اسلام آباد (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) فلسطینی ریاست کے صدر محمود عباس نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81ویں سالانہ اجلاس سے اپنے ویڈیو خطاب میں اسرائیل پر فلسطینی عوام کے خلاف ایسی پالیسیوں پر عمل کرنے کا الزام عائد کیا جو ان کے بقول فلسطینی قوم کے وجود اور مستقبل کے لیے خطرہ بن چکی ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ غزہ، مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں بگڑتی ہوئی صورتحال کے تدارک کے لیے فوری اقدامات کرے۔
اپنے خطاب کے آغاز میں محمود عباس نے کہا کہ یہ دوسرا مسلسل سال ہے جب فلسطینی وفد کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں شرکت کے لیے نیویارک آنے کے ویزے نہیں دیے گئے۔ انہوں نے اس فیصلے کو غیرقانونی اور تعزیری اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ فلسطینی قیادت بین الاقوامی قانون، عدم تشدد، دو ریاستی حل اور پرامن سیاسی و سفارتی جدوجہد کے لیے اپنے وعدوں پر قائم ہے۔
’نسل کشی اور آبادکاری‘
انہوں نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی تاریخ کے انتہائی خطرناک دور سے گزر رہے ہیں۔ عباس نے الزام لگایا کہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں ایک “نسل کش جنگ” کی شکل اختیار کر چکی ہیں جس کے نتیجے میں وسیع پیمانے پر ہلاکتیں، تباہی، بھوک، نقل مکانی اور انسانی بحران پیدا ہوا ہے۔ ان کے مطابق رہائشی علاقوں، پناہ گزین کیمپوں، تعلیمی اداروں، ہسپتالوں، مساجد اور گرجا گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔
مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم کے بارے میں انہوں نے کہا کہ اسرائیلی آبادکاری میں تیزی آ رہی ہے، فلسطینی علاقوں کو ٹکڑوں میں تقسیم کیا جا رہا ہے اور فلسطینیوں کو زمینوں پر قبضے، گھروں کی مسماری، چھاپوں اور آبادکاروں کے حملوں کا سامنا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ اقدامات دو ریاستی حل کے امکانات کو ختم کر رہے ہیں اور فلسطینیوں کی اپنی سرزمین پر موجودگی کے لیے خطرہ بن چکے ہیں۔
ہتھیاروں کی فراہمی اور خاموشی
صدر عباس نے عالمی رہنماؤں سے مخاطب ہو کر کہا کہ “ایک اور نکبہ” کو رونما نہ ہونے دیا جائے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ بعض ممالک اسرائیل کے اقدامات پر خاموش کیوں ہیں اور اسے ہتھیاروں کی فراہمی کیوں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان کے مطابق عالمی برادری کو فلسطینی عوام کے تحفظ، قبضے کے خاتمے اور بین الاقوامی قانونی اصولوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کے نفاذ کے لیے عملی اقدامات کرنا ہوں گے۔
انہوں نے ایسے بین الاقوامی اقدامات کا خیرمقدم کیا جن کا مقصد تنازع کے حل کی راہ ہموار کرنا ہے، جن میں ڈونلڈ ٹرمپ کا 20 نکاتی منصوبہ، سلامتی کونسل کی قرارداد 2803 اور اس کے دوسرے مرحلے کے نفاذ کا روڈ میپ شامل ہیں۔
تاہم ان کا کہنا تھا کہ ان اقدامات کے نتائج ابھی تک زمینی حقائق میں نظر نہیں آئے، اس لیے ان پر تیزی سے عملدرآمد ضروری ہے تاکہ غزہ اور مغربی کنارے کو فلسطینی ریاست کے تحت دوبارہ یکجا کیا جا سکے۔
فلسطینی اتھارٹی میں اصلاحات
فلسطینی صدر نے مسلم اور مسیحی مقدس مقامات پر حملوں، نیز فلسطینی پناہ گزینوں کے لیے اقوامِ متحدہ کے ادارے ’انروا‘ کے خلاف اقدامات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے رکن ممالک سے اپیل کی کہ وہ اس ادارے کے مالی اور سیاسی تعاون کو جاری رکھیں۔
عباس نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی نے شفافیت، احتساب، مالی نظم و نسق اور سماجی بہبود کے شعبوں میں اصلاحات نافذ کی ہیں اور جمہوری عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے رواں سال نومبر میں قانون ساز انتخابات منعقد کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
اقوام متحدہ کی مکمل رکنیت کا مطالبہ
انہوں نے اس عزم کا بھی اعادہ کیا کہ فلسطینی قیادت شہریوں پر حملوں، دہشت گردی، انتہا پسندی، نسل پرستی اور یہود دشمنی کی مخالفت کرتی ہے اور امن، مکالمے اور بقائے باہمی پر یقین رکھتی ہے۔ ان کے بقول فلسطینیوں کا ہدف ایک غیر مسلح، خودمختار اور آزاد فلسطینی ریاست کا قیام ہے جو اسرائیل کے ساتھ امن اور سلامتی کے ساتھ موجود ہو۔
خطاب کے اختتام پر عباس نے کہا کہ فلسطینی عوام اپنی سرزمین نہیں چھوڑیں گے اور نقل مکانی قبول نہیں کریں گے۔ انہوں نے مزید ممالک سے ریاستِ فلسطین کو تسلیم کرنے اور فلسطین کو اقوامِ متحدہ کی مکمل رکنیت دینے کا مطالبہ کیا۔