوں “ہامر” گاڑیاں ابھی تک تیاری کی حالت میں واپس نہیں لائی گئی ہیں۔

اس کی وجہ سے فوجیوں کو منتقل کرنے کے لیے استعمال ہونے والی گاڑیوں کی کمی پیدا ہو گئی جس کا اثر افواج کی جنگی علاقوں میں نقل و حرکت کی صلاحیت پر پڑا۔

یہ مسئلہ ایک ایسی فوج کے لیے خصوصی اہمیت رکھتا ہے جو ایک سے زیادہ محاذوں پر حملے اور جنگیں لڑ رہی ہے کیونکہ تیاری صرف ٹینکوں، طیاروں اور بھاری ہتھیاروں کی دستیابی پر منحصر نہیں ہوتی بلکہ اس میں وہ گاڑیاں، اسپیئر پارٹس، نقل و حمل کے ذرائع اور دیکھ بھال بھی شامل ہیں جو افواج کو تعیناتی، رسد اور جنگ جاری رکھنے کے قابل بناتے ہیں۔

“کان” کے ذریعے نقل کردہ ایک عسکری ذمہ دار نے کہا: “ہمارے پاس دفاعی صنعتوں کے لیے پندرہ ارب شیکل سے زیادہ کے قرضے موجود ہیں”، انہوں نے مزید کہا کہ ٹینک بٹالینز کو اسپیئر پارٹس کی کمی کا سامنا ہے اور لبنان میں نقصان اٹھانے والی سیکڑوں گاڑیوں کی ابھی تک مرمت نہیں کی گئی ہے۔

ذمہ دار نے انکشاف کیا کہ فوج کے پاس فوجیوں کو منتقل کرنے کی کافی صلاحیت نہیں ہے جس سے اس بات کا اشارہ ملتا ہے کہ بحران مالیاتی حساب کتاب سے نکل کر افواج کے آپریشنل ڈھانچے کو متاثر کرنے لگا ہے۔

انٹیلی جنس بھی متاثر ہو رہی ہے

صہیونی رپورٹ کے مطابق بحران کے اثرات جنگی یونٹس پر نہیں رکے بلکہ یہ ملٹری انٹیلی جنس ڈائریکٹوریط تک پھیل گئے ہیں۔

“کان” کے مطابق کچھ یونٹس کے لیے مخصوص کردہ کلاؤڈ اسٹوریج کی جگہیں بھر گئیں جس کی وجہ سے انہیں نئی ​​فائلوں کے لیے جگہ بنانے کے لیے انٹیلی جنس مواد کو ڈیلیٹ کرنا پڑا۔

کچھ معاملات میں معاملہ اس حد تک پہنچ گیا کہ محدود اسٹوریج کی صلاحیتوں کی وجہ سے نئی معلومات بشمول سیٹلائٹ تصاویر کو محفوظ کرنے سے گریز کیا گیا۔

انٹیلی جنس کی صلاحیتوں کو متاثر کرنے والی کفایت شعاری صرف افراد کی تعداد یا اخراجات کے حجم سے متعلق نہیں ہے بلکہ یہ یونٹس کی معلومات جمع کرنے، محفوظ کرنے، تجزیہ کرنے اور فیصلہ سازی کے عمل میں ان سے فائدہ اٹھانے کی صلاحیت سے متعلق ہے۔

ایک سو تینتالیس ارب شیکل کافی نہیں ہیں

دفاعی بجٹ کے اعداد و شمار جنگ کے آغاز کے بعد سے قابض فوج کی ضروریات میں آنے والی تبدیلی کے حجم کو بے نقاب کرتے ہیں کیونکہ سال دو ہزار چھبیس کے لیے فوج کا اصل بجٹ تقریبا ایک سو تینتالیس ارب شیکل تھا اس سے پہلے کہ نیتن یاھو نے ایران کے ساتھ تصادم اور لبنان میں لڑائی کے نتیجے میں اسے بڑھا کر ایک سو تراسی ارب شیکل کرنے کا حکم دیا۔

وزارت خزانہ کی طرف سے اضافے کی پہلی قسط جو کہ پندرہ ارب شیکل تھی گذشتہ اگست کے دوران منتقل کی جانی تھی لیکن اسے ابھی تک منتقل نہیں کیا گیا۔

