Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

صیہونیزم

فلسطین کے مقدس مقامات نشانے پر، اگست میں مسجدِ اقصیٰ پر 26 دھاوے ریکارڈ

مقبوضہ بیت المقدس – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی وزارتِ اوقاف و مذہبی امور نے تصدیق کی ہے کہ اس نے گذشتہ ماہ اگست کے دوران مسجدِ اقصی پر 26 بار دھاوے اور الخلیل شہر میں واقع مسجد ابراہیمی میں قابض حکومت کی طرف سے اذان دینے پر پابندی کے 155 اوقات ریکارڈ کیے۔

وزارت اوقاف نے اپنی ماہانہ رپورٹ میں واضح کیا کہ سنہ 2026ء کے اگست میں ایک وسیع قابض اسرائیلی کشیدگی دیکھنے میں آئی، جس کا مظہر بابِ مغاربہ کے راستے مسجدِ اقصی مبارک پر دھاووں کی شدت، عبادت گزاروں پر پابندیاں، مسجد ابراہیمی الشریف میں اذان دینے پر مسلسل پابندی اور متعدد گورنریوں میں مساجد اور اسلامی مقامات پر ہونے والے حملے تھے۔

وزارت اقاف نے ان اقدامات کو عبادت کی آزادی پر مسلسل پابندی اور اسلامی مقدسات پر نئے حقائق مسلط کرنے کی کوششوں کا ایک تسلسل قرار دیا۔

وزارت کی ماہانہ رپورٹ میں بتایا گیا کہ یہودی آبادکاروں کی طرف سے مسجدِ اقصی پر دھاوے صبح اور شام کے دونوں ادوار میں بابِ مغاربہ کے راستے قابض سکیورٹی فورسز کے سخت پہرے میں جاری رہے، جن میں سے بعض کے دوران تلمودی اور اشتعال انگیز رسومات ادا کی گئیں، جن میں نام نہاد ’مہاکاوی سجدہ‘، علانیہ اجتماعی مذہبی رسومات اور مسجد کے صحنوں بالخصوص قبۃ الصخرہ کے گردونواح میں کتب اور کپڑے کے بستروں کا استعمال شامل تھا۔

رپورٹ میں ایک اور کشیدگی کی طرف اشارہ کیا گیا جو کہ اسرائیلی پولیس کی طرف سے مسجدِ اقصی کے لیے ایک خصوصی سکیورٹی یونٹ کے اہلکاروں کو بھرتی کرنے کی صورت میں سامنے آئی، اس کے ساتھ ساتھ ربیوں کی طرف سے اس میں شامل ہونے کی اپیلیں بھی کی گئیں، جبکہ ’ہیکل‘ گروہوں نے دھاووں میں تیزی لانے اور مسجد کے اندر یہودی مذہبی رسومات کی ادائیگی کی اجازت دینے کے لیے اپنی اشتعال انگیزی کا سلسلہ جاری رکھا۔

اس اشتعال انگیزی کے نمایاں مظاہر میں سے ایک یہ تھا کہ قابض اسرائیلی پارلیمنٹ (کنیسٹ) کی آئین، قانون اور عدلیہ کمیٹی کے چیئرمین سمحا روتمان نے مطالبہ کیا کہ یہودی آبادکاروں کو مسجدِ اقصی پر دھاوا بولنے اور اس کے اندر علانیہ طور پر بوق پھونکنے کی اجازت دی جائے، جبکہ متشدد قابض صہیونی وزیرِ امورِ سکیورٹی ایتمار بن گویر نے دیوار براق کے پاس رسومات ادا کیں۔

بیت المقدس میں رپورٹ نے قابض حکام کی طرف سے نمازیوں بالخصوص جمعہ کے دنوں میں عائد کی جانے والی پابندیوں کے تسلسل کا مشاہدہ کیا، یہ واضح کیا کہ پولیس فورسز نے خطبوں اور نمازوں کی ادائیگی کے دوران مصلیٰ قبلی اور قبۃ الصخرہ کے گردونواح پر دھاوا بولا۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ بیت المقدس اور فلسطینی علاقوں کے مفتیِ اعظم الشیخ محمد حسین پر مسجدِ اقصی میں داخلے پر پابندی کے فیصلے کو مزید 6 ماہ کے لیے تجدید کر دیا گیا ہے، جو کہ مسجد میں مذہبی شخصیات اور نمازیوں پر عائد پابندیوں کے سلسلے میں ایک اور اضافہ ہے۔

