واشنگتن (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) امریکا نے فلسطینی صدر محمود عباس کو آئندہ ہفتے نیویارک میں ہونے والے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے داخلے کا ویزا جاری کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ فلسطینی ذرائع کے مطابق یہ مسلسل دوسرا سال ہے جب عباس کو جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے روک دیا گیا ہے۔ بی بی سی کے مطابق یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکا نے فلسطینی حکام کے خلاف ویزا پابندیوں میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔
واشنگٹن نے فلسطینی اتھارٹی (پی اے) اور فلسطین لبریشن آرگنائزیشن (پی ایل او) پر امن عمل سے متعلق وعدوں کی پاسداری نہ کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔امریکا نے گذشتہ سال بھی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے قبل تقریباً 80 فلسطینی حکام کے ویزے منسوخ یا مسترد کر دیے تھے۔
اس موقع پر فلسطینی صدر محمود عباس کے نمائندے نے امریکی اقدام کو بین الاقوامی قانون اور اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے منافی قرار دیا تھا۔
اقوامِ متحدہ کے ہیڈکوارٹرز معاہدے کے تحت امریکاپر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ رکن ممالک کے سفارت کاروں اور نمائندوں کو نیویارک میں اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کی اجازت دے۔ تاہم واشنگٹن کا مؤقف ہے کہ قومی سلامتی، انتہا پسندی اور خارجہ پالیسی سے متعلق وجوہات کی بنیاد پر ویزا دینے سے انکار کیا جا سکتا ہے۔گذشتہ سال فلسطینی محمود عباس نے جنرل اسمبلی کے اجلاس سے وڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا تھا۔
رواں سال بھی اقوامِ متحدہ کی 193 رکنی جنرل اسمبلی جمعرات کو اس بات پر ووٹنگ کرے گی کہ آیا انھیں وڈیو خطاب کی اجازت دی جائے یا نہیں۔فلسطینی ریاست کو اس وقت اقوامِ متحدہ کے تقریباً 75 فیصد رکن ممالک تسلیم کرتے ہیں، جن میں برطانیہ، فرانس، کینیڈا اور آسٹریلیا شامل ہیں۔ تاہم سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان میں امریکا واحد ملک ہے جس نے اب تک فلسطینی ریاست کو تسلیم نہیں کیا۔
یہ امریکی فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اقوامِ متحدہ غزہ میں انسانی صورتحال پر تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ ادارے کے مطابق گذشتہ اکتوبر میں جنگ بندی کے باوجود اسرائیلی فضائی حملے اور دیگر کارروائیاں جاری ہیں جن کے باعث جانی نقصان، املاک کی تباہی اور مزید نقل مکانی کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