صہیونی اعداد و شمار کے مطابق فنانس کمیٹی کے صرف گیارہ ارب شیکل کی منتقلی پر بحث کرنے کی توقع ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ فوج جو مانگتی ہے اور قریبی مدت میں جو اسے مل سکتا ہے اس کے درمیان ایک بڑا فرق باقی رہتا ہے۔

یہ فرق خالصتاً محاسباتی دکھائی نہیں دیتا کیونکہ فوج کا کہنا ہے کہ اس کا جاری رہنا خود عسکری سرگرمیوں پر پابندیاں عائد کرنے لگا ہے۔

صہیونی فوج سالوں سے ایک سے زیادہ محاذوں پر طویل جنگیں اور جارحیت لڑ رہی ہے جبکہ گولہ بارود، اسپیئر پارٹس، دیکھ بھال اور تباہ شدہ آلات کے ازالے کی اس کی ضروریات میں اضافہ ہو رہا ہے۔

اس تناظر میں عسکری ذمہ دار نے انتباہ کیا کہ مالیاتی فرق پہلے سے ہی مغربی کنارے، غزہ کی پٹی اور لبنان میں کام کرنے کی فوج کی صلاحیت کو محدود کر رہا ہے اس کے علاوہ ایران کے ساتھ کسی ممکنہ تصادم کے لیے تیاری کرنے کی اس کی صلاحیت کو بھی کم کر رہا ہے۔

انہوں نے کہاکہ “اگر فنڈز منتقل نہیں کیے گئے تو ہم افواج کی کم از کم استمراریت اور تیاری کو بھی برقرار رکھنے کے قابل نہیں ہوں گے”۔

یہ جملہ صہیونی عسکری ادارے کے اندرونی اضطراب کے حجم کو بے نقاب کرتا ہے کیونکہ عسکری بیانیے کے مطابق مسئلہ اب اضافی کارروائیوں کی فنڈنگ ​​یا جنگ کے دائرہ کار کو وسعت دینے سے متعلق نہیں رہا بلکہ یہ پہلے سے موجود تیاری کی سطح کو برقرار رکھنے کی صلاحیت کو چھونے لگا ہے۔

مالیاتی بحران سے تیاری کے بحران تک

مسلسل پیش رفت اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ طویل جنگوں کی قیمت نے گولہ بارود کے ذخائر کے خاتمے اور بڑی تعداد میں گاڑیوں اور آلات کے نقصان کے ساتھ ساتھ عسکری پیداواری لائنوں کو برقرار رکھنے کی ضرورت کے ساتھ قابض فوج پر براہ راست اپنے آپ کو مسلط کرنا شروع کر دیا ہے۔

اسپیئر پارٹس کی کمی کی وجہ سے ٹینک بٹالینز کا خدمات سے باہر ہونا، سیکڑوں گاڑیوں کو خدمت میں واپس لانے میں مشکلات، گولہ بارود کی پیداواری لائنوں کو بند کرنے کی دھمکی کے ساتھ ساتھ کچھ انٹیلی جنس صلاحیتوں میں کمی اس بات کو بے نقاب کرتی ہے کہ مالیاتی بحران کے اثرات اب بجٹ کی کتابوں سے نکل کر میدانی یونٹس، مینوفیکچرنگ کی سہولیات اور انٹیلی جنس تک منتقل ہو رہے ہیں۔

فنڈنگ ​​کے حجم اور اس کے وقت کے بارے میں فوج اور وزارت خزانہ کے درمیان تنازع کے جاری رہنے کی صورت میں عسکری ادارے کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ نہیں ہوگا کہ قابض ریاست ایک نئی جنگ کیسے لڑتی ہے بلکہ یہ ہوگا کہ وہ موجودہ جنگوں کو جاری رکھنے اور ایک ہی وقت میں ایک اضافی محاذ کے لیے تیاری کرنے کی اپنی صلاحیت کو کیسے برقرار رکھتی ہے۔

اس طرح فنڈنگ ​​کا بحران قابض عسکری ادارے پر جنگ کے اثرات میں ایک نئے باب کا آغاز کرتا ہے جہاں بجٹ کی جنگ تدریجی طور پر تلافی، دیکھ بھال، پیداوار اور آپریشنل تسلسل کی حدود کا ایک عملی امتحان بن جاتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan