رام اللہ – (مرکزاطلاعات فلسطین فاؤنڈیشن) رام اللہ شہر سے جمعرات کی صبح فجر کے وقت صحافی علاء الريماوی کی گرفتاری کے بعد قابض اسرائیلی عقوبت خانوں میں قید صحافیوں کی تعداد بڑھ کر 39 ہو گئی ہے، ان میں خواتین صحافی بھی شامل ہیں۔ یہ گرفتاری فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنانے اور واقعات کی منتقلی اور مظالم کی دستاویزی ریکارڈنگ میں ان کے پیشہ وارانہ کام میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی مسلسل اور جاری پالیسی کے سائے میں عمل میں آئی ہے۔
کلب برائے اسیران نے اپنے جاری کردہ ایک بیان میں کہا ہے کہ اس وقت قید تمام صحافیوں کو غزہ پر قابض اسرائیل کی نسل کشی کی جنگ کے آغاز سے ہی گرفتار کیا گیا ہے، جبکہ ان میں سے 21 صحافی انتظامی حراست کے تحت قید ہیں، جن میں صحافی معاذ عمارنہ اور صبری جبرين بھی شامل ہیں، جن کے بارے میں قابض حکام نے چار ماہ کے لیے انتظامی حراست میں منتقل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
صحافیہ نقاء حامد کی گرفتاری میں توسیع
اسی سلسلے میں قابض حکام نے رام اللہ کی صحافیہ نقاء حامد جنہیں 15 ستمبر کو گرفتار کیا گیا تھا، کی حراست میں 23 تاریخ تک توسیع کر دی ہے۔
اس وقت قید خواتین صحافیوں کی تعداد پانچ ہو چکی ہے، جبکہ قابض حکام نے قیدی صحافیہ بشرى الطويل کو الدامون ہسپتال کے قریب والے قید خانے سے منتقل کرنے کے بعد الرملہ کے عقوبت خانے کے تنہائی خانے میں ڈال کر قید تنہائی میں رکھا ہوا ہے، اس دوران ان کی حراست کے حالات کے بارے میں کوئی معلومات دستیاب نہیں ہیں۔
گرفتاری، قید تنہائی اور بہیمانہ تشدد
کلب برائے اسیران نے واضح کیا کہ فلسطینی صحافیوں کو نشانہ بنانے کا یہ گھناؤنا سلسلہ صرف گرفتاری تک ہی محدود نہیں ہے، بلکہ انتظامی حراست، قیدِ تنہائی، بہیمانہ تشدد اور ایذارسانی تک پھیلا ہوا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں قید کے انتہائی سخت حالات میں رکھا جاتا ہے اور علاج کی سہولت سے محروم رکھا جاتا ہے، علاوہ ازیں انہیں اپنے صحافیانہ فرائض کی انجام دہی کے دوران بھی براہِ راست نشانہ بنایا جاتا ہے۔
کلب نے اس بات پر زور دیا کہ یہ پالیسیاں فلسطینی صحافیوں کی اپنے پیشہ ورانہ فرائض انجام دینے کی صلاحیت کو ختم کرنے کے درپے ہیں، اور حقائق کو بیان کرنے، مظالم کی دستاویزی ریکارڈنگ کرنے اور زمین پر رونما ہونے والے حالات کو دنیا کے سامنے لانے کی ان کی صلاحیت پر قدغن لگاتی ہیں۔
صحافیوں کے تحفظ کے لیے پرزور مطالبات
کلب برائے اسیران نے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فلسطینی صحافیوں کے تحفظ کے حوالے سے اپنی ذمہ داریوں کو اٹھائیں، بغیر کسی تعاقب یا گرفتاری کے انہیں اپنے صحافیانہ فرائض آزادانہ طور پر انجام دینے کے حق کی ضمانت دیں، اور ان کے خلاف انتظامی حراست، قیدِ تنہائی اور تشدد کی پالیسیوں کو روکنے کے لیے فوری عملی اقدامات کریں۔
قید صحافیوں کی تعداد میں یہ اضافہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب فلسطینی میڈیا کے شعبے سے وابستہ افراد پر پابندیاں اور ان کا تعاقب کا سلسلہ مسلسل جاری ہے، جو آزاد صحافت کی معلومات تک رسائی، واقعات اور مظالم کی دستاویزی ریکارڈنگ اور دنیا تک ان کی ترسیل کی صلاحیت کے بارے میں شدید ترین خدشات کو جنم دے رہا ہے۔
