Connect with us

اسرائیل کی تباہی میں اتنا وقت باقی ہے

  • دن
  • گھنٹے
  • منٹ
  • سیکنڈز

Uncategorized

فلسطینی قیدیوں کونظرانداز کرنے پر حماس کی اقوام متحدہ پر تنقید

palestine_foundation_pakistan_united-nations

اسلامی تحریک مزاحمت (حماس) نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی میں اسرائیلی جنگی قیدی گیلاد شالیت کے والد ناعوم شالیت کو تقریر کی اجازت دینے اور ہزاروں فلسطینی قیدیوں کے معاملے کو نظرانداز کرنے پر اقوام متحدہ کوشدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

پیر کے روز دمشق میں حماس کی جانب سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہےکہ اقوام متحدہ کی جانب سے گیلاد شالیت کے والد کوانسانی حقوق کمیٹی میں تقریر کی اجازت دینا اور فلسطینی قیدیوں کو نظرانداز کرنا نہایت افسوسناک اقدام ہے۔ اقوام متحدہ کے اس رویے کے باعث اس کی اسرائیل کی طرف جانبداری، فلسطینی اسیران کے معاملے میں لاپرواہی بالخصوص انسانی حقوق سے متعلق عالمی ادارے کے کردار پر ایک سوالیہ نشان ہے۔

اقوام متحدہ میں انسانی حقوق کو برابری کی بنیاد پر دیکھے جانے کا قانون اور اصول موجود ہے جبکہ انسانی حقوق کمیٹی کی طرف سے حماس کے ہاں قید جنگی قیدی گیلاد شالیت کے والد کو اپنے بیٹے کا معاملہ عالمی ادارے میں بیان کرنے کا موقع دینے اور گیارہ ہزار سے زائد بے گناہ فلسطینیوں کے معاملے کو نظرانداز کرنے عالمی ادارے کے “مساوات” اور برابری کے اصول کی ساتھ بری طرح مجروح ہوئی ہے۔

بیان میں حماس نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ گیلاد شالیت کے والد کو انسانی حقوق کمیٹی میں تقریر کی اجازت دینے کے بعد اصولی طور پر اس امر کا پابند ہے کہ اب ان گیارہ ہزار فلسطینی قیدیوں کے نمائندگان اور وکلاء کو بھی کمیٹی میں تقریر کی اجازت دی جائے ۔

حماس نے واضح کیا ہے کہ اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم سب کے لیے یکساں ہونا چاہیے، کسی ایک کو خصوصیت فراہم کرنا خود ادارے کے اصولوں کی خلاف ورزی ہے۔

بیان میں مزید کہا گیا کہ اقوام متحدہ نے ایک جنگی مجرم کے والد کواپنے ہاں مدعو کیا تاہم گیارہ ہزار مظلومین کو نظرانداز کر کے فلسطینی عوام کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔

Click to comment

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Copyright © 2018 PLF Pakistan. Designed & Maintained By: Creative Hub Pakistan