Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

عالمی خبریں

لاکھوں مراکشی شہریوں کا احتجاج، قابض اسرائیل سے تعلقات ختم کرنے کا مطالبہ

کاسابلانکا – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) مراکش کے 30 سے زائد شہروں میں جمعہ کے روز احتجاجی تقریبات منعقد ہوئیں جن میں ہزاروں شہریوں نے طوفانِ الاقصیٰ معرکے کی تیسری برسی منانے، غزہ کی پٹی پر قابض اسرائیل کی مسلسل جارحیت کے خلاف فلسطینی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرنے اور قابض ریاست کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کے خلاف نعرے بازے اور تقاریر کیں۔

ان احتجاجی مظاہروں میں دارالحکومت کاسابلانکا (الدار البيضاء)، فاس، تطوان، القصر الکبیر، اغادیر، انزکان، آیت ملول، الحاجب، خنیفرہ، الراشیدیہ، تنغیر، بنی ملال اور خریبکہ کے شہر شامل تھے، جہاں شرکاء نے نمازِ جمعہ کے بعد کئی مساجد کے باہر جمع ہو کر فلسطینی پرچم اور کوفیہ اٹھائے رکھے اور فلسطینیوں کے خلاف قابض اسرائیل کے جرائم کی مذمت کرنے والے نعرے لگائے۔

شرکاء نے فلسطینی عوام اور ان کی مزاحمت کے ساتھ اپنی یکجہتی اور غزہ کی پٹی پر مسلسل جارحیت کی مخالفت کی تصدیق کی، اس کے علاوہ قابض ریاست کے ساتھ سرکاری تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کا اظہار کیا، خاص طور پر سفیروں کے تبادلے تک تعلقات کے معیار کو بڑھانے کے خلاف آواز بلند کی۔

مراکش کی امت کے قضایا کی نصرت کے لیے قائم بورڈ کے دفتر کے رکن ابو بکر الونخاری نے کہا کہ «طوفان کی برسی کا جمعہ» کے عنوان سے منعقد کی جانے والی احتجاجی ریلیاں، جن میں مراکش کے کئی شہروں نے حصہ لیا، فلسطینی کاز کی حمایت اور آزادی، وقار، زمین اور مقدسات کی آزادی کے لیے فلسطینی عوام کی جدوجہد میں ان کی مدد کرنے کے لیے ایک پختہ عوامی موقف کی عکاسی کرتی ہیں۔

الونخاری نے صحافتی بیانات میں مزید کہا کہ طوفانِ الاقصیٰ کا معرکہ ایک ایسا فیصلہ کن موڑ تھا جس نے فلسطینی کاز کو عالمی توجہ کے مرکز میں واپس لا کھڑا کیا، اور قابض ریاست کی حقیقت اور فلسطینیوں کو درپیش خلافورزیوں کو اجاگر کیا۔

انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مراکش کی عوامی تحریک یہ ثابت کرتی ہے کہ آزادی کے لیے عوام کے ارادے کو فوجی طاقت کے ذریعے محکوم نہیں بنایا جا سکتا، چاہے جارحیت کا حجم کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

مراکشی کارکن نے اس بات پر زور دیا کہ 30 سے زائد شہروں میں شہریوں کا اس برسی کو منانے کے لیے باہر نکلنا مراکش کے عوام کے ضمیر میں فلسطینی کاز کی ریشگی، اور قابض ریاست کے ساتھ سرکاری تعلقات کو مضبوط کرنے کی کوششوں کے باوجود عوامی تحریک میں اس کی مسلسل موجودگی کی عکاسی کرتا ہے۔

انہوں نے اس بات کی تصدیق کی کہ فلسطین مراکش کے باشندوں کے لیے ایک عوامی اور قومی کاز رہے گا ، قابض ریاست اور تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرنے والے موقف فلسطینی عوام کی حمایت کرنے والی عوامی سرگرمیوں میں موجود رہیں گے۔

یہ سرگرمیاں مراکش کے متعدد شہروں میں طوفانِ الاقصیٰ کی تیسری برسی کی یاد میں دیکھی جانے والی عوامی تقریبات کے سلسلے کا حصہ ہیں ۔ غزہ کی جنگ کے تسلسل کے اثرات کے درمیان فلسطینیوں کے ساتھ یکجہتی کو تجدید کرتی ہیں اور جارحیت کو روکنے اور فلسطینیوں کے خلاف خلاف ورزیوں کے ذمہ داروں کا احتساب کرنے کے لیے عوامی مطالبات کو تیز کرتی ہیں۔

یہ تقریبات مراکش میں فلسطینی کاز کی مسلسل عوامی موجودگی کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں غزہ کی نصرت کے لیے دعوات تعلقات معمول پر لانے کی مخالفت کرنے والے مطالبات کے ساتھ جڑی ہوئی ہیں، اور آزادی اور خود ارادیت میں فلسطینی قومی حقوق پر زور دیتی ہیں۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan