غزہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارت صحت نے اعلان کیا ہے کہ قابض اسرائیلی حکام کی جانب سے ضروری سکیورٹی اجازت نامے نہ ملنے کے باعث مریضوں کا بیرونِ ملک علاج کے لیے طے شدہ سفر منسوخ کر دیا گیا ہے۔
وزارت صحت نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ مریضوں کے سفر میں تاخیر اور ان کے علاج تک رسائی حاصل نہ کر سکنے کی بنیادی وجہ سفر کی اجازت دیے جانے والے مریضوں کی انتہائی محدود تعداد کے ساتھ ساتھ ان سکیورٹی اجازت ناموں کے حصول کا طویل انتظار ہے، جو مہینوں تک طول پکڑ سکتا ہے۔
وزارت نے نشاندہی کی کہ انہوں نے گذشتہ ہفتوں کے دوران جان بچانے کے لیے فوری علاج کے متقاضی تقریباً ستر کیسز (مریضوں) کے لیے درخواستیں جمع کرائی تھیں، مگر ان میں سے صرف پانچ کیسز کو ہی بیرونِ ملک سفر کے لیے ضروری سکیورٹی اجازت نامے مل سکے۔
فلسطینی وزارت صحت نے ایک بار پھر عالمی اداروں اور اقوام متحدہ کی تنظیموں سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر مداخلت کریں تاکہ سفر کی اجازت پانے والے مریضوں کی تعداد میں اضافہ کیا جا سکے، انتظار کا دورانیہ کم کیا جا سکے اور جان لیوا بیماریوں میں مبتلا مریضوں کے بیرونِ ملک سفر کے طریقہ کار کو تیز کیا جا سکے۔
فلسطینی وزارت صحت کے مطابق غزہ میں تقریباً بیس ہزار مریض ایسے ہیں جنہیں علاج کے لیے بیرونِ ملک سفر کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
