Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

حماس

فلسطین نیشنل کونسل کی تشکیلِ نو، حماس کا تقرری اور اخراج کے فیصلوں پر اعتراض

دوحہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) اسلامی تحریک مزاحمت ’حماس‘ نے فلسطین نیشنل کونسل کی تشکیلِ نو میں تقرری، اخراج اور اجارہ داری کے اس طرزِ عمل جاری رکھنے کو یکسر مسترد کر دیا ہے جسے وہ ناقابلِ قبول سمجھتی ہے۔حماس اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ گروہی بنیادوں پر قائم ہونے والے انتخابی حلقے میزبان ممالک میں آباد عمومِ فلسطینیوں کی حقیقی نمائندگی کی ضمانت نہیں بن سکتے۔

حماس کے شعبہ قومی تعلقاتِ برائے بیرونِ ملک کے سربراہ علی برکہ نے کہا کہ بیرونِ ملک آباد فلسطینیوں کا یہ اولین قومی اور جمہوری حق ہے کہ وہ آزاد اور براہِ راست انتخابات کے ذریعے قومی کونسل میں اپنے حقیقی نمائندوں کا انتخاب کریں، انہوں نے اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ اگر انتخابات کا انعقاد ممکن نہ ہو تو اس کے لیے یکطرفہ طور پر تقرری یا گروہی نمائندگی مسلط کرنے کے بجائے ایک جامع قومی اتفاقِ رائے کا راستہ اختیار کیا جانا چاہئے۔

علی برکہ نے خبردار کیا کہ موجودہ نازک حالات کے دوران تنظیمِ آزادیِ فلسطین کے اداروں کی تشکیلِ نو میں اجارہ داری کا رویہ قومی وحدت کو تقویت دینے کے بجائے انحراف اور انتشار کو مزید ہوا دیتا ہے، ایسے وقت میں جب قابض دشمن کی جارحیت، غاصبانہ یہودکاری، جبری نقل مکانی اور غزہ، مقبوضہ مغربی کنارے اور مقبوضہ بیت المقدس میں فلسطینی عوام پر ڈھائے جانے والے مسلسل ریاستی مظلومانہ حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے قومی شراکت داری اور تمام تر کوششوں کو یکجا کرنے کی شدید ترین ضرورت محسوس کی جا رہی ہے۔

حماس رہنما نے اس امر کی طرف توجہ دلائی کہ بیرونِ ملک مقیم فلسطینی مہاجرین کو ان کے نمائندوں کے انتخاب کے حق سے محروم رکھنا، ان کے بقول، ان کے بنیادی قومی اور جمہوری حقوق پر ایک کاری ضرب ہے، خصوصاً جب سنہ 1948ء کے یومِ نکبہ سے لے کر اب تک فلسطینی عوام کو مسلسل جبری جلاوطنی اور اکھاڑ پچھاڑ کا سامنا رہا ہے، اور انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اپنے ان گھروں اور املاک کی طرف واپسی کا حق جہاں سے فلسطینیوں کو جبراً نکالا گیا تھا، ایک اٹل حق ہے جو کبھی بھی وقت گزرنے کے ساتھ ختم نہیں ہو سکتا۔

علی برکہ نے تمام فلسطینی دھڑوں، قوتوں اور قومی شخصیات سے پرزور مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تاریخی ذمہ داریوں کو محسوس کریں، تقرری، اخراج، یکطرفہ پن اور قومی فیصلے کی اجارہ داری کو مسترد کر دیں، اور قاہرہ مذاکرات (جو 17 مارچ سنہ 2005ء کو ہوئے تھے) سے لے کر بیجنگ اعلامیے (جو 23 جولائی سنہ 2024ء کو سامنے آیا تھا) تک تمام قومی سمجھوتوں اور معاہدوں کو مضبوطی سے تھامے رکھیں، جن میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ تنظیمِ آزادیِ فلسطین کی تعمیرِ نو اور اسے فعال بنانے کا عمل خالصتاً جمہوری، شراکت دارانہ اور قومی بنیادوں پر ہی انجام پانا چاہئے۔

انہوں نے اپنے بیان کے آخر میں اس بات پر زور دیا کہ قومی کونسل کو وطن اور بیرون ملک دونوں جگہوں پر آباد تمام فلسطینیوں کے لیے ایک جامع قومی فریم ورک کی حیثیت رکھنی چاہئے۔ انہوں نے یہ واضح کیا کہ تنظیمِ آزادیِ فلسطین کی از سرِ نو تعمیر صرف اور صرف حقیقی قومی شراکت داری، فلسطینی عوام کے ارادے کے احترام اور اپنے نمائندوں کو آزادانہ طریقے سے چننے کے ان کے ناقابلِ تسخیر حق ہی کے ذریعے ممکن ہو سکتی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan