قاہرہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے مصر کے دار الحکومت قاہرہ میں قومی مذاکرات کے ایک دور کے اختتام کا اعلان کیا ہے، جس میں تحریک فتح اور دیگر فلسطینی دھڑوں کے ساتھ اہم ملاقاتیں شامل تھیں۔ حماس نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ قومی معاملات کو حل کرنے کے لیے مشترکہ تفہیم تک پہنچنے کی خاطر ان ملاقاتوں کے سلسلے کو جاری رکھنے پر مکمل اتفاق ہوا ہے۔
تحریک نے اپنے ایک صحافتی بیان میں کہا کہ زاہر جبارین کی سربراہی میں اس کے وفد نے، جس میں دفترِ سیاسی کے ارکان حسام بدران اور غازی حمد شامل تھے، گذشتہ چند دنوں کے دوران فلسطینی گھر کی ازسرِنو تنظیم اور قومی شراکت داری کے اصولوں پر تبادلۂ خیال کی کوششوں کے سلسلے میں متعدد ملاقاتیں کیں۔
وفد نے اپنے اس دورے کا آغاز تحریک فتح کے وفد کے ساتھ ایک اہم نشست سے کیا، جس میں قومی مذاکرات کی کامیابی کے بنیادی اصولوں اور ضروریات پر تفصیلی غور و خوض کیا گیا۔ اس کے بعد اسلامی جہاد تحریک، پاپولر فرنٹ فار دی لبریشن آف فلسطین اور تحریک فتح کے اصلاحاتی دھڑے کے ساتھ ایک تفصیلی نشست منعقد کی گئی۔
بیان کے مطابق اس نشست میں شریک تمام نمائندوں نے ان تمام رکاوٹوں اور مسائل کے حل کی اشد ضرورت پر زور دیا جنہوں نے گذشتہ مذاکرات کی راہ میں روڑے اٹکائے تھے۔ تمام فریقین نے باہمی افہام و تفہیم تک پہنچنے تک بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا، جبکہ اس موقع پر ان مذاکرات کی میزبانی اور سرپرستی پر مصر کے کلیدی کردار کی بھی بھرپور تعریف کی گئی۔
حماس کے وفد نے اس موقف کا اعادہ کیا کہ تحریک کے نقطۂ نظر کے مطابق جامع قومی مذاکرات ہی تمام قومی مسائل کو حل کرنے اور قابض اسرائیل کے مذموم منصوبوں کا مقابلہ کرنے کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ان مذاکرات کو ایک ایسی مشترکہ حکمتِ عملی پر مبنی ہونا چاہیے جو فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) کی سیاسی اور انتظامی بنیادوں پر ازسرِنو تعمیر اور اصلاح کو یقینی بنائے، تاکہ تمام سیاسی قوتوں اور دھڑوں کی شرکت کو ممکن بنایا جا سکے۔
وفد نے تمام سرکاری فلسطینی اداروں کی تشکیل کے لیے شفاف انتخابات کو بنیادی راستہ بنانے، ایک مشترکہ مزاحمتی و جدوجہد کی حکمتِ عملی پر اتفاق، علاقائی و بین الاقوامی سطح پر مسئلہ فلسطین اور قومی منشور کی اثر پذیری کو بحال کرنے پر زور دیا۔
یہ ملاقاتیں ایک بار پھر سیاسی شراکت داری، اداروں کے اتحاد اور پی ایل او کی اصلاح جیسے اہم ترین موضوعات کو منظرِ عام پر لے آئی ہیں، جو گذشتہ تمام المصالحۃ (مصالحتی) معاہدوں کا محور رہے ہیں، جن میں سنہ 2011ء کا قاہرہ معاہدہ، سنہ 2022ء کا الجزائر اعلامیہ، اور جولاائی سنہ 2024ء کا بیجنگ اعلامیہ شامل ہیں۔
واضح رہے کہ 14 فلسطینی دھڑوں نے بیجنگ اعلامیے پر دستخط کیے تھے، جس میں پی ایل او کے دائرہ کار میں کامل قومی وحدت کے قیام، ایک عبوری قومی وفاق حکومت کی تشکیل جو تمام اداروں کو متحد کرے اور غزہ کی پٹی کی بحالی و تعمیرِ نو کے ساتھ ساتھ عام انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار کرے، جیسے نکات شامل تھے۔ یہ وہ تمام فائلیں ہیں جو قاہرہ کے اس حالیہ دور کے ایجنڈے سے براہِ راست جڑی ہوئی ہیں، جو اس بار کسی حتمی عملی خطے کے انکشاف کے بغیر محض مذاکرات جاری رکھنے کے اعلان پر اختتام پذیر ہوا ہے۔