الخلیل میں وزارت نے بتایا کہ قابض حکام نے گذشتہ 21 جون سے مسجد ابراہیمی میں اذان دینے پر پابندی کا سلسلہ جاری رکھا ہے، جس کی وجہ سے اگست کے دوران اذان سے روکے جانے والے اوقات کی تعداد 155 تک پہنچ گئی۔

رپورٹ میں سنہ 2025ء کے آغاز سے حرم کے مشرقی دروازے کو مسلسل بند رکھنے اور شٹرنگ کے کپڑوں سے اس کی کھڑکیوں کو ڈھکنے کے ساتھ ساتھ ملازمین کے لیے نمبر 7 کے دروازے کو بند کیے جانے کی بھی توثیق کی گئی۔

وزارت اقاف نے زاویہ الاشراف میں غیر اعلانیہ کھدائی کے کاموں کا مشاہدہ کیا، اس کے علاوہ صیہونی فورسز کی طرف سے سادے کپڑوں میں ملبوس ہو کر مسجد پر دھاوا بولنے، اور یہودی آبادکاروں اور صیہونی عہدیداروں جن میں بن گویر بھی شامل ہیں، کے دوروں کو محفوظ بنانے کے لیے مصلیٰ اسحاقیہ سے نمازیوں کو نکال باہر کرنے کے واقعات بھی ریکارڈ کیے گئے۔

رپورٹ میں اشارہ کیا گیا کہ ممر یوسفیہ اور مالکیہ کے درمیان واقع دروازے کے اوپر جپسم کے بورڈ نصب کر دیے گئے ہیں جس کی وجہ سے وہاں اندھیرا ہو گیا، اس کے علاوہ حرم کے گردونواح میں تلمودی تقریبات کے انعقاد کے ساتھ ہی مارکیٹ کے دروازے کو بھی بند کر دیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ پامالیاں صرف اقصی اور مسجد ابراہیمی تک محدود نہیں رہیں بلکہ اس نے دیگر گورنریوں میں متعدد مساجد اور اسلامی مقامات کو بھی اپنی لپیٹ میں لیا۔

طولکرم میں یہودی آبادکاروں نے نور شمس کیمپ میں ابو عبیدہ مسجد کے مینار پر صیہونی پرچم لہرایا، جبکہ نابلس کے مشرق میں واقع خربہ طانا میں شہریوں کو جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے ولی اور حاج حسین مساجد تک پہنچنے سے روک دیا گیا۔

وزارت نے بلدہ عورتا میں اسلامی مقامات پر دھاوے بولے جانے کی توثیق کی، جو غرب اردن میں اسلامی مذہبی مقامات کو نشانہ بنانے والے حملوں کا تسلسل ہے۔

وزارتِ اوقاف نے ان اقدامات کے جاری رہنے کے خطرے سے خبردار کرتے ہوئے انہیں عبادت کی آزادی اور بین الاقوامی قوانین و مواثیق کی طرف سے مقدس مقامات کو فراہم کردہ تحفظ کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔

وزارت نے کہا کہ بار بار دھاوے بولنے، نمازیوں پر پابندیاں عائد کرنے، اذان پر پابندی لگانے اور اسلامی مقامات کے اندر مذہبی رسومات و مشقوں کی اجازت دینے سے مقدسات میں قائم تاریخی اور قانونی حیثیت کو خطرہ لاحق ہے۔

وزارت نے عالمی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور قابض حکام پر دباؤ ڈالیں کہ وہ ان اقدامات کو بند کریں، عبادت کی آزادی اور مقدس مقامات تک رسائی کو یقینی بنائیں، اور ان میں قائم تاریخی اور قانونی حیثیت کو برقرار رکھیں۔

وزارت کی یہ رپورٹ مسجد اقصی اور مسجد ابراہیمی میں صیہونی پامالیوں میں اضافے کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جبکہ فلسطینیوں کی طرف سے یہ انتباہ کیا جا رہا ہے کہ ان کارروائیوں کا تسلسل صرف نمازیوں پر تنگی پیدا کرنے تک محدود نہیں ہے بلکہ یہ مقدسات کی حقیقت میں تدریجی تبدیلیاں لانے اور انہیں ایک نئے طے شدہ امر کے طور پر استعمال کرنے میں معاون ثابت ہو رہا ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan